اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2024-03-07

حضرت مسیح موعودؑ کی گھریلو زندگی

(1356)بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مراد خاتون صاحبہ اہلیہ ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ جب ہم کو مراد وملانی کے مکان میں رہتے ہوئے چند دن گزر گئے تو ہمسائیوں کی عورتیں گھر میں آنے جانے لگیں اور ان کو معلوم ہو اکہ بوبو جی کو لوگوںنے ڈرایا ہو اہے تو باوجود یکہ وہ بھی مخالفین میں سے تھیں مگر انہوں نے بتایا کہ مرزا صاحب میں کوئی بات خوف کرنے کی نہیں ہے۔ وہ تو بچپن سے ہی ہم جانتی ہیں بہت نیک پاک ہے نمازی پرہیز گار ہے۔
بوبوجی کو مخالفوں نے یہاں تک ڈرایا ہوا تھا کہ اگر تو جاتی ہے تو اپنی لڑکی کو ساتھ نہ لے جا۔ مرزا جادو گر ہے وہ اپنے مریدوں کو ایسا قابو کر لیتا ہے کہ وہ اسکی خاطر اپنی عزتوں کی بھی پروا نہیں کرتےلیکن جب بوبوجی کا ڈر ہمسائیوں کے ملنے اور قادیان میں دو تین ہفتہ تک رہنے سے کچھ کم ہو اتو ان کو حضرت صاحب کے گھر جانے کی جرأت ہوگئی ۔ایک دن وہ چند ہمسائییوں کو لے کر دل کڑا کر کے حضرت اقدسؑ کے گھر گئیں ۔حضرت اقدسؑ کو دیکھ کر انہوں نے پہچان لیا کہ یہ تو وہی بزرگ ہے جس کو انہوں نے پہلے دن کشف میں دیکھا تھا۔
(1357)بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔مراد خاتون صاحبہ اہلیہ محترمہ ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ’’دوسرے دن بوبو جی مجھے ساتھ لے کر گئیں ۔تو پہلے قدرت اللہ خان کی بیوی سے ملے۔ اونچے دالان کے سامنے تخت پوش پر جہاں ڈاکٹرنی اور اُمّ حبیبہ بیٹھی ہوئی تھیں ہمیں بٹھا دیا اور ہم سے پتہ معلوم کر کے حضرت اقدسؑ کو اطلاع دی کہ مہمان عورتیں آئی ہیں ۔ حضرت اقدس ؑ اور اُم المومنین تشریف لے آئے۔بوبوجی نے پردہ کیا ۔ ڈاکٹر نی نے کہا کہ اللہ کے نبی سے پردہ نہیں کرنا چاہئے۔ مگر انہوں نے کہا کہ مجھے شرم بھی آتی ہے اور پردہ کا رواج بھی ہمارے گھر میں زیادہ ہے۔ حضرت کے دریافت کرنے پر جب حضورؑ کو معلوم ہو اکہ یہ ڈاکٹر فیض علی صاحب کی والدہ ہیں تو آپؑنے فرمایا کہ کہاں ٹھہرے ہواور کب سے آئے ہو؟ والدہ نے عرض کیا کہ پندرہ دن ہوئے ہیں ۔ہم مراد وملانی کے مکان میں رہتے ہیں۔ آپ نے فرمایا ’’ کھانے کا کیا انتظام ہے؟‘‘ بوبو جی نے کہا کہ خود پکالیتے ہیں ۔فرمایا کہ’’ا فسوس کی بات ہے کہ ہمارے مہمان ہو کر خود کھانا پکائیں۔ آپ کو معلوم نہیں کہ قادیان میں جو مہمان آتا ہے وہ ہمارا ہی مہمان ہو تا ہے ۔ آپ کو ڈاکٹر فیض علی نے نہیں بتایا ؟‘‘ بوبوجی نے کہا ہم پانچ چھ آدمی ہیں۔ حضور علیہ السلام کو تکلیف دینا منا سب نہ تھا۔ آپ نے فرمایا کہ ہمارا حکم ہے کہ ہمارے مہمان ہمارے گھر سے ہی کھانا کھائیں۔ فرمایا کہ’’دادی کہاں ہیں ؟‘‘ دادی نے کہا ’’حضور جی! میں کولے کھڑی آں۔‘‘ فرمایا ’’ان کے ساتھ جاکر گھر دیکھ لو اور دونوں وقت کھانا پہنچا آیا کرو اور پوچھ لیا کرو کہ کوئی تکلیف تو نہیںہے ۔‘‘ میرے متعلق پوچھا کہ ’’ کیا یہ فیض علی کی لڑکی ہے ؟‘‘ بوبوجی نے بتایا کہ یہ میری لڑکی ہے ۔ فیض علی کی تو ابھی شادی بھی نہیں ہوئی۔ پوچھا ’’عمر کیا ہے؟‘‘ بوبوجی نے بتایاچودہ سال۔اس وقت دادی اور فجو ہمیں گھر چھوڑنے آئیں۔کھانا لنگر سے آنے لگا۔لنگر ابھی گھر میں ہی تھا۔وہ جلسہ سالانہ کے ایام تھے۔ مہمانوں کا کھانا زردہ ،پلاؤ وغیرہ بھی گھر ہی پکتا تھا۔حضرت اُم المومنین صاحبہ کھانا خود تقسیم فرماتی تھیں ۔ چند یوم کے بعد بوبوجی اور میں نے بیعت کر لی ۔ بیعت مغرب کے بعد اونچے دالان کے ساتھ والے چھوٹے کمرے میں کی تھی۔ اس میں کھوری بچھا کر اوپر ٹاٹ کے ٹکڑے بچھائے ہوئے تھے اوردونوں طرف لکڑی کے دو صندوق تھے ایک پر موم بتی جل رہی تھی اور حضور علیہ السلام کچھ تحریر فرما رہے تھے ۔جگہ تنگ تھی۔ ہم ددنوں دروازہ میں بیٹھ گئیں حضور علیہ السلام نے بیعت لی اور دعا فرمائی ۔
(1358)بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔مراد خاتون صاحبہ اہلیہ محترمہ ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ جب ہم بیعت کر کے امرتسر واپس چلے گئے ۔ میری عمر اس وقت پندرہ سال کی تھی۔ ایک سال کے بعد میرے بڑے بھائی علی اظفر صاحب مرحوم نے افریقہ سے حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کی خدمت میں تحریر کیا کہ ’’میری بہن کے رشتہ کا حضور ؑ کو اختیار ہے ، حضورؑ اس کے ولی ہیں ،جہاں حضورؑ کی منشاء ہو ،رشتہ کر دیں۔ ‘‘ اور اسی مفہوم کا ایک خط بھائی فیض علی صاحب صابر کو بھی لکھ دیا۔پھر حضور علیہ السلام نے بھائی صاحب کو تحریر فرمایا کہ ’’آپ کے بڑے بھائی نے ہمیں ہی لڑکی کا سربراہ بنادیا ہے ،ان کاخط آیا ہے۔ ہم ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب کو پسند کرتے ہیں ۔ ان کو دیکھ لو اور چاہو تو ان سے اپنی ہمشیرہ کا نکاح کر دو۔ مگر بہتر ہو کہ پہلے ان کو اپنی ہمشیرہ دکھا بھی دو۔‘‘
(1359)بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔مراد خاتون صاحبہ اہلیہ محترمہ ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم ومغفور نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ڈاکٹر خلیفہ صاحب مرحوم ومغفور فرماتے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجھے ڈاکٹر فیض علی صاحب کی طرف ایک تحریر دی جس میں رشتہ کا لکھا تھا۔آپ رقعہ لے کرامرتسر گئے۔امرتسر میں آپ کو حضرت نانا جان میر ناصر نواب صاحب رحمۃ اللہ علیہ مل گئے ۔آپؓنے دریافت فرمایاکہ ’’کیسے آئے ہو؟‘‘ ڈاکٹر صاحب نے بتایا تو حضرت نانا جانؓ نے کہا کہ ’’لاؤ رقعہ مجھے دو تم تو بڑے بھولے ہو۔کوئی اپنے رشتہ کا پیغام خود بھی لے جاتا ہے ؟ ہم خود پیغام لے کر جائیں گے ۔‘‘ اس پر ڈاکٹر صاحب مرحوم وہ رقعہ حضرت میرصاحبؓ کے سپرد کر کے خود لاہور چلے گئے ۔
(1360)بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر فیض علی صاحب نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ میری ہمشیرہ کے رشتہ کا رقعہ حضرت اقدس علیہ السلام نے خود خلیفہ صاحب کو دیا تھا چونکہ پہلے مجھ سے ان کا تعارف نہ تھا۔ یوں بھی شرمندگی سے وہ خود میرے پاس نہیں آئے اور حضرت میر صاحب نانا جانؓ کو بھیج کر خود لاہور چلے گئے تھے ۔ میں دوسرے دن یہ ہدایت نامہ لے کر پہلے ڈاکٹر رحمت علی صاحبؓکے پاس چھاؤنی میاں میر (لاہور) میں گیا۔ڈاکٹر صاحب رقعہ دیکھ کر بہت خوش بھی ہوئے ہونگے۔ فرمایاحضرت اقدس ؑ کاحکم سر آنکھوں پر ہے ۔ پھر میں آگے لاہور حویلی پتھراں والی ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب کے پا س چلا گیا ۔میں نے ان سے کہا کہ ’’دیکھنا ہے تو چل کر دیکھ لو۔مگر سیرت جو نہایت ضروری ہے اسے کس طرح دیکھ کر معلوم کروگے(میں نے کچھ ایسا ہی کہا تھا) مگر شاید وہ خود جا کر دیکھنے میں بھی شرمساری محسوس کرتے ہونگے۔ واللہ اعلم۔
انہوں نے کہا کہ میں نے صورت وسیرت کے متعلق سن لیا ہے اور تمہارے چھوٹے بھائیو ں کو بھی جو قادیان میں پڑھتے ہیں دیکھا ہے اور مجھے ہر طرح سے تشفی ہے۔ اس وقت تجویز یہ ہوئی کہ غالباً کل یا پرسوں قادیان پہنچ جاویں اور نکاح ہوجاوے۔چنانچہ میں اور ڈاکٹر صاحب وقت پر قادیان میں پہنچ گئے ۔ جب نکاح پڑھا جارہاتھا تو یہ دریافت کرنے پر کہ مہر کیا مقرر ہو اہے میں نے کہہ دیاجس نے یہ نکاح پڑھوایا ہے مہر کا بھی اسکو علم ہو گا اس پر حضرت اقدس فِدَاہُ اُمِّیْ وَاَبِیْ نے مبلغ 200/-روپے حق مہر مقرر فرمادیا۔یہ نکاح بفضلہ تعالیٰ بہت مبارک ہو ا۔خد ا کی باتیں خدا ہی جانے ۔شاید یہ میری اس نیک نیتی کا ثمر تھا کہ میں اپنی بہن کو محض نیک ہونے کی وجہ سے ڈاکٹر رحمت علی صاحب رضی اللہ عنہ کے خواہ مخواہ گلے مڑھنا چاہتا تھا جس نے اسکے ایک دوسال بعد ہی لڑائی میں شہید ہوجانا تھا۔اللہ کریم نے مجھے ایک اور نیک نفس اور ایسا متقی انسان دے دیا جو بہر صورت نعم البدل تھا۔
معلوم ہوتا ہے کہ پہلی مرتبہ حضرت صاحب نے اس وقت مجھے کہا تھا جبکہ حضورؑ کو مولوی محمد علی صاحب اور ڈاکٹر محمداسماعیل صاحب کیلئے رشتوں کی ضرورت تھی۔اس وقت فرمایا تھا کہ ’’ تم اپنے بھائیوں سے بھی مشورہ کرلو۔‘‘ بھائی میرے افریقہ میں تھے ۔ان سے مشورہ کرتے ہوئے ایک دو مہینے ڈاک کے لگ جاتے مگر اس مرتبہ ویسا نہیں فرمایا ۔گویا یہ ایک تقدیر مبرم تھی ۔اَلْحَمْدُ للّٰہِ عَلٰی ذٰلِک
(1361)بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔مراد خاتون صاحبہ اہلیہ محترمہ ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ (صاحبزادہ مبارک احمد مرحوم کی وفات کے بعد ) حضور مسیح موعود علیہ السلام فِدَاہُ اُمِّی وَاَبِیْ اس جگہ جہاں ام ناصراحمد سلمہا کا آنگن ہے چارپائی پر بیٹھے یا لیٹے ہوئے تھے ۔حضرت ام المومنین پاس ہوتی تھیں ۔حضرت ؑ اس طرح خوشی ہنسی باتیں کرتے تھے گویا کوئی واقعہ رنج اور افسوس کا ہوا ہی نہیں۔ عورتیں تعزیت کے واسطے آتیں تو حضور علیہ السلام کو اس حال میں راضی دیکھ کر کسی کو رونے کی جرأت نہ ہوتی اور حیران رہ جاتیں ۔
(1362)بسم اللہ الرحمن الرحیم۔برکت بی بی صاحبہ اہلیہ حکیم مولوی رحیم بخش صاحب مرحوم ساکنہ تلونڈی نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ میں حضور علیہ السلام کو وضو کرانے لگی ۔عصر یا ظہر کا وقت تھا۔ میری لڑکی نے مجھے کہا کہ اماں ! یہ امام مہدی ہیں؟ میں نے کہا ہاں اس پر حضور ؑنے دریافت فرمایا کہ ’’یہ لڑکی کیا کہتی ہے ؟‘‘ میں نے عرض کیا کہ حضورؑ ! یہ لڑکی پوچھتی ہے کہ امام مہدی یہی ہیں ؟ حضور علیہ السلام نے ہنس کر فرمایا کہ ’’ہاں ! میں امام مہدی ہوں ۔‘‘
حضور ؑ نے حکم دیا کہ انکے واسطے گوشت منگواؤ۔ حضرت خلیفہ اول ؓ کی بیوی صاحبہ نے مجھے کہا کہ تم بہت خوش قسمت ہو۔حضورؑ کی خاص توجہ تمہارے حال پر ہے۔
(1363)بسم اللہ الرحمن الرحیم۔برکت بی بی صاحبہ اہلیہ حکیم مولوی رحیم بخش صاحب مرحوم ساکن تلونڈی نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ’’میرے خاوند رضی اللہ عنہ نے حضور علیہ السلام کی خدمت میں لکھا کہ میری بیوی بیمار ہے اسکے رحم میں درد رہتا ہے ۔حضرت اقدسؑ نے دریافت فرمایا تو میں نے عرض کیا کہ ’’ہاں‘‘ حضورؑ نے فرمایا ’’اچھا میں علاج کروں گا۔‘‘ اسکے بعد ہم واپس چلے گئے ۔جب آٹھ دن کے بعد میں پھر آئی تو گلابی کمرہ کے آگے کھڑی ہوئی تھی کہ حضور علیہ السلام تشریف لائے ۔میں نے السلام علیکم کہا حضور ؑ نے فرمایا ’’وعلیکم السلام ‘‘ اور نہایت محبت اور شفقت سے فرمایا: ’’ برکت آگئی ہے ؟‘‘ اماں جان نے فرمایا :اپنے علاج کے واسطے آئی ہے ۔حضورؑ نے فرمایا ’’نہیں وہ دین کی محبت رکھتی ہے ۔‘‘
(1364)بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مائی رکھی ککے زئی فیض اللہ چک والدہ نذیر نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دن حضورؑ نے مجھ سے دریافت فرمایا کہ ’’ تم اپنے ہمسائیوں کو جانتی ہو؟‘‘ میں نے کہا ’ خوب واقف ہوں۔ مغل مرزا محمد علی مرحوم تھے ۔ہمارا بہت آنا جانا تھا۔فرمایا کہ محمد علی بیمار ہے میں دوا بنا دیتا ہوں اس کو پہنچا دو۔رستہ میں گرا تو نہیں دو گی؟ میں نے کہا ’جی میں سیانی بیانی رستہ میں بھلا گرا دو ں گی؟‘‘ پھر دوا شیشی میں ڈال دی اور نشان لگا دئیے اور فرمایا کہ ’’ جا کرکیا کہو گی ؟‘‘ میں نے کہا کہ میں کہوں گی کہ مسیح موعود ؑ نے بھیجی ہے۔ پھر پوچھا ’’ مائی تابی تیری کیا لگتی ہے ؟‘‘ میں نے عرض کیا کہ میری خالہ لگتی ہے ۔دریافت فرمایا کہ ’’ سگی خالہ؟‘‘ میں نے عرض کیا کہ میری ماں کی خالہ زاد بہن۔ پھر میں دوا دینے چلی گئی ۔پھر ایک دن آئی تو پوچھا کہ ’’ گابو تیری کیا لگتی ہے ؟‘‘ میں نے کہا کہ بھاوج ہے۔ آپؑہی نے تو شادی کروائی تھی۔ اسکی ماںرشتہ دینے سے انکار کرتی تھی حضور ؑ نے پھر رشتہ کروادیا تھا۔
مائی تابی کی نواسی (برکت) کو حضور ؑ نے مودی خانہ کی چابی دی اور اس کی ذمہ داری لگا دی کہ وہی چیزیں نکال کر دیا کرے ۔
(1365)بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔مراد خاتون صاحبہ اہلیہ محترمہ ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ جب میرے خاوند مرحوم ومغفور ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحبؓ کے گھٹنوں میں درد تھا وہ چھ ماہ کی رخصت لے کر قادیان آئے تھے ۔درد بھی تھا لیکن یوں بھی ان کو کمال رغبت اس بات کی تھی کہ جہاں تک ہوسکے حضورؑ کے قدموں سے لگے رہیں ۔جب ہم آئے تو میری والدہ قادیان کے پرلے سرے پر ریتی چھلہ کی طرف ملاوامل کے مکان میں رہتی تھیں ۔ ڈاکٹر صاحب نے حضورؑ سے اجازت طلب کی کہ چھوٹے بچوں کا ساتھ بھی ہے ۔اس وقت عزیزہ رضیہ بیگم سلمہا 3 سال کی تھیں اور سیدہ رشیدہ مرحومہ ایک سال دو ماہ کی ہوگئی تھی۔ان کی والدہ اپنی ماں کے پاس رہنا چاہتی ہیں۔ہمیں اجازت عطا فرمائی جاوے حضور ؑ نے فرمایا ’’نہیں تم میرے پاس ہی رہو تمہاری خوشدامن بھی تمہارے پاس آجاویںگی ۔‘‘چنانچہ اسی وقت مائی فجو کو بھیج کر انہیں بلا دیا۔
(سیرۃ المہدی ، جلد2،حصہ چہارم ،مطبوعہ قادیان 2008)
…٭…٭…٭…