اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2026-06-25

تذکار مہدی سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سیرت طیبہ کےمتعلق حضرت مصلح موعود ؓ کی روایات مرتبہ مکرم حبیب الرحمٰن زیروی صاحب

جنگ مقدس لنگڑے لولے اور اندھے
حضرت خلیفہ اول فرماتے تھے کہ آتھم کے مباحثہ میں ہم نے جو نظارہ دیکھا۔اس سےپہلے تو ہماری عقلیں دنگ ہو گئیں اور پھر ہمارے ایمان آسمانوں پر پہنچ گئے۔فرماتے تھے کہ جب عیسائی مباحثہ سے تنگ آ گئے اور انہوں نے دیکھا کہ ہمارا کوئی داؤ نہیں چلا تو چندمسلمانوں کو اپنے ساتھ ملا کر انہوں نے ہنسی اڑانے کے لئے یہ شرارت کی کہ کچھ اندھے کچھ بہرے کچھ لولے اور کچھ لنگڑے بلا لیے۔اور انہیں مباحثہ سے پہلے ایک طرف چھپا کر بٹھا دیا۔جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تشریف لائے تو جھٹ انہوں نے اندھوں بہروں اورلولوں لنگڑوں کو نکال کر آپ کے سامنے پیش کر دیا اور کہا زبانی باتوں سے جھگڑے طے نہیںہوتے۔آپ کہتے ہیں میں مسیح ناصری کا مثیل ہوں اور مسیح ناصری اندھوں کو آنکھیں دیا کرتےتھے۔بہروں کو کان بخشا کرتے تھے اور لولوں لنگڑوں کے ہاتھ پاؤں درست کیا کرتے تھے۔ہم نے آپ کو تکلیف سے بچانے کے لئے اس وقت چنداندھے بہرے اور لولے لنگڑے اکٹھےکر دیئے ہیں۔اگر آپ فی الواقع مثیل مسیح ہیں۔تو ان کو اچھا کر کے دکھا دیجئے۔حضرت خلیفہ اول فرماتے تھے کہ ہم لوگوں کے دل ان کی اس بات کو سن کر بیٹھ گئے۔اور گو ہم سمجھتے تھے کہ یہ بات یونہی ہے مگر اس سے گھبرا گئے کہ آج ان لوگوں کو ہنسی ٹھٹھے کا موقعہ مل جائے گا۔مگر جب ہم نےحضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے چہرہ کو دیکھا تو آپ کے چہرے پر ناپسندیدگی یاگھبراہٹ کے کوئی آثار نہ تھے۔جب وہ بات ختم کر چکے تو آپ نے فرمایا کہ دیکھئے پادری صاحب میں جس مسیح کے مثیل ہونے کا دعوی کرتا ہوں۔اسلامی تعلیم کے مطابق وہ اس قسم کے اندھوں،بہروں اور لولوں لنگڑوں کو اچھا نہیں کیا کرتا تھا۔مگر آپ کا یہ عقیدہ ہے کہ مسیح جسمانی اندھوں جسمانی بہروں جسمانی لولوں اور جسمانی لنگڑوں کو اچھا کیا کرتا تھا اور آپ کی کتاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ اگر تم میں ایک رائی برابر بھی ایمان ہو اور تم کسی پہاڑ سے کہو کہ یہاں سےوہاں چلا جائے تو وہ چلا جائے گا۔اور اگر تم بیماروں پر ہاتھ رکھو گے تو وہ اچھے ہو جائیں گے۔پس یہ سوال مجھ سے نہیں ہو سکتا میں تو وہ معجزے دکھا سکتا ہوں۔جو میرے آقا حضرت محمد مصطفے ﷺ نےدکھائے۔آپ ان معجزوں کا مطالبہ کریں تو میں دکھانے کے لئے تیار ہوں۔
باقی رہے اس قسم کے معجزے سو آپ کی کتاب نے بتا دیا ہے کہ ہر وہ عیسائی جس کے اندرایک رائی کے برابر بھی ایمان ہو۔ویسے ہی معجزے دکھا سکتا ہے جیسے حضرت مسیح ناصری نےدکھائے۔سو آپ نے بڑی اچھی بات کی جو ہمیں تکلیف سے بچالیا۔اور ان اندھوں بہروںلولوں اور لنگڑوں کو اکٹھا کر دیا۔اب یہ اندھے بہرے لولے اور لنگڑے موجود ہیں۔اگر آپ میں ایک رائی کے برابر بھی ایمان موجود ہے تو ان کو اچھا کر کے دکھا دیجئے۔آپ فرماتے تھےاس جواب سے پادریوں کو ایسی حیرت ہوئی کہ بڑے بڑے پادری ان لولوں اور لنگڑوںکو کھینچ کھینچ کر الگ کرنے لگے تو اللہ تعالیٰ اپنے مقربین کو ہر موقع پر عزت بخشتا ہے اور ان کو ایسےایسے جواب سمجھاتا ہے جن کے نتیجہ میں دشمن بالکل ہکا بکا رہ جاتا ہے۔
( تفسیر کبیر جلد ہفتم صفحہ 88-89)
آتھم کی پیشگوئی
مومن کا کام اللہ تعالیٰ پر توکل کرنا ہوتا ہے۔کام تو خدا تعالیٰ کرتا ہے لیکن ہمارا فرض یہ ہے کہ ہم وہی کچھ کریں، ہم وہی کچھ سوچیں ، اور ہم وہی کچھ کہیں جو خدا تعالیٰ نے کہا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آتھم کے متعلق پیشگوئی فرمائی اور پیشگوئی کی معیاد گزرگئی میں اس وقت چھ سات سال کی عمر کا تھا۔مجھے وہ نظارہ خوب یاد ہے۔جس جگہ قادیان میںبک ڈپو ہوا کرتا تھا اور اس کے ساتھ والے کمرے میں موٹر ہوا کرتے تھے اور اس کے مغرب والے کمرے میں خلیفہ اول ؓپہلے درس دیا کرتے تھے یا مطب کیا کرتے تھے۔آخری ایام میں مولوی قطب الدین صاحب مرحوم وہاں مطب کرتے رہے ہیں۔اس کے ساتھ پھر ایک کو ٹھڑی تھی جس میں کتابیں رکھی ہوئی تھیں اور جس کمرے میں اب موٹر ہوتے تھے اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا پریس تھا اور اس کمرے میں جہاں حضرت خلیفہ المسیح الاول مطب فرمایا کرتے تھے۔فرمہ بندی ہو جاتی تھی اور پھر کوٹھڑی میں کتا بیں رکھ دی جاتی تھیں۔
حضرت خلیفتہ المسیح اول کے بعض شاگر د بھی وہاں رہا کرتے تھے اور چونکہ ان دنوں بہت کم لوگ ہوا کرتے تھے اس لئے عام طور پر جو لوگ وہاں آتے تھے۔حضرت خلیفہ المسیح اول کے شاگردبن جاتے تھے یہی مدرسہ تھا اور حضرت خلیفہ اول ہی پڑھایا کرتے تھے۔اس کے علاوہ اور کوئی مدرسہ نہیں تھا۔وہ لوگ آپ کے شاگر د بھی ہوتے تھے اور سلسلہ کے خادم بھی ہوتے تھے۔مجھےخوب یاد ہے کہ میں چھوٹا سا تھا کہ جب آتھم کی پیشگوئی کا وقت پورا ہوا۔غالباً یہ 1894ء کےآخریا 1895ء کے شروع کی بات ہے۔میں اس وقت ساڑھے پانچ یا چھ سال کا تھا۔ابھی تک وہ نظارہ مجھے یاد ہے۔اس وقت تو میں اسے نہیں سمجھتا تھا کیونکہ میری عمر بہت چھوٹی تھی۔لیکن اب واقعات سے میں سمجھتا ہوں کہ جس دن آتھم کی پیشگوئی کے پوری ہونے کا آخری دن تھا۔یعنی پندرہ مہینے ختم ہونے تھے۔اس دن اتنا کہرام مچا ہوا تھا کہ لوگ رو رو کر چیخیں مار رہے تھے اوردعا کرتے تھے کہ خدایا! آتھم مر جائے۔یہ عصر کے بعد اور مغرب سے پہلے کی بات ہے۔پھرنماز کا وقت ہوا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے نماز پڑھائی اور نماز کے بعد آپ مجلس میں بیٹھ گئے گو اس عمر میں میں باقاعدہ مجلس میں حاضر نہیں ہوتا تھا۔لیکن کبھی کبھی مجلس میں بیٹھ جاتا تھا۔اس دن میں بھی مجلس میں بیٹھ گیا۔اس دن جو لوگ رو رو کر دعائیں کرتے رہے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان کے فعل پر ناراضگی کا اظہار کیا اور فرمایا کیا خدا تعالی ٰسے بھی بڑھ کر کسی انسان کو اس کے کلام کے لئے غیرت ہو سکتی ہے۔خدا تعالیٰ نے جب یہ بات کہی ہے کہ ایسا ہوگا تو پھر ہمیں ایمان رکھنا چاہئے کہ ایسا ضرور ہوگا اور اگر ہم نے خدا تعالیٰ کی بات کو غلط سمجھا ہے تو خدا تعالیٰ اس بات کا پابند نہیں ہوسکتا کہ وہ ہماری غلطی کے مطابق فیصلہ کرے۔ہمارا کام صرف اتنا ہے کہ جب ہم نے ایک شخص کو راستباز مان لیا ہے تو اس کی باتوںپر یقین رکھیں۔غرض مومن کا کام یہ ہے کہ وہ خدا تعالیٰ پر توکل کرے۔خدا تعالی کی بات بہر حال پوری ہو کر رہتی ہے۔
(خطبات محمود جلد 30 صفحہ 110-109 )
(تذکار مہدی صفحہ 187 تا189، ایڈیشن 2020 یوکے)