آتھم کی پیشگوئی اور پیر صاحب چاچڑاں شریف:
اُمت مسلمہ میں مجددین کی جو فہرست حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دکھانے کے بعد شائع ہوئی ہے۔ان میں سے کتنے ہیں جنہوں نے دعوی کیا ہو۔میں نے خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے سنا ہے کہ مجھے تو اورنگزیب بھی اپنے زمانے کا مجد د نظر آتا ہے۔مگر کیا اس نے کوئی دعویٰ کیاعمر بن عبد العزیز کو مجدد کہا جاتا ہے۔کیا ان کا کوئی دعویٰ ہے۔پس غیر مامور کے لئے دعویٰ ضروری نہیں۔دعوئی صرف مامورین کے متعلق پیشگوئیوں میں ضروری ہے۔غیر مامور کےصرف کام کو دیکھنا چاہئے۔اگر کام پورا ہوتا نظر آجائے تو پھر اس کے دعوی کی کیا ضرورت ہے؟اس صورت میں تو وہ انکار بھی کرتا جائے۔تو ہم کہیں گے کہ وہی اس پیشگوئی کا مصداق ہے۔اگر عمر بن عبد العزیز مجدد ہونے سے انکار بھی کرتے۔تو ہم کہہ سکتے تھے کہ وہ اپنے زمانے کےمجدد ہیں کیونکہ مجدد کے لئے کسی دعویٰ کی ضرورت نہیں۔دعویٰ صرف ان مجددین کے لئےضروری ہے جو مامور ہوں۔ہاں جو غیر مامور اپنے زمانہ میں گرتے ہوئے اسلام کو کھڑاکرے دشمن کے حملوں کو توڑ دے۔اسے چاہے پتہ بھی نہ ہو ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ مجدد ہے۔ہاں مامور مجدد وہی ہو سکتا ہے۔جو دعویٰ کرے جیسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کیا۔پس میری طرف سے مصلح موعود ہونے کے دعوی کی کوئی ضرورت نہیں اور مخالفوں کی ایسی باتوںسے گھبراہٹ کی بھی ضرورت نہیں۔اس میں کوئی ہتک کی بات نہیں۔اصل عزت وہی ہوتی ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ملتی ہے۔چاہے دنیا کی نظروں میں انسان ذلیل سمجھا جائے۔اگر وہ خدا تعالیٰ کے رستہ پر چلے تو اس کی درگاہ میں وہ ضرور معزز ہو گا اور اگرکوئی شخص جھوٹ سے کام لے کر اپنے غلط دعوی کو بھی ثابت کر دے اور اپنی چستی یا چالاکی سےلوگوں میں غلبہ بھی حاصل کر لے۔تو خدا تعالیٰ کی درگاہ میں وہ عزت حاصل نہیں کر سکتا اور جسےخدا تعالیٰ کے دربار میں عزت حاصل نہیں وہ خواہ ظاہری لحاظ سے کتنا معزز کیوں نہ سمجھا جائے۔اس نے کچھ کھویا ہی ہے حاصل نہیں کیا اور آخر ایک دن وہ ذلیل ہوکر رہے گا۔پس دینی و دنیوی کاموں میں ہمیشہ سچ کو اختیار کرو۔۔۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں جب آتٓھم کی پیشگوئی پر مخالفوں نےشور مچایا کہ وہ پوری نہیں ہوئی تو ایک دن نواب صاحب بہاولپور کے دربار میں بھی جو اغلباًموجودہ نواب صاحب کے دادا تھے اس موضوع پر باتیں ہونے لگیں اور تمسخر اڑایا جانے لگا کہ پیشگوئی پوری
نہیں ہوئی۔نواب صاحب کے پیر حضرت غلام فرید صاحب چاچڑاں والے بھی تشریف فرما تھے۔وہ خاموش بیٹھے رہے مگر کچھ عرصہ بعد نواب صاحب بھی اس گفتگو میں دخل دینے لگے تو وہ جوش میں آگئے اور فرمانے لگے کہ تم لوگوںکو شرم نہیں آتی کہ ایک عیسائی کی تائیداور مسلمان کے خلاف باتیں کرتے ہو۔تم لوگ کہتے ہو کہ آتھم زندہ ہے یہ بالکل غلط ہے۔وہ مر چکا ہے اور مجھے تو وہ مردہ ہی نظر آتا ہے۔پس جب کوئی شخص سچ کے لئے کھڑا ہو تو ہر شریف انسان اس کی عزت کرے گا۔اگر کمینے اس کی عزت کو نہ پہچا نے تو یہ کوئی حرج کی بات نہیں۔پس کبھی کسی دشمن کے اعتراض سے ڈر کر حق نہ چھپاؤ۔
(الفضل 23 مارچ 1940ء جلد 28 نمبر 67 صفحہ 7)
ٹونے ٹوٹکے کرنا جائز نہیں:
میں جہاں جماعت کو قربانیوں کی طرف توجہ دلاتا ہوں وہاں ذمہ دار کارکنوں اورصدر انجمن کو بھی توجہ دلاتا ہوں کیونکہ ان پر بھی بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور وہ بھی اسیطرح ان طالب علموں کے خون میں شریک ہے جس طرح جامعہ کے پروفیسر اور اساتذہ اسمیں شریک ہیں۔صدر انجمن محض ریزولیوشنز پاس کر دینے کا نام نہیں ، نہ صدر انجمن اس امر کانام ہے کہ کسی صیغہ کے لئے افسر مقرر کر کے اسے نگرانی کے بغیر چھوڑ دیا جائے۔صدر انجمن کافرض ہے کہ وہ طالب علموں کے ذہنوں ، ان کی اُمنگوں اور ان کے ارادوں میں وسعت پیدا کردے، ان کے اندر ایک بیداری اور زندگی کی روح پیدا کرے، ان کے خیالات میں وسعت پیداکرے اور اگر مدرس مفید مطلب کام کرنے والے نہ ہوں تو صدر انجمن کا فرض ہے کہ انہیںنکال کر باہر کرے۔ہم نے طالب علموں کا خالی اخلاص کیا کرنا ہے اس کے ساتھ کچھ عقل اور سمجھ بھی تو چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہمیشہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے متعلق فرمایا کرتے تھے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ میں تفقہ کا مادہ دوسرے صحابہ سے کم تھا۔مولویوں نے اس پر شور مچایا مگر جو صحیح بات ہو وہ صحیح ہی ہوتی ہے۔آج کل جس قدر عیسائیوں کومفید مطلب احادیث ملتی ہیں ، وہ سب حضرت ابو ہریرہ سے ہی مروی ہیں۔اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ سیاق و سباق کو نہ دیکھتے اور گفتگو کے بعض ٹکڑے بغیر پوری طرح سمجھے آگے بیان کر دیتے مگرباقی صحابہ سیاق وسباق کو سمجھ کر روایت کرتے۔اسی طرح اب حضر ت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلا م کے متعلق روایتیں چھپنی شروع ہوئی ہیں جن میں سے کئی ایسے لوگوں کی طرف سے بیان کی جاتی
ہیں جنہیں تفقہ حاصل نہیں ہوتا اور اس وجہ سے ایسی روایتیں چھپ جاتی ہیں۔جن پر لوگ ہمارے سامنے اعتراض کرنا شروع کر دیتے ہیں۔چنانچہ ایک دفعہ روایت چُھپ گئی تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جب آتھم کی میعاد میں سے صرف ایک دن باقی رہ گیاتو بعض لوگوں سے کہا کہ وہ اتنے چنوں پر اتنی بار فلاں سورۃ کا وظیفہ پڑھ کر آپ کے پاس لائیں۔ جب وہ وظیفہ پڑھ کر چنے آپ کے پاس لائے تو آپ انہیں قادیان سے باہر لے گئےاور ایک غیر آباد کنوئیں میں پھینک کر جلدی سے منہ پھیر کر واپس لوٹ آئے۔میرے سامنےجب اس کے متعلق اعتراض پیش ہوا تو میں نے روایت درج کرنے والوں سے پوچھا کہ یہ روایت آپ نے کیوں درج کر دی۔یہ تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صریح عمل کے خلاف ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی نعُوذُ بِاللہ ِٹونے وغیرہ کیا کرتے تھے۔اس پر جب تحقیقات کی گئی تو معلوم ہوا کہ کسی شخص نے ایسا خواب دیکھا تھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سامنے جب اس خواب کا ذکر ہوا تو آپنے فرمایا اسے ظاہری شکل میں ہی پورا کر دواب خواب کو پورا کرنے کے لئے ایک کام کرنا بالکل اور بات ہے اور ارادۃً ایسا فعل کرنا اور بات۔اور ظاہر میں خواب کو بعض دفعہ اس لئے پورا کر دیاجاتا ہے کہ تا اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو اس کا مضر پہلو اپنے حقیقی معنوں میں ظاہر نہ ہو۔چنانچہ معبرین نے لکھا ہے کہ اگر منذر خواب کو ظاہری طور پر پورا کر دیا جائے تو وہ وقوع میں نہیں آتی اور خدا تعالیٰ اس کے ظاہر میں پورے ہو جانے کو ہی کافی سمجھ لیتا ہے۔اس کی مثال بھی ہمیںاحادیث سے نظر آتی ہے۔چنانچہ رسول کریم ﷺ نے دیکھا کہ سراقہ بن مالک کے ہاتھوںمیں کسری کے سونے کے کنگن ہیں۔اس رویا میں اگر ایک طرف اس امر کی طرف اشارہ تھا کہ ایران فتح ہو گا تو دوسری طرف یہ بھی اشارہ تھا کہ ایران کی فتح کے بعد ایرانیوں کی طرف سےبعض مصائب و مشکلات کا آنا بھی مقدر ہے کیونکہ خواب میں اگر سونا دیکھا جائے تو اس کے معنی غم اور مصیبت کے ہوتے ہیں۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول کریم ﷺ کے رویا کے اس مفہوم کو سمجھا اور سراقہ کو بلا کر کہا کہ پہن کڑے ، ورنہ میں تجھے کوڑے ماروں گا۔چنانچہ اسےسونے کے کڑے پہنائے گئے اور اس طرح حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول کریم کی اس رؤیا کے غم اور فکر کے پہلو کو دور کرنا چاہا۔ مگر ظاہری صورت میں خواب کو پورا کر دینے کے باوجودپھر بھی خواب کا کچھ حصہ حقیقی معنوں میں پورا ہو گیا۔
(خطبات محمود جلد 16 صفحہ 40 تا42)
(تذکار مہدی صفحہ 184 تا 187، ایڈیشن 2020، یوکے)
ززز