اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2026-05-28

تذکار مہدی سیدنا حضرت مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام کی سیرت طیبہ سے متعلق حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی روایات مرتبہ مکرم حبیب الرحمٰن زیروی صاحب

جیسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر جب کرم دین بھینی والا مقدمہ ہوا تو مجسٹریٹ ہندو تھا۔ آریوں نے اسے ورغلایا او رکہا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ضرور کچھ سزا دے اور اس نے ایسا کرنے کا وعدہ بھی کرلیا۔ خواجہ کمال الدین صاحب نے یہ بات سنی تو وہ ڈر گئے ۔ وہ کہنے لگے حضور بڑے فکر کی بات ہے آریوں نے مجسٹریٹ سے کچھ نہ کچھ سزا دینے کا وعدہ لے لیا ہے آپ کسی طرح قادیان تشریف لے چلیں گورداسپور میں مزید عرصہ نہ ٹھہریں اگر آپ گورداسپور میں ٹھہرے تو مجسٹریٹ نے کل آپ کو کوئی نہ کوئی سزا ضرور دے دینی ہے۔ حضرت صاحب نے فرمایا خواجہ صاحب اگر میں قادیان چلا جاؤں تو وہاں سے بھی مجھے پکڑا جاسکتا ہے پھر میں کہاں جاؤں مجسٹریٹ کو اختیارات حاصل ہیں اگر قادیان گیا تو وہاں بھی وارنٹ آسکتے ہیں اور وہاں سے کسی دوسری جگہ گیا تو وہ بھی محفوظ جگہ نہ ہوگی وہاں بھی وارنٹ جاری کئے جاسکتے ہیں پھر میں کہاں کہاں بھاگتا پھروں گا۔ خواجہ صاحب کہنے لگے حضور آریوں نے مجسٹریٹ سے کچھ نہ کچھ سزا دینے کا وعدہ لے لیا ہے۔ اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام لیٹے ہوئے تھے۔ آپ اُٹھ کر بیٹھ گئے اور فرمایا خواجہ صاحب آپ کیوں پریشان ہوگئے ہیں خداتعالیٰ کے شیر پر کون ہاتھ ڈال سکتا ہے۔ چنانچہ یہی ہوا۔ دو مجسٹریٹ تھے جن کی عدالت میں مقدمہ پیش ہوا۔ ان دونوں کو بڑی سخت سزا ملی۔ ان میں سے ایک تو معطل ہوا اورایک کا بیٹا پاگل ہوگیا او رچھت پر سے چھلانگ مار کر مرگیا ۔ پھر اس پر یہ اثر تھا میں دلّی جاررہا تھا کہ وہ لدھیانہ کے اسٹیشن پر مجھے ملا اور کہنے لگا۔ دعا کریں میرا ایک اور بیٹا ہے خداتعالیٰ اسے بچالے مجھ سے بہت غلطیاں ہوئیں ہیں۔ غرض حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وہ بات پوری ہوئی کہ خداتعالیٰ کے شیر پر کون ہاتھ ڈال سکتا ہے اور آریوں کو ان کے مقصد میں کامیابی نہ ہوئی۔ پس اگر انسان اللہ تعالیٰ کا ہوجائے تو پھر دنیا کی ہر شے اس کی ہوجاتی ہے جیسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے الہاماً فرمایا کہ ’’جے تو میرا ہورہیں سب جگ تیرا ہو‘‘۔ یعنی اگر تو خدا تعالیٰ کا ہوجائے تو سب جہاں تیرا ہوجائے گا دنیا کی کوئی چیز تمہیں ضرّر نہیں پہنچا سکے گی اور کوئی دشمن تمہارے خلاف کوئی شرارت نہیں کرسکے گا پس تم اللہ تعالیٰ کے بنو اور دعا کرتے رہو کہ تم اللہ تعالیٰ کے ہوجاؤ اور اس طرح تم بھی امن میں آجاؤ اور تمہاری اولاد اور دوسرے عزیز اور دوست بھی امن میں آجائیں۔ یاد رکھو جب تک جماعت امن میں نہیں رہے گی تم بھی امن میں نہیں رہ سکتے اور جماعت اسی وقت امن میں رہ سکتی ہے جب تمہاری آئندہ نسل امن میں ہو۔
(الفضل 30؍ مارچ 1957ء جلد 46/11 نمبر 77 صفحہ 5 تا 7)
میرے آقا کو گالیاں دیتا ہے اور مجھے سلام کرتا ہے
میں اس کے متعلق بعض واقعات سناتا ہوں، پنڈت لیکھرام آریوں کے ایک مشہور مبلغ تھے۔ ان سےاسلام کے متعلق حضرت مرزا صاحبؑکی خط و کتابت ہوتی رہی۔ چونکہ ان کی طبیعت میں سختی تھی اس لئے انہوں نے رسول کریم ﷺ کے متعلق سخت اور ناشائستہ الفاظ استعمال کئے جیسا کہ ان کی کتاب ’’کلیات آریہ مسافر‘‘ سے ظاہر ہے۔ حضرت مرزا صاحب کو جو دلائل کا جواب دلائل سے دینے میں کبھی نہ تھکنے والے تھے۔ ایسے الفاظ سن کر بہت تکلیف ہوئی۔
ایک دفعہ جب لاہور گئے تو پنڈت لیکھرام ملنے کے لئے آئے اور سامنے آکر سلام کیا۔ آپ نے ادھر سے منہ پھیر لیا۔ پھر وہ دوسری طرف آئے لیکن آپ نے توجہ نہ کی۔ اس پر سمجھا گیا کہ شاید آپ کو معلوم نہیں یہ کون ہے اور بتایا گیا کہ یہ پنڈت لیکھرام ہیں اور آپ کو سلام کہتے ہیں۔ آپ نے فرمایا اسے شرم نہیں آتی میرے آقا ؐ کو تو گالیاں دیتا ہے اور مجھے سلام کرتا ہے۔ پنڈت لیکھرام کی جو عزت آریوں میں تھی اس کی وجہ سے بڑے بڑے لوگ ان سے ملنا اپنی عزت سمجھتے تھے لیکن حضرت مرزا صاحب کی غیرت دیکھئے پنڈت صاحب خود ملنے کے لئے آتے ہیں مگر آپ فرماتے ہیں پہلے میرے آقا کو گالیاں دینا چھوڑ دے تب میں ملوں گا۔
اسی طرح ایک اورواقعہ ہے۔ حضرت مرزا صاحب کا سلوک اپنی اولاد سے ایسا اعلیٰ درجہ کا تھا کہ قطعاً خیال نہیں کیا جاسکتا تھا کہ آپ کبھی ناراض بھی ہوسکتے ہیں۔ ہم جب چھوٹے ہوتے تھے تو یہ سمجھا کرتے تھے کہ حضرت صاحب کبھی غصے ہوتے ہی نہیں۔ میرے بچپن کے زمانہ کا ایک واقعہ ہے مولوی عبدالکریم صاحبؓجو اسی جگہ کے ایک عالم تھے اور جنہیں پرانے لوگ جانتے ہوں گے وہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت مرزا صاحب نے ایک دفعہ مجھے کہا میرے پسلی میں درد ہے جہاں ٹکور کی گئی لیکن آرام نہ ہوا۔ آخر دیکھا گیا تو معلوم ہوا کہ آپ کی جیب میں اینٹ کا ایک روڑا پڑا تھا جس کی وجہ سے پسلی میں درد ہوگیا۔ پوچھا گیا کہ حضور یہ کس طرح آپ کی جیب میں پڑ گیا۔ فرمایا محمود نے مجھے یہ اینٹ کا ٹکڑا دیا تھا کہ سنبھال کررکھنا میں نے جیب میں ڈال لیا کہ جب مانگے گا نکال دوں گا۔ مولوی صاحب نے کہا حضور مجھے دے دیجئے میں رکھ چھوڑوں۔ فرمایا نہیں میں اپنے پاس ہی رکھوں گا۔ تو آپ کی اولاد سے ایسی محبت تھی۔ آپ ہم سب سے ہی بہت پیار اور محبت کرتے تھے لیکن خاص کر ہمارے سب سے چھوٹے بھائی سے آپ کو ایسی محبت تھی کہ ہم سمجھتے تھے سب سے زیادہ اسی سے محبت کرتے
ہیں۔ ایک دن میں جب باہر سے آیا تو دیکھا کہ چھوٹے بھائی کے جسم پر ہاتھ کی پانچوں انگلیوں کے نشان پڑے ہوئے تھے۔ دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ بچپن کی ناسمجھی سے اس کے منہ سے کوئی ایسی بات نکل گئی تھی جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کے خلاف تھی۔ اس پر حضرت صاحب نے اس زور سے اسے مارا کہ اس کے بدن پر نشان پڑ گئے۔ حضرت مرزا صاحب کی زندگی کا یہ نہایت ہی چھوٹا اورمعمولی واقعہ ہے لیکن اس کو سامنے رکھ کر اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ آج کل مسلمانوں کے دلوں میں اسلام کی کس قدر عزت ہے۔ اکثر لوگ ایسے دیکھے جاتے ہیں جو مخالفین کے لیکچروں میں جاتے اوررسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق خوشی سے گالیاں سنتے ہیں۔ بعض جوش میں آکر آگے سے گالیاں دینا شروع کردیتے ہیں۔ مگر یہ بھی درست نہیں اور اکثر بیٹھے سنتے رہتے ہیں۔ لاہور میں آریوں کا ایک جلسہ ہوا جس میں شامل ہونے کی دعوت حضرت مرزا صاحب کو بھی دی گئی اور بانیان جلسہ نے اقرار کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کوئی برا لفظ استعمال نہیں کیا جائے گا لیکن جلسہ میں سخت گالیاں دی گئیں۔ ہماری جماعت کے کچھ لوگ بھی وہاں گئے تھے جن میں حضرت مولوی نورالدین صاحبؓبھی تھے جن کی حضرت مرزا صاحب خاص عزت کیا کرتے تھے جب آپ نے سنا کہ جلسہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دی گئی ہیں تو مولوی صاحب کو کہا وہاں بیٹھا رہنا آپ کی غیرت نے کس طرح گوارہ کیا کیوں نہ آپ اٹھ کر چلے آئے؟ اس وقت آپ ایسے جوش میں تھے کہ خیال ہوتا تھا کہ مولوی صاحب سے بالکل ناراض ہوجائیں گے۔ مولوی صاحب نے کہا حضور غلطی ہوگئی۔ آپ نے فرمایا یہ کیا غلطی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دی جائیں اور آپ وہاں بیٹھے رہیں۔
غرض ایسے بیسیوں واقعات ہیں جن سے ثابت ہے کہ حضرت مرزا صاحب کی ساری زندگی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت اور توقیر کے لئے وقف تھی۔
(تقریر سیالکوٹ۔ انوار العلوم جلد 5 صفحہ 115 تا 113)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خانہ تلاشی:
ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی تلاشی کا واقعہ سنارہے تھے۔ یہ تلاشی پنڈت لیکھرام کے واقعہ قتل کے سلسلہ میں سپرنٹنڈنٹ پولیس گورداسپور نے لی تھی۔ آپ نے فرمایا سپرنٹنڈنٹ پولیس ایک چھوٹے دروازہ میں سے گزرنے لگا تو اس کے سر کو سخت چوٹ آئی اور سر چکرا گیا۔ ہم نے اسے دودھ پینے کو کہا لیکن اس نے انکار کیا کہ اس وقت میں تلاشی کے لئے آیا ہوں اور یہ میرے فرض منصبی کے مخالف ہوگا۔ اس پر یہی صاحب جو اب بولے ہیں جھٹ بولے۔ حضور اس کے سر میں خون بھی نکلا تھا یا نہیں حضرت صاحب نے ہنستے ہوئے فرمایا میں نے اس کی ٹوپی اتار کر نہیں دیکھی تھی۔
(خطبات محمود جلد نمبر 13 صفحہ 110)
پیشگوئی عبداللہ آتھم اور خواجہ غلام فرید چاچڑاں شریف:
ڈپٹی عبداللہ آتھم کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو انذاری پیشگوئی فرمائی تھی۔ جب اُس کی میعاد گذر گئی اور آتھم نہ مرا تو ظاہر بین لوگوں نے شور مچانا شروع کردیا کہ مرزا صاحب کی پیشگوئی جھوٹی نکلی۔ ایک دفعہ نواب صاحب بہاولپور کے دربار میں بھی بعض لوگوں نے ہنسی اڑانی شروع کردی کہ مرزا صاحب کی پیشگوئی پوری نہیں ہوئی اور آتھم ابھی تک زندہ ہے۔ اُس وقت دربار میں خواجہ غلام فرید صاحب چاچڑاں والے بھی بیٹھے ہوئے تھے جن کے نواب صاحب مرید تھے۔ باتوں باتوں میں نواب صاحب کہ مونہہ سے بھی یہ فقرہ نکل گیا کہ ہاں! مرزا صاحب کی پیشگوئی پوری نہیں ہوئی۔ اس پر خواجہ غلام فرید صاحب جوش میں آگئے اور انہوں نے بڑے جلال سے فرمایا کہ کون کہتا ہے آتھم زندہ ہے مجھے تو اس کی لاش نظر آرہی ہے۔ اِس پر نواب صاحب خاموش ہوگئے تو بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو بظاہر زندہ معلوم ہوتے ہیں لیکن حقیقتاً مردہ ہوتے ہیں اور بعض مردہ نظر آتے ہیں لیکن حقیقتاً زندہ ہوتے ہیں۔ جو لوگ خدا کی راہ میں جان دیتے ہیں وہ درحقیقت زندہ ہوتے ہیں اور جو لوگ زندہ ہوتے ہیں اُن میں سے ہزاروں روحانی نگاہ رکھنے والوں کو مردہ دکھائی دیتے ہیں۔ کسی بزرگ کے متعلق لکھا ہے کہ وہ قبرستان میں رہتے تھے۔ ایک دفعہ کسی نے اُن سے کہا کہ آپ زندوں کو چھوڑ کر قبرستان میں کیوں آگئے ہیں۔ انہوں نے کہا مجھے تو شہر میں سب مردے ہی مردے نظر آتے ہیں اور یہاں مجھے زندہ لوگ دکھائی دیتے ہیں۔ پس رُوحانی مردوں اور رُوحانی زندوں کو پہچاننا ہر ایک کا کام نہیں۔ مگر اس جگہ اللہ تعالیٰ نے ایک ظاہری علامت ایسی بتادی ہے جس سے رُوحانی مردوں اور زندوں کو پہنچاننے میں بڑی حد تک آسانی ہوجاتی ہے۔ (تفسیر کبیر جلد دوم صفحہ 292)
(تذکار مہدی صفحہ 180 تا 184، ایڈیشن 2020، یوکے)
ززز