اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2026-05-14

تذکار مہدی سیدنا حضرت مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام کی سیرت طیبہ سے متعلق حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی روایات

کپتان ڈگلس اور مولوی محمد حسین بٹالوی کی گواہی
پھر اس پر ہی بس نہیں سر ڈگلس کو خدا تعالیٰ نے اور نشانات بھی دکھائے جو مرتے دم تک انہیں یاد رہے اور انہوں نے خود مجھ سے بھی بیان کئے۔ 1924ء میں جب میں انگلینڈ گیا تو انہوں نے یہ سارا قصہ مجھ سے بیان کیا۔ سر ڈگلس کے ایک ہیڈ کلرک تھے جن کا نام غلام حیدر تھا وہ راولپنڈی کے رہنے والے تھے بعد میں وہ تحصیلدار ہوگئے تھے معلوم نہیں وہ اب زندہ ہیں یا نہیں اور زندہ ہیں تو کہاں ہیں پہلے وہ سرگودھا میں ہوتے تھے انہوں نے خود مجھے یہ قصہ سنایا اور کہا جب ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک والا مقدمہ ہوا تو میں ڈپٹی کمشنر صاحب گورداسپور کا ہیڈ کلرک تھا۔ جب عدالت ختم ہوئی تو ڈپٹی کمشنر صاحب نے کہا ہم فوراً گورداسپور جانا چاہتے ہیں تم ابھی جا کر ہمارے لئے ریل کے کمرہ کا انتظام کرو چنانچہ میں مناسب انتظامات کرنے کے لئے ریلوے اسٹیشن پر آگیا۔ میں اسٹیشن سے باہر نکل کر برآمدہ میں کھڑا تھا تو میں نے دیکھا کہ سر ڈگلس سڑک پر ٹہل رہے ہیں وہ کبھی ادھر جاتے ہیں اور کبھی ادھر۔ ان کا چہرہ پریشان ہے۔ میں ان کے پاس گیا اور کہا صاحب آپ باہر پھر رہے ہیں میں نے ویٹنگ روم میں کرسیاں بچھائی ہوئی ہیں آپ وہاں تشریف رکھیں۔ وہ کہنے لگے منشی صاحب آپ مجھے کچھ نہ کہیں میری طبیعت خراب ہے۔ میں نے کہا کچھ بتائیں تو سہی آخر آپ کی طبیعت کیوں خراب ہوگئی ہے تا کہ اس کا مناسب علاج کیا جاسکے۔ اس پر وہ کہنے لگے جب سے میں نے مرزا صاحب کی شکل دیکھی ہے اس وقت سے مجھے یوں نظر آتا ہے کہ کوئی فرشتہ مرزا صاحب کی طرف ہاتھ کرکے مجھ سے کہہ رہا ہے کہ مرزا صاحب گنہگار نہیں ان کا کوئی قصور نہیں۔ پھر میں نے عدالت کو ختم کردیا اور یہاں آیا تو اب ٹہلتا ٹہلتا جب اس کنارے کی طرف نکل جاتا ہوں تو وہاں مجھے مرزا صاحب کی شکل نظر آتی ہے اور وہ کہتے ہیں میں نے یہ کام نہیں کیا یہ سب جھوٹ ہے پھر میں دوسری طرف جاتا ہوں تو وہاں بھی مرزا صاحب کھڑے نظر آتے ہیں او روہ کہتے ہیں یہ سب جھوٹ ہے میں نے یہ کام نہیں کیا۔ اگر میری یہی حالت رہی تو میں پاگل ہوجاؤں گا۔ میں نے کہا صاحب آپ چل کر ویٹنگ روم میں بیٹھئے۔ سپرنٹنڈنٹ پولیس بھی آئے ہوئے ہیں وہ بھی انگریز ہیں ان کو
بلالیتے ہیں شاید ان کی باتیں سن کر آپ تسلی پاجائیں۔ سپرنٹنڈنٹ صاحب پولیس کا نام لیمار چنڈ تھا۔ سرڈگلس نے کہا انہیں بلوالو۔ چنانچہ میں انہیں بلالایا۔ جب وہ آئے تو سرڈگلس نے ان سے کہا دیکھو یہ حالات ہیں میری جنون کی سی حالت ہورہی ہے میں اسٹیشن پر ٹہلتا ہوں اور گھبرا کر اس طرف جاتا ہوں تو وہاں کنارے پر مرزا صاحب کھڑے نظر آتے ہیں اور ان کی شکل مجھے کہتی ہے کہ میں بے گناہ ہوں مجھ پر جھوٹا مقدمہ کیا گیا ہے پھر دوسری طرف جاتا ہوں تو وہاں کنارے پر مجھے مرزا صاحب کی شکل نظر آتی ہے اور وہ کہتی ہے کہ میں بے گناہ ہوں یہ سب کچھ جھوٹ ہے جو کیا جارہا ہے ۔ میری یہ حالت پاگلوں کی سی ہے اگر تم اس سلسلہ میں کچھ کرسکتے ہو تو کرو ورنہ میں پاگل ہوجاؤں گا۔ لیمارچنڈ نے کہا اس میں کسی اور کا قصور نہیں آپ کا اپنا قصور ہے آپ نے گواہ کو پادریوں کے حوالہ کیا ہوا ہے۔ وہ لوگ جو کچھ اسے سکھاتے ہیں وہ عدالت میں آکر بیان کردیتا ہے آپ اسے پولیس کے حوالہ کریں اورپھر دیکھیں کہ وہ کیا بیان دیتا ہے۔ چنانچہ اسی وقت سرڈگلس نے کاغذ قلم منگوایا اور حکم دے دیا کہ عبدالحمید کو پولیس کے حوالہ کیا جائے اور حکم کے مطابق عبدالحمید کو پادریوں سے لے لیا گیا اور پولیس کے حوالہ کردیا گیا۔ دوسرے دن یا اسی دن اس نے فوراً اقرار کرلیا کہ میں جھوٹ بولتا رہا ہوں۔ لیمار چنڈ کا بیان ہے کہ میں نے اسے سچ سچ بیان دینے کے لئے کہا تو اس نے پہلے تو اصرار کیا کہ واقعہ بالکل سچا ہے۔ مرزا صاحب نے مجھے ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک کے قتل کرنے کے لئے بھیجا تھا لیکن میں نے سمجھ لیا کہ یہ شخص پادریوں سے ڈرتا ہے چنانچہ میں نے کہا۔ میں نے ڈپٹی کمشنر صاحب سے حکم لے لیا ہے کہ اب تمہیں پادریوں کے پاس نہیں جانے دیا جائے گا اب تم پولیس کی حوالات میں ہی رہوگے تو وہ میرے پاؤں پر گر گیا اور کہنے لگا۔ صاحب مجھے بچالو میں اب تک جھوٹ بولتا رہا ہوں اس نے مجھے بتایا کہ صاحب آپ دیکھتے نہیں تھے کہ جب میں گواہی کے لئے عدالت میں پیش ہوتا تھا تو میں ہمیشہ ہاتھ کی طرف دیکھتا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ جب پادریوں نے مجھے کہا کہ جاؤ اور عدالت میں بیان دو کہ مجھے مرزا صاحب نے ہنری مارٹن کلارک کے قتل کے لئے بھیجا تھا اور امرتسر میں مجھے فلاں مستری کے گھر میں جانے کے لئے ہدایت دی تھی
(یہ دوست مستری قطب الدین صاحب تھے جن کا ایک پوتا اس وقت جامعہ احمدیہ میں پڑھتا ہے) تو میں نے کہا میں تو وہاں کے احمدیوں کو جانتا بھی نہیں مجھے اس کا نام یاد نہیں رہے گا (اس پر مستری صاحب کا نام کوئلہ کے ساتھ میری ہتھیلی پر لکھ دیتے تھے جب میں گواہی دینے آتا تھا اور ڈپٹی کمشنر صاحب مجھ سے دریافت کرتے تھے کہ تمہیں امرتسر میں کسی کے گھر بھیجا گیا تھا تو میں ہاتھ اٹھاتا تھا اور اس پر سے نام دیکھ کر کہہ دیتا تھا کہ مرزا صاحب نے مجھے فلاں احمدی کے پاس بھیجا تھا۔ غرض اس نے ساری باتیں بتادیں اور سر ڈگلس نے اگلی پیشی پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو بری کردیا۔
تو دیکھو یہ سب واقعات ہمارے لئے آیات بینات ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے سر ڈگلس کے لئے اور آیات بینات بھی پیدا کیں۔ ایک آیت بینہ یہ تھی کہ انہیں ٹہلتے ٹہلتے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصویر نظر آتی تھی اور وہ تصویر کہتی تھی کہ میں بے گناہ ہوں میرا کوئی قصور نہیں پھر انہوں نے خود مجھے سنایا کہ ایک دن میں گھر میں بیٹھا ہوا تھا اور ایک ہندوستانی آئی سی ایس آیا ہو اتھا اس نے مجھ سے دریافت کیا کہ آپ اپنی زندگی کے عجیب حالات میں سے کوئی ایک واقعہ بتائیں تو میں نے اسے یہی مرزا صاحب والا واقعہ سنایا میں یہ واقعہ سنا رہا تھا کہ بہرے نے ایک کارڈ لاکر دیا اور کہا باہر ایک آدمی کھڑا ہے جو آپ سے ملنا چاہتا ہے۔ میں نے کہا اس کو اندر بلالو جب وہ شخص اندر آیا تو میں نے کہا نوجوان میں آپ کو جانتا نہیں آپ کون ہیں۔ اس نوجوان نے کہا آپ میرے والد کو جانتے ہیں آپ ان کے واقف ہیں ان کا نام پادری وارث دین تھا۔ میں نے کہا ہاں میں ابھی ان کا ذکر کررہا تھا۔ وہ نوجوان کہنے لگا ابھی تار آئی ہے کہ وہ فوت ہوگئے ہیں۔ وارث دین ایک پادری تھا جس نے ڈاکٹر مارٹن کلارک کو خوش کرنے کے لئے اس کی طرف سے یہ ساری کارروائی کی تھی مگر خداتعالیٰ نے ڈپٹی کمشنر صاحب پر حق کھول دیا اور خود جو گواہ تھا اس نے بھی اقرار کرلیا کہ جو کچھ کیا جارہا ہے یہ سب جھوٹ ہے۔ مگر عین اس وقت جب سر ڈگلس وارث دین کا ذکر کررہے تھے اس کے بیٹے کا وہاں آنا اور اپنے والد کی وفات کی خبر دینا عجیب اتفاق تھا۔ سر
ڈگلس اپنی موت تک جس احمدی کو بھی ملتے رہے، اسے یہ واقعہ بتاتے رہے۔ انہوں نے مجھے بھی یہ واقعہ سنایا۔ چوہدری فتح محمد صاحب اور چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب کو بھی یہ واقعہ سنایا۔ 1924ء میں جب میں وہاں گیا تھا تو ان کی صحت اچھی تھی۔ یہ 32 سال قبل کی بات ہے۔ اب وہ 93 سال کی عمر میں فوت ہوئے ہیں۔ اس لحاظ میں 1924ء میں ان کی عمر 61 سال تھی۔ اس دفعہ جب میں انگلینڈ گیا تو میں نے انہیں بلایا تو انہوں نے معذرت کردی اور کہا میں اب بڈھا ہوگیا ہوں او ربہت کمزور ہوں۔ اب میرے لئے چلنا پھرنا مشکل ہے۔ اب سنا ہے کہ وہ فوت ہوگئے ہیں تو مجھے افسوس ہوا کہ موٹر ہمارے پاس تھی ہم موٹر میں ہی انہیں منگوا لیتے یا ان کے گھر چلے جاتے تو یہ آیات بینات ہیں جن کے ذریعہ اللہ تعالیٰ دنیا میں اپنے انبیاء کی سچائی ظاہر کرتا رہتا ہے۔ مومن کو چاہئے کہ وہ سچے معنوں میں مومن بننے کی کوشش کرے ۔ اگر وہ حقیقی مومن بنے تو اللہ تعالیٰ ضرور غیب سے ایسے حالات پیدا کرتا ہے جس سے اس کا ایمان تازہ ہوتا رہتا ہے اور درحقیقت ایسے ایمان کے بغیر کوئی مزہ بھی نہیں جس ایمان نے آنکھیں نہ کھولیں اور انسان کو اندھیرے میں رکھا اس کا کیا فائدہ۔ جو اس جہاں میں اندھا رہے گا وہ دوسرے جہاں میں بھی اندھا رہے گا اور جسے اس جہان میں آیات بینات نظر نہیں آتیں اس کو اگلے جہان میں بھی آیات بینات نظر نہیں آئیں گی۔ اس دنیا میں آیات بینات نظر آئیں تو دوسری دنیا میں بھی آیات بینات نظر آتی ہیں۔ پس مومن کو ہمیشہ دعاؤں اور ذکر الٰہی میں لگے رہنا چاہئے کہ وہ دن اسے نصیب ہو جب اللہ تعالیٰ اسلام اور اپنے ذات کی سچائی اس کے لئے کھول دے اور اس کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا منور چہرہ اورخداتعالیٰ کا نورانی چہرہ نظر آجائے۔ جب یہ ہوجائے تو پھر رات اور دن اور سال تکلیف کے سال ہوں یا خوشی کے سال ہوں اس کے لئے برابر ہو جاتے ہیں اور چاہے کچھ بھی ہو ایسا آدمی ہمیشہ خوش رہتا ہے اور مطمئن رہتا ہے۔ وہ کسی سے ڈرتا نہیں۔
(تذکار مہدی صفحہ 176 تا 180، ایڈیشن 2020، یوکے)
ززز