اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2026-04-16

تذکار مہدی سیدنا حضرت مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام کی سیرت طیبہ سے متعلق حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی روایات مرتبہ مکرم حبیب الرحمٰن زیروی صاحب

اللہ تعالیٰ دلوںکا حاکم ہے
جب مخالف دیکھتا ہے کہ یہ لوگ شفقت و محبت سے پیش آتے ہیں تو آخر وہ شرمندہ ہو جاتے ہیں۔ پس اگر حقیقی فتح چاہتے ہو تو یہ طریق اختیار کرو اس کے بعد خواہ کوئی حاکم بھی ہو دراصل تمہارا محکوم ہوگا کیونکہ جب اللہ تعالیٰ دلوں کو بدل دیتا ہے تو حاکم بھی غلاموں کی طرح ہو جاتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر جب قتل کا مقدمہ ہوا تو وہی انگریز ڈپٹی کمشنر جس نے ایک دفعہ کہاتھا کہ اس مدعی مسیحیت کو ابھی تک سزا کیوں نہیں دی گئی، اپنے پاس کرسی بچھا کر آپ کو بٹھاتا، اور ان کے دفتر کے سپرنٹنڈنٹ کا بیان ہے کہ وہ بٹالہ کے اسٹیشن پر ایک دفعہ گھبرا کر ٹہل رہا تھا اور جب میں نے اس سے پوچھا کہ آپ اتنے پریشان کیوں ہیں تو وہ کہنے لگا اس مقدمہ کا مجھ پر اتنا گہرا اثر ہے کہ میں جدھر جاتا ہوں، سوائے مرزا صاحب کے مجھے کوئی اور نظر نہیں آتا اور مرزا صاحب مجھے یہ کہتے دکھائی دیتے ہیں کہ میں مجرم نہیں۔ میری سمجھ میں نہیں آتا مقدمہ اس کے خلاف ہے، بیانات ان کے مخالف ہیں او رمجھ پر جو واقعہ گزر رہا ہے اس نے مجھے اس قدر پریشان کر رکھا اور اتنا اثر ڈالا ہوا ہے کہ میں ڈرتا ہوں، کہیں پاگل نہ ہوجاؤں۔ آج تک وہ انگریز ڈپٹی کمشنر اس واقعہ کا ذکر کرتا ہے اور ہمارے دوستوں کو جو انگلستان میں مبلغ رہ چکے ہیں اس نے بتایا کہ جب مجھ سے کوئی شخص پوچھتا ہے کہ ہندوستان کی سروس میں کوئی سب سے عجیب واقعہ سناؤ تو میں مرزا صاحب کے مقدمے کا واقعہ ہی بیان کیا کرتا ہوں۔ غرض اللہ تعالیٰ جب قلوب کو پھیر دیتا ہے تو یہی فتح حقیقی فتح کہلاتی ہے پس دلوں کو فتح کرنے کی کوشش کرو اور چاہے لوگ سختی سے پیش آئیں، ان سے ایسی محبت اور پیار کا سلوک کرو کہ آخر وہ اس کے نتیجہ میں ہماری جماعت میں شامل ہوجائیں۔
(خطبات محمود جلد 15 صفحہ 89-90)
مقدمہ مارٹن کلارک اور محمد حسین بٹالوی کی ذلت
حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہم کو اسلام دیا اخلاق فاضلہ دیئے اور نمونہ سے بتادیا کہ ان پرعمل ہوسکتا ہے۔ پہلے خیال تھا کہ ان چیزوں پرعمل محال ہے مگر آپ نے بتادیا کہ عمل ہو سکتا ہے پھر بھی کئی ہیں جو فائدہ نہیں اٹھاتے۔ ہم میں سے کئی ہیں جو جوش میں آکر مخالف کو گالیاں دینے لگ جاتے ہیں مگر آپ پر قتل کا ایک جھوٹا مقدمہ بنایا گیا۔ اس وقت اس ضلع کے ڈپٹی کمشنر کیپٹن ڈگلس تھے جو اس وقت بھی زندہ ہیں اور اب کرنل ڈگلس ہیں وہ اس قدر متعصب تھے کہ جب اس ضلع میں آئے تو کہا کہ اس ضلع کے رہنے والا ایک شخص مسیح ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اب تک کیوں اسے
سزا نہیں دی گئی؟ ان کی عدالت میں یہ مقدمہ پیش ہوا ایک انگریز کہلانے والے شخص نے جو انگریز مشہور تھا مگر دراصل انگریز نہیں بلکہ پٹھان تھا۔ یہ مقدمہ کیا تھا۔ اس کے انگریز کہلانے کی وجہ یہ تھی کہ پٹھان ہونے کے سبب سے اس کا رنگ انگریزوں کی طرح گورا تھا اور پھر ایک انگریز نے اسے بیٹا بنایا ہوا تھا اس لئے لوگ اسے انگریز سمجھتے تھے۔ اس کا نام مارٹن کلارک تھا۔ ان کا بیٹا یا بھائی ابی سینیا کی سابق حکومت میں وزیر اعظم تھا۔ آپ میں سے کئی ایک نے اخباروں میں پڑھا ہوگا کہ مسٹر مارٹن نے یہ کہا، یہ مارٹن اس مارٹن کلارک کا بیٹا ہے یا بھائی ہے، رشتہ کی تعین مَیں اس وقت نہیں کرسکتا۔
ان مسٹر مارٹن کلارک نے عدالت میں یہ دعویٰ کیا کہ میرے قتل کیلئے مرزا صاحب نے ایک آدمی بھیجا ہے۔ مسلمانوں میں علماء کہلانے والے بھی اس کے ساتھ اس شور میں شامل ہو گئے۔ چنانچہ مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب تو اس مقدمہ میں آپ کے خلاف شہادت دینے کیلئے بھی آئے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے قبل از وقت بتادیا تھا کہ ایک مولوی مقابل پر پیش ہوگا مگر اللہ تعالیٰ اسے ذلیل کریگا لیکن باوجود اس کے کہ الہام میں اس کی ذلت کے متعلق بتا دیا گیا تھا اور الہام کے پورا کرنے کیلئے ظاہری طور پر جائز کوشش کرنا ضروری ہوتا ہے مگر مجھے خود مولوی فضل الدین صاحب نے جو لاہور کے ایک وکیل اور اس مقدمہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف سے پیروی کررہے تھے سنایا کہ جب میں نے ایک سوال کرنا چاہا جس سے مولوی محمدحسین صاحب کی ذلت ہوتی تھی تو آپؑنے مجھے اس سوال کے پیش کرنے سے منع کردیا۔ اصل بات یہ ہے کہ مولوی محمد حسین کی والدہ کنچنی تھی اور مقدمات میں گواہوں پر ایسے سوالات کئے جاتے ہیں کہ جن سے ظاہر ہو کہ وہ بے حیثیت آدمی ہے۔ مولوی فضل دین صاحب نے جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو وہ سوالات سنائے جو وہ مولوی محمد حسین پر کرنا چاہتے تھے تو ان میں ایک سوال یہ بھی تھا کہ تمہاری ماں کون تھی؟ جسے سن کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ ہم ایسے سوال کو برداشت نہیں کرسکتے۔ مولوی فضل دین صاحب نے کہا کہ اس سوال سے آپ کے خلاف مقدمہ کمزور ہوجائے گا اور اگر یہ نہ پوچھا جائے تو آپ کو مشکل پیش آئے گی اس لئے کہ گواہ اپنے آپ کو مسلمانوں کا لیڈر ہونے کی حیثیت سے پیش کررہا ہے اور ضروری ہے کہ ثابت کیا جائے کہ وہ ایسا معزز نہیں مگر آپؑنے فرمایا کہ نہیں ہم اس سوال کی اجازت نہیں دے سکتے۔ مولوی فضل دین احمدی نہیں تھے بلکہ حنفی تھے اور حنفیوں کے لیڈر تھے، انجمن نعمانیہ وغیرہ کے سرگرم کارکن تھے
اس لئے مذہبی لحاظ سے تعصب رکھتے تھے مگر جب کبھی غیراحمدیوں کی مجالس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ذات پر کوئی حملہ کیا جاتا تو وہ پرزور تردید کرتے اور کہتے کہ عقائد کا معاملہ الگ ہے لیکن میں نے دیکھا ہے کہ آپ کے اخلاق ایسے ہیں کہ ہمارے علماء میں سے کوئی بھی ان کا مقابلہ نہیں کرسکتا اور اخلاق کے لحاظ سے میں نے بھی ایسے ایسے مواقع پر ان کی آزمائش کی ہے کہ کوئی مولوی وہاں نہیں کھڑا ہوسکتا تھا جس مقام پر آپؑکھڑے تھے۔ اب دیکھو! ادھر گواہ کے ذلیل ہونے کا الہام ہے ادھر اس کی گواہی آپؑکو مجرم بناتی ہے مگر جو بات اس کی پوزیشن کو گرانے والی ہے وہ آپؑپوچھنے ہی نہیں دیتے لیکن جس خدا نے قبل از وقت مولوی محمد حسین کی ذلت کی خبر آپؑکو دی تھی اس نے ایک طرف تو آپ کے اخلاق کو دکھا کر آپ کی عزت قائم کی اور دوسری طرف غیر معمولی سامان پیدا کرکے مولوی صاحب کو بھی ذلیل کرادیا۔
او ریہ اس طرح ہوا کہ وہی ڈپٹی کمشنر جو پہلے سخت مخالف تھا اس نے جونہی آپ کی شکل دیکھی اس کے دل کی کیفیت بدل گئی اور باوجود اس کے کہ آپ مقام ملزم کی حیثیت میں اس کے سامنے پیش ہوئے تھے اس نے کرسی منگوا کر اپنے ساتھ بچھوائی اور اس پر آپؑکو بٹھایا۔ جب مولوی محمد حسین صاحب گواہی کیلئے آئے تو چونکہ وہ اس امید میں آئے تھے کہ شاید آپ کے ہتھکڑی لگی ہوئی ہوگی یا کم سے کم آپؑکو ذلت کے ساتھ کھڑا کیا ہوگا۔ جب انہوں نے دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو مجسٹریٹ نے اپنے ساتھ کرسی پر بٹھایا ہوا ہے تو وہ غصہ سے مغلوب ہوگئے اور جھٹ مطالبہ کیا کہ مجھے بھی کرسی دی جائے۔ اس پر عدالت نے کہا کہ نہیں آپ کا کوئی حق نہیں کہ آپ کو کرسی ملے۔ مولوی صاحب نے کہا کہ میںمعزز خاندان سے ہوں اور گورنر صاحب سے ملاقات کے وقت بھی مجھے کرسی ملتی ہے۔ ڈپٹی کمشنر نے جواب دیا کہ ملاقات کے وقت تو چوہڑے کو بھی کرسی ملتی ہے مگر یہ عدالت ہے۔ مرزا صاحب کا خاندان رئیس خاندان ہے ان کا معاملہ اور ہے۔ مولوی صاحب اس پر بھی باز نہ آئے اور کہا نہیں مجھے ضرور کرسی ملنی چاہئے میں اہل حدیث کا ایک ایڈووکیٹ ہوں۔ اس پر ڈپٹی کمشنر کو طیش آگیا اور اس نے کہا کہ بک بک مت کر، پیچھے ہٹ او رجوتیوں میں جاکھڑا ہو جا۔ مولوی صاحب جب گواہی دے کر باہر نکلے تو برآمدہ میں ایک کرسی پڑی تھی اس پر بیٹھ گئے کہ لوگ سمجھیں کہ شاید اندر بھی کرسی پر ہی بیٹھے تھے مگر نوکر ہمیشہ آقا کی مرضی کے مطابق چلتے ہیں۔ چپڑاسی نے جب دیکھا کہ صاحب ناراض ہیں تو اس خیال سے کہ برآمدہ میں کرسی پر بیٹھا دیکھ کر مجھ سے ناراض نہ ہوں آکر کہنے لگا کہ میاں! اٹھو کرسی خالی کردو۔ وہاں سے اٹھ کر وہ باہر آئے اور ایک چادر بچھی ہوئی تھی اس پر بیٹھ گئے اور خیال کیا کہ چلو اتنی عزت ہی سہی۔ مگر چادر والے نے نیچے سے چادر کھینچتے ہوئے کہا اٹھو! میری چادر چھوڑ دو جو عیسائیوں سے مل کر ایک مسلمان کے خلاف جھوٹی گواہی دینے آیا ہو اسے بٹھا کر میں اپنی چادر پلید نہیں کرا سکتا اور اس طرح ذلت پر ذلت ہوتی چلی گئی مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اعلیٰ اخلاق کی وجہ سے آپ کی عزت قائم ہوئی۔ اس کے بالمقابل ہماری جماعت کے کتنے دوست ہیں جو غصہ کے موقعہ پر قابو رکھتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دیکھ کر ایسے شدید دشمن کے صحیح واقعات سے بھی اس کی تذلیل گوارہ نہیں کرتے۔
(خطبات محمود جلد 17 صفحہ 553 تا 556)
(تذکار مہدی صفحہ 170 تا 173، ایڈیشن 2020، یوکے)