اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2026-03-12

تذکار مہدی سیدنا حضرت مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام کی سیرت طیبہ سے متعلق حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی روایات مرتبہ مکرم حبیب الرحمٰن زیروی صاحب

ظاہری علم پر بزرگی کی بنیاد نہیں رکھی جاسکتی
اگر ظاہری علم پر ہی فضیلت اور بزرگی کی بنیاد رکھی جائے۔تو نَعُوذُ بِاللهِ دنیا کے سارے انبیاء کو جھوٹا کہنا پڑے گا کیونکہ ان کا مقابلہ کرنے والے علماء ہی ہوئے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا بھی ان ہی لوگوں نے مقابلہ کیا جو اپنے آپ کو ظاہری علوم کے لحاظ سے بہت بڑا عالم سمجھا کرتے تھے۔یہاں تک کہ مولوی محمد حسین بٹالوی نہایت حقارت سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو منشی غلام احمد لکھا کرتے تھے۔گویا آپ نَعُوذُ بِاللهِ صرف منشی ہیں کہ دو چار سطریں لکھ لیتے ہیں عالم نہیں اور وہ اس بات پر بہت خوش ہوتے کہ میں نے انہیں منشی لکھا ہے۔مجھے یاد ہے میں اس وقت چھوٹا بچہ تھا کہ مولوی سید محمد احسن صاحب امروہوی نے کسی مجلس میں بیان کیا کہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے میری نسبت تو یہ لکھا ہے کہ یہ مولوی ہے مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق اس نے یہ لکھا ہے کہ وہ منشی ہیں۔مجھے اس وقت بھی ان کی یہ بات بری معلوم ہوئی تھی اور آج بھی بری محسوس ہوتی ہے۔ان کے دل میںشاید مولویت کی کوئی قدر ہو تو ہو ہمیں تو کوئی مولوی کہہ دے تو چڑ آ جاتی ہے۔اس کی وجہ یہ نہیں کہ مولوی کا لفظ بُرا ہے۔مولوی عربی کا ایک لفظ ہے اور یہ مولائی سے بنا ہے۔جس کے معنے یہ ہیں کہ ہمارا مولا ، ہمارا سردار اور ہمارا اُستاد مگر اب مولوی کے لفظ کا استعمال جن لوگوں پر شروع ہو گیا ہے اُن کو دیکھتے ہوئے اس بات سے شرم آتی ہے کہ کوئی ہمیں مولوی کہہ دے۔
(خطبات محمود جلد 18 صفحہ 390-389 )
مخالفین کا بائیکاٹ اور ایذاء رسانی
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کا بائیکاٹ بھی ہم نے دیکھا۔وہ وقت بھی دیکھا جب چوڑھوں کو صفائی کرنے اور سقوں کو پانی بھرنے سے روکا جاتا۔پھر وہ وقت بھی دیکھا جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کہیں باہر تشریف لے جاتے تو آپ پر مخالفین کی طرف سے پتھر پھینکے جاتے اور وہ ہر رنگ میں ہنسی اور استہزاء سے پیش آتے۔مگر ان تمام مخالفتوں کے باوجود کیا ہوا، آپ جتنے لوگ اس وقت یہاں بیٹھے ہیں، آپ میں سے پچانوے فیصدی وہ ہیں جو اس وقت مخالف تھے یا مخالفوں میں شامل تھے مگر اب وہی پچانوے فیصدی خدا تعالیٰ کے فضل سے ہمارے ساتھ شامل ہیں۔پھر حضرت خلیفہ اول کی وفات کے بعد جماعت میں جوشور اٹھا اس کا کیا حشر ہوا۔اس فتنہ کے سرگروہ وہ لوگ تھے جوصدرانجمن پر حاوی تھے اور تحقیر کے طور پر کہا کرتے تھے کہ کیا ہم ایک بچہ کی غلامی کر لیں۔خدا تعالیٰ نے اسی بچے کا ان پر ایسا رعب ڈالا کہ وہ قادیان چھوڑ کے بھاگ گئے اور اب تک یہاں آنے کا نام نہیں لیتے۔انہیں لوگوں نے اس وقت بڑے غرور سے کہا تھا کہ جماعت کا اٹھانوے فیصدی حصہ ہمارے ساتھ ہے اور دو فیصدی ان کے ساتھ۔مگر اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے دو فیصدی بھی ان کے ساتھ نہیں رہا اور اٹھانوے فیصدی بلکہ اس سے بھی زیادہ ہماری جماعت میں شامل ہو چکا ہے۔غرض ہر رنگ میں ہماری مخالفت کی گئی ، مقامی طور پر بھی اور بیرونی طور پر بھی ، مگر اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہمیشہ کامیاب رکھا ان تمام باتوں کو دیکھتے ہوئے ہمیں مخالفتوں کا کیا ڈر ہوسکتا ہے۔
(خطبات محمود جلد 15 صفحہ 207)
کشفی حالت
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے۔مجھے ایک دفعہ پیچش کی شکایت تھی اور چونکہ مجھے بار بار قضائے حاجت کے لئے جانا پڑتا تھا اس لئے میں چاہتا تھا کہ پاخانہ کی اچھی طرح صفائی ہو جائے تا کہ طبیعت میں انقباض پیدا نہ ہو۔خاکرو بہ آئی تو میں نے اسے پوچھا کہ تم نے جگہ صاف کر دی ہے اس وقت شاید اس نے جھوٹ بولا یا کوئی کونہ صاف کرنا اسے بھول گیا تھا کہ اس نے جواب میں کہا میں نے جگہ صاف کر دی ہے۔اسی وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر کشفی حالت طاری ہوئی اور آپ نے دیکھا کہ ایک کونہ میں نجاست پڑی ہے۔ اس پر آپ نے اسے کہا تم جھوٹ کیوں بولتی ہو فلاں کو نہ تو ابھی گندہ ہے اور تم نے اس کی صفائی نہیں کی۔وہ یہ سن کر حیران رہ گئی کہ انہیں اندر بیٹھے کس طرح علم ہو گیا ہے کہ میں نے پوری صفائی نہیں کی۔( تذکرہ صفحہ 465) یہ نظارہ بھی منفرد اور مشترک دونوں رنگ رکھتا ہے یعنی کبھی صرف ایک شخص کو نظارہ دکھایا جاتا ہے اور کبھی ویسا ہی نظارہ دوسروں کو بھی دکھا دیا جاتا ہے۔ ( تفسیر کبیر جلد 9 صفحہ 447)
قادیان کی ترقی کی پیشگوئی
ایک زمانہ تھا کہ یہاں احمدیوں کو مسجدوں میں نہیں جانے دیا جاتا تھا۔مسجد کا دروازہ بند کر دیا گیا۔چوک میں کیلے گاڑ دیئے گئے تا نماز پڑھنے کے لئے جانے والے گریں اور کنوئیں سے پانی نہیں بھرنے دیا جاتا تھا بلکہ یہاں تک سختی کی جاتی تھی کہ کمہاروں کو ممانعت کر دی گئی تھی کہ احمدیوں کو برتن بھی نہ دیں۔ایک زمانہ میں یہ ساری مشکلات تھیں مگر اب وہ لوگ کہاں ہیں۔ان کی اولادیں احمدی ہو گئی ہیں اور وہی لوگ جنہوں نے احمدیت کو مٹانے کی کوشش کی ان کی اولا دا سے پھیلانے میں مصروف ہے۔یہی مدرسہ جس جگہ واقع ہے یہاں پرانی روایات کے مطابق جن رہا کرتے تھے اور کوئی شخص دو پہر کے وقت بھی اس راستہ سے اکیلا نہ گزرسکتا تھا۔اب دیکھو۔وہ جن کس طرح بھاگے۔مجھے یاد ہے۔اس ہائی سکول والے) میدان سے جاتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنا ایک رؤیا سنایا تھا کہ قادیان بیاس تک پھیلا ہوا ہے اور شمال کی طرف بھی بہت دور تک اس کی آبادی چلی گئی ہے۔اس وقت یہاں صرف آٹھ دس گھر احمدیوں کے تھے اور وہ بھی بہت تنگدست۔باقی سب بطور مہمان آتے تھے لیکن اب دیکھو خدا تعالیٰ نے کس قدر ترقی اسے دی ہے۔
(الحکم سیرت مسیح موعود نمبر مورخہ 21 تا 28 مئی و 7 تا 14 جون 1943ء صفحہ 11 جلد 47 نمبر 19 تا22)
کرامت دکھا ئیں تو سب مولوی مان لیں گے
لدھیانہ میں ایک شخص میر عباس علی تھے۔وہ حضرت صاحب سے بہت خلوص رکھتے تھے حتی کہ ان کی موجودہ حالت کے متعلق حضرت صاحب کو الہام بھی ہو ا تھا۔لدھیانہ میں جب حضرت مسیح موعود اور محمد حسین کا مباحثہ ہوا تو میر عباس علی حضرت صاحب کا کوئی پیغام لے کر گئے۔ان کے مولوی محمد حسین وغیرہ مولویوں نے بڑے احترام اور عزت سے ہاتھ چومے کہا۔آپ آلِ رسول ہیں آپ کی تو ہم بھی بیعت کر لیں لیکن یہ مغل کہاں سے آ گیا ہے۔اگر کوئی مامور آتا تو سادات میں سے آنا چاہئے تھا۔پھر کچھ تصوف وصوفیاء کا ذکر شروع کر دیا۔میر صاحب کو صوفیاء سے بہت اعتقاد تھا۔مولویوں نے کچھ ادھر ادھر کے قصے بیان کر کے کہا کہ صوفیاء تو اس قسم کے عجوبے دکھایا کرتے تھے۔اگر مرزا صاحب بھی کچھ ہیں تو کوئی عجوبہ دکھلائیں۔ہم آج ہی ان کو مان لیں گے۔مثلاً وہ کوئی سانپ پکڑ کر دکھائیں۔یا اور کوئی اس قسم کی بات کریں۔میر عباس علی کے دل میں یہ بات بیٹھ گئی اور جب حضرت صاحب کے پاس آئے تو کہا کہ حضور اگر کوئی کرامت دکھا ئیں تو سب مولوی مان لیں گے۔حضرت صاحب فرماتے ہیں کہ جب کرامت کا لفظ ان کی زبان سے نکلا تو اسی وقت مجھے یقین ہو گیا کہ بس میر صاحب کو مولویوں نے پھندے میں پھنسا لیا۔اس پر حضرت صاحب نے ان کو بہت سمجھایا مگر ان کی سمجھ میں کچھ نہ آیا۔تو وسوسہ انداز لوگ ایک سوراخ تلاش کرتے ہیں اور اس کے ذریعہ انسان کے دل میں وسوسہ ڈال دیتے ہیں جس سے اُسے ٹھوکر لگ جاتی ہے۔
قادیان میں بھی ایسے لوگ ہیں جن کا یہ کام ہے کہ لوگوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالیں۔بیعت بھی کی ہوئی ہے، اپنے آپ کو مخلص بھی قرار دیتے ہیں، مگر وسوسہ اندازی سے باز نہیں آتے۔ایسے لوگوں سے محفوظ رہنے کا ایک ہی ذریعہ ہے اور وہ یہ کہ انسان سچّے دل سے اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ پڑھے ۔جو پڑھے گا یقینا اللہ تعالیٰ اسے وسوسہ سے محفوظ رکھے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ کسی کے اخلاص کو ضائع نہیں کرتا اور شیطان غالب نہیں آسکتا۔شیطان کو اقتدار نہیں دیا گیا۔
(الفضل 5 نومبر 1918 ء جلد 6 نمبر 34 صفحہ 9)
میر عباس علی لدھیانوی
انسانی علم بالکل محدود ہوتا ہے۔بعض اوقات وہ ایک چیز کے متعلق یہ سمجھتا ہے کہ وہ اچھی ہے لیکن اس کا نتیجہ خراب ہوتا ہے۔جیسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو میر عباس علی لدھیانوی کے متعلق ایک وقت علم دیا گیا کہ وہ نیک ہے تو آپ اُس کی تعریف فرمانے لگے۔مگر چونکہ اُس وقت آپ کو اُس کے انجام کا علم نہیں تھا اس لئے آپ کو پتہ نہ لگا کہ ایک دن وہ مرتد ہو جائے گا۔لیکن بعد میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کا علم دے دیا۔غرض انسانی علم بہت ہی محدود ہے صرف خدا تعالیٰ ہی کامل علم رکھتا ہے جو سب پر حاوی ہے اور کوئی شخص اس کے علوم کا احاطہ نہیںکرسکتا۔ ( تفسیر کبیر جلد دوم صفحہ 583)
تکبر کی بجائے احسانات کا شکر گزار ہونا چاہئے
دعا ہے جو ہم ہمیشہ مانگتے رہتے ہیں اور جس سے صاف پتہ لگتا ہے کہ عام مومن تو کجا منعم علیہ شخص بھی مغضوب اور ضال ہونے کے خطرہ میں ہر وقت گھرا ہوا ہے اور بعض دفعہ انسان روحانی لحاظ سے بہت بلند مقام پر پہنچ کر بھی ایسا گرتا ہے کہ اس کے اندر ایمان کا شائبہ تک نہیں رہ جاتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو لدھیانہ کے ایک شخص کے متعلق جو آپ سے نہایت گہری ارادت ظاہر کرتا تھا ایک دفعہ ایک الہام ہوا جس میں اس کی روحانی طاقتوں کی بہت بڑی تعریف کی گئی تھی۔مگر بعد میں وہ مرتد ہو گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر بعض لوگوں نے اعتراض کیا کہ اس کے متعلق تو الہام الہی میں تعریف آچکی تھی پھر یہ کیوں مرتد ہو گیا۔تو آپ نے فرمایا بے شک الہام میں اس کی تعریف موجود تھی اور اللہ تعالی کا کلام بتارہا تھا کہ وہ اعلیٰ روحانی طاقتیں رکھتا تھا۔لیکن جب اس نے ان طاقتوں سے ناجائز فائدہ اٹھایا اور اس میں کبر اور غرور پیدا ہو گیا تو اللہ تعالیٰ کا غضب اس پر نازل ہو گیا اور وہ مرتد ہو گیا۔تو سورہ فاتحہ کی دعا ہمیں بتاتی ہے کہ نفاق اور کفریہ دو چیزیں انسان کے ساتھ ہر وقت لگی ہوئی ہیں اور یہ دونوں مرضیں منعم علیہ گروہ میں شامل ہونے کے بعد انسان پر حملہ آور ہوتی رہتی ہیں۔اور ان کے پیدا ہونے کے دو سبب ہوتے ہیں۔ایک مرض تو اُس وقت پیدا ہوتا ہے جب انسان پر اللہ تعالیٰ کی نعمتیں نازل ہوتی ہیں۔اس کے فضل اسے نواز نا شروع کرتے ہیں اور وہ ایمان میں اعلیٰ درجہ حاصل کر لیتا ہے۔لیکن بجائے اللہ تعالیٰ کے احسانات کا شکر گزار ہونے کے وہ تکبر میں مبتلا ہو جاتا ہے اور کسی وقت خدا تعالیٰ کی یا اس کے پیاروں اور مقبول بندوں کی کوئی ایسی گستاخی کر بیٹھتا ہے جس کے نتیجہ میں وہ تمام انعامات سے محروم کر دیا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے غضب کے نیچے آجاتا ہے۔گویا یہ اللہ تعالیٰ یا اس کے پیاروں سے لڑائی کا نتیجہ ہوتا ہے کہ وہ تمام درجات سے محروم کر دیا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا غضب اس پر نازل ہو جاتا ہے یا پھر یہ مرض اس وقت پیدا ہوتا ہے جب وہ غلو کرنے لگ جاتا ہے اور ایسی جگہ انکسار کرنے لگ جاتا ہے جہاں اس کے لئے انکسار جائز نہیں ہوتا۔ایسی حالت میں اس کے اندر تکبر نہیں ہوتا بلکہ انکسار ہوتا ہے اور انکسار بھی جب حد سے بڑھ جائے تو ایک مقام پر جرم بن جاتا ہے۔
( خطبات محمود جلد 18 صفحہ 385-386)
(تذکار مہدی صفحہ 161 تا 166، ایڈیشن 2020، یوکے)