تمام عزت خدا نے ہمارے ساتھ وابستہ کر دی ہے
بغیر محنت دینی یا محنت دنیوی کے کوئی انسان عزت حاصل نہیں کر سکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ ہمارے زمانہ میں تمام عزت خدا نے ہمارے ساتھ وابستہ کر دی ہے۔اب عزت پانے والے یا ہمارے مرید ہوں گے۔یا ہمارے مخالف ہوں گے چنانچہ فرماتے تھے مولوی ثناء اللہ صاحب کو دیکھ لو وہ کوئی بڑے مولوی نہیں ان جیسے ہزاروں مولوی پنجاب اور ہندوستان میں پائے جاتے ہیں ان کو اگر اعزاز حاصل ہے تو محض ہماری مخالفت کی وجہ سے۔وہ لوگ خواہ اس امر کا اقرار کریں یا نہ مگر واقعہ یہی ہے کہ آج ہماری مخالفت میں عزت ہے یا ہماری تائید میں گویا اصل مرکزی وجود ہمارا ہی ہے اور مخالفین کو بھی اگر عزت حاصل ہوتی ہے تو ہماری وجہ سے۔
(تفسیر کبیر جلد ہشتم صفحہ 614)
مولوی محمد حسین بٹالوی کا دعویٰ
مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے جوانی کے دوست تھے اور آپ سے تعلق رکھنے والے تھے اور جو ہمیشہ آپ کے مضامین کی تعریف کیا کرتے تھے انہوں نے اس دعویٰ کے معاً بعد یہ اعلان کیا کہ میں نے ہی اس شخص کو بڑھایا تھا اور اب میں ہی اسے تباہ کر دوں گا۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اپنے رشتہ داروں نے اعلان کر دیا بلکہ بعض اخبارات میں یہ اعلان چھپوا بھی دیا کہ اس شخص نے دوکانداری چلائی ہے اس کی طرف کسی کو توجہ نہیں کرنی چاہئے اور اس طرح ساری دنیا کو انہوں نے بدگمان کرنے کی کوشش کی پھر یہ میرے ہوش کی بات ہے کہ بہت سے کام کرنے والے لوگوں نے جو زمیندارہ انتظام میں کمیں کہلاتے ہیں آپ کے گھر کے کاموں سے انکار کر دیا اس کے محرک دراصل ہمارے رشتہ دار ہی تھے۔غرض اپنوں اور بیگانوں نے مل کر آپ کو مٹانا اور آپ کو تباہ اور برباد کر دینا چاہا۔مگر خدا نے اپنے بندے سے کہا:
’’دنیا میں ایک نبی آیا پر دنیا نے اُسے قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی کو ظاہر کر دے گا۔‘‘
ایک بے کس اور بے بس انسان قادیان جیسی بستی میں جہاں ہفتہ میں صرف ایک دفعہ ڈاک آیا کرتی تھی جہاں ایک پرائمری سکول بھی نہ تھا۔جہاں ایک روپیہ کا آٹا بھی لوگوں کو میسر نہیں آتا تھا کھڑا ہوتا ہے اور پھر وہ انسان بھی ایسا ہے جو نہ مولوی ہے اور نہ بہت بڑی جائیداد کا مالک ہے۔(بے شک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک شریف خاندان میں سے تھے مگر راجوں اور نوابوں کی طرح بہت بڑی جائیداد کے مالک نہیں تھے ) وہ اٹھ کر دنیا کے سامنے یہ اعلان کرتا ہے اور پہلے دن ہی کہتا ہے کہ خدا میرے نام کو دنیا کے کناروں تک پہو نچائے گا اور کون ہے جو آج کہہ سکے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نام دنیا کے کناروں تک نہیں پہونچا۔
( الفضل 13 نومبر 1940 ء جلد 28 نمبر 258 صفحہ 2 تا 3)
جماعت سے تعلق رکھنے والوں پر
علوم کی راہیں کھلتی ہیں
یہ اللہ تعالی کی قدرت ہے کہ ہماری جماعت سے تعلق رکھنے والوں پر دینی اور دنیوی علوم کی راہیں کھل جاتی ہیں اور ایسی باتیں ذہن میں آنے لگتی ہیں جو بڑے بڑے عالموں کو نہیں سوجھتیں۔ ہمارے ہاں ایک ملازم ہوتا تھا پہاڑ کا رہنے والا تھا اسے گنٹھیا کی بیماری ہوگئی تھی اور اس کے رشتہ داروں نے اسے گھر سے نکال دیا تھا کہ تو کما تا کچھ نہیں اس لئے ہم تیرا بوجھ نہیں اٹھا سکتے۔وہ اپنا علاج کرانے کے لئے چلا آیا۔کسی نے اسے بتایا قادیان کے مرزا صاحب بھی علاج کرتے ہیں وہاں جاؤ یہ سن کر وہ قادیان میں آگیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کا علاج کیا اور وہ اچھا ہو گیا پھر وہ آپ کے پاس ہی رہ پڑا۔اس کے رشتہ دار اسے لینے کے لئے بھی آئے مگر اس نے جانے سے انکار کر دیا۔وہ اپنی دماغی کیفیت کی وجہ سے دین سے اس قدر ناواقف تھا کہ ایک دفعہ حضرت خلیفہ اول نے اس سے پوچھا تمہارا کیا مذہب ہے تو اس نے کہا مجھے تو پتا نہیں ہمارے پنچوں کو معلوم ہوگا ان کو آپ لکھیں وہ بتادیں گے۔ حضرت خلیفہ اول نے اسے نماز پڑھنے کے لئے کہا اور چونکہ بہت معمولی سمجھ کا آدمی تھا نماز کا شوق دلانے کے لئے اسے کہا اگر تم پانچ وقت کی نمازیں پڑھ لو تو دوروپے دوں گا۔اس نے کہا میں نماز میں کیا پڑھوں آپ نے بتایا تم سبحان الله ۔ سبحان اللہ کہتے رہنا وہ مغرب کی نماز کے لئے کھڑا ہوا تو اندر سے کسی خادمہ نے اسے آواز دی کہ کھانا لے جاؤ۔ایک دو آوازوں پر تو چپ رہا پھر کہنے لگا ذرا ٹھہرو نماز پڑھ لوں تو آتا ہوں۔یہ تو اس کی حالت تھی۔اس زمانہ میں احمدیت کی مخالفت ہوتی تھی اور مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی سٹیشن پر جا کر لوگوں کو قادیان جانے سے روکا کرتے تھے۔کبھی کبھی حضرت صاحب کی تارلے کر یا کسی اور کام کے لئے وہ نوکر بھی جس کا نام پیرا تھا اسٹیشن پر جایا کرتا تھا۔ایک دفعہ مولوی محمد حسین صاحب نے اسے کہا تو کیوں وہاں بیٹھا ہے یہاں چلا آ۔جب مولوی صاحب نے اسے بہت تنگ کیا تو اس نے کہا میں اور تو کچھ جانتا نہیں مگر اتنا پتہ ہے کہ مرزا صاحب یہاں سے گیارہ میل دور بیٹھے ہیں ان کے پاس تو لوگ جاتے ہیں اور تمہارے روکنے کے باوجود جاتے ہیں مگر تم یہاں روزا کیلئے ہی آتے ہو اورا کیلے ہی چلے جاتے ہو کوئی تو بات ہے کہ مرزا صاحب کے پاس لوگ آتے ہیں۔اب دیکھو وہ نصرت اور تائید کے الفاظ نہ جانتا تھا مگر یہ جانتا تھا کہ حضرت مرزا صاحب کے پاس جو لوگ آتے ہیں اور مولوی محمدحسین صاحب کے پاس نہیں جاتے تو اس میں کوئی خاص بات ہے بات یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی طرف کوئی مائل ہو جاتا ہے یا صحیح رستہ پر چلنے والوں کے پاس ہی بیٹھتا ہے تو وہ بھی کچھ نہ کچھ حاصل کر لیتا ہے۔
( خطبات محمود جلد 11 صفحہ 305-304)
حضرت مسیح موعود ؑ کا ماضی
ہر ایک بدی بتدریج پیدا ہوتی ہے یہ کبھی نہیں ہوتا کہ ایک شخص رات کے وقت صادق سوئے اور صبح کو بدترین جھوٹ کا مرتکب ہو کر پہلے تو انسانوں پر بھی جھوٹ نہ بولتا تھا اور اب خدا پر جھوٹ بولنے لگا۔اس کے مطابق ہم حضرت مرزا صاحب کی دعویٰ سے پہلے کی زندگی کو دیکھتے ہیں تو آپ نے یہاں کے ہندوؤں ، سکھوں اور مسلمانوں کو بار بار اعلان فرمایا کہ کیا تم میری پہلی زندگی پر کوئی اعتراض کر سکتے ہو مگر کسی کو جرات نہ ہوئی بلکہ آپ کی پاکیزگی کا اقرار کرنا پڑا۔
مولوی محمد حسین بٹالوی جو بعد میں سخت ترین مخالف ہو گیا اس نے اپنے رسالہ میں آپ کی زندگی کی پاکیزگی اور بے عیب ہونے کی گواہی دی اور مسٹر ظفر علی خان کے والد نے اپنے اخبار میں آپ کی ابتدائی زندگی کے متعلق گواہی دی کہ بہت پاکباز تھے۔پس جو شخص چالیس سال تک بے عیب رہا اور اس کی زندگی پاکباز رہی وہ کس طرح راتوں رات کچھ کا کچھ ہو گیا اور بگڑ گیا۔علماء نفس نے مانا ہے کہ ہر عیب اور اخلاقی نقص آہستہ آہستہ پیدا ہوا کرتا ہے ایک دم کوئی تغیر اخلاقی نہیں ہوتا ہے۔پس دیکھو کہ آپ کا ماضی کیسا بے عیب اور بے نقص اور روشن ہے۔
(معیار صداقت انوار العلوم جلد6 صفحہ 61-60)
حضرت مسیح موعود ؑ کا حال
جو خدا کا رسول ہو اس کے ساتھ خدا کی نصرت ہوتی ہے اگر نصرت نہیں تو وہ خدا کا مرسل اور رسول نہیں قریب ہوتا ہے کہ لوگ اس کو ہلاک کر دیں مگر خدا کی نصرت آتی ہے اور اُس کو کامیاب کرتی ہے اور اُس کے دشمنوں کے منصوبوں کو خاک میں ملا دیتی ہے۔یہی معاملہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مقابلہ میں ہوا۔ آپ کو طرح طرح سے مارنے کی کوشش کی گئی۔لوگ مارنے پر متعین ہوئے جن کا علم ہو گیا اور وہ اپنے ارادے میں ناکام ہوئے ، مقد مے آپ پر جھوٹے اقدام قتل کے بنائے گئے۔چنانچہ ڈاکٹر مارٹن کلارک نے جھوٹا مقدمہ اقدام قتل کا بنایا اور ایک شخص نے کہہ بھی دیا کہ مجھے حضرت مرزا صاحب نے متعین کیا تھا۔مجسٹریٹ وہ جو اس دعویٰ کے ساتھ آیا تھا کہ اس مدعی مہدویت و مسیحیت کو اب تک کسی نے پکڑا کیوں نہیں میں پکڑوں گا مگر جب مقدمہ ہوتا ہے وہی مجسٹریٹ کہتا ہے کہ میرے نزدیک یہ جھوٹا مقدمہ ہے۔بار بار اس نے یہی کہا اور آخر اس شخص کو عیسائیوں سے علیحدہ کر کے پولیس افسر کے ماتحت رکھا گیا اور وہ شخص رو پڑا اور اس نے بتا دیا کہ مجھے عیسائیوں نے سکھایا تھا اور خدا نے اس جھوٹے الزام کا قلع قمع کر دیا۔اسی طرح ہماری جماعت کے پُر جوش مبلغ مولوی عمرالدین صاحب شملوی اپنا واقعہ سنایا کرتے ہیں کہ وہ بھی اسی معیار پر پرکھ کر احمدی ہوئے ہیں۔وہ سناتے ہیں کہ شملہ میں مولوی محمد حسین اور مولوی عبد الرحمن سیاح اور چند اور آدمی مشورہ کر رہے تھے کہ اب مرزا صاحب کے مقابلہ میں کیا طریق اختیار کرنا چاہئے۔ مولوی عبد الرحمن صاحب نے کہا کہ مرزا صاحب اعلان کر چکے ہیں کہ میں اب مباحثہ نہیں کروں گا ہم اشتہار مباحثہ دیتے ہیں اگر وہ مقابلہ پر کھڑے ہو جائیں گے تو ہم کہیں گے کہ انہوں نے جھوٹ بولا کہ پہلے تو اشتہار دیا تھا کہ ہم مباحثہ کسی سے نہ کریں گے اور اب مباحثہ کے لئے تیار ہو گئے اور اگر مباحثہ پر آمادہ نہ ہوئے تو ہم شور مچادیں گے کہ دیکھو مرزا صاحب ہار گئے ہیں۔اس پر مولوی عمر الدین نے کہا کہ اس کی کیا ضرورت ہے میں جاتا ہوں اور جا کر ان کو قتل کر دیتا ہوں۔مولوی محمد حسین نے کہا کہ لڑکے تجھے کیا معلوم یہ سب کچھ کیا جا چکا ہے۔مولوی عمرالدین صاحب کے دل میں یہ بات بیٹھ گئی کہ جس کی خدا اتنی حفاظت کر رہا ہے وہ خدا ہی کی طرف سے ہو گا۔انہوں نے جب بیعت کر لی تو واپس جاتے ہوئے مولوی محمد حسین بٹالہ کے سٹیشن پر ملے اور کہا تو کدھر؟ انہوں نے کہا کہ قادیان بیعت کر کے آیا ہوں۔کہا تو بہت شریر ہے تیرے باپ کولکھوں گا۔انہوں نے کہا کہ مولوی صاحب یہ تو آپ ہی کے ذریعہ ہوا ہے جو کچھ ہوا ہے۔ پس مخالف اس کو مارنا چاہتے ہیں وہ بچایا جاتا ہے۔خدا اس کی اپنے تازہ علم سے نصرت کرتا اور ہر میدان میں اس کو عزت دیتا ہے۔
(معیار صداقت۔انوار العلوم جلد 6 صفحہ 62-61)
(تذکار مہدی صفحہ 157 تا 161، ایڈیشن 2020، یوکے)