ہم نے ہمیشہ
دوسروں کے حقوق کا خیال رکھا ہے
اپنی جماعت کو یہ نصیحت کرنی چاہتا ہوں کہ اس بات کا خاص خیال رکھیں ہم اِس وقت کمزور ہیں لیکن کہیں ہمیں بھی قوت اور طاقت حاصل ہوتی ہے۔ کوئی احمدی بڑا زمیندار یا تاجر یا کوئی افسر ہوتا ہے جہاں بھی ایسا ہو، چاہئے کہ اپنی طاقت کا صحیح استعمال کیا جائے۔ میں دعویٰ سے کہہ سکتا ہوں کہ سارے ہندوستان میں کوئی ایسا زمیندار نہیں ہوگا جو اپنے مزارعین اور کسانوں سے ایسا سلوک کرے جو ہم یہاںکرتے ہیں لیکن ساتھ ہی مالکان میں سے سارے ملک میں شاید کوئی اتنا بدنام نہیں ہوگا جتنا ہم ہیں۔ ہم تو قادیان کے واحد مالک ہیں لیکن کسی اور گاؤں میں جا کر دیکھ لو کوئی زمیندار چوتھے حصے کا ہی مالک کیوں نہ ہو کیا مجال جو اُس کے خلاف کوئی بات کرسکے مگر ہمارے سامنے سب بولتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی وفات کے قریب کے زمانہ کاواقعہ ہے کہ بندوبست کا کوئی تحصیلدار یا کوئی افسر یہاں آیا میں اُس زمانہ میں ابھی پڑھ رہا تھا، اس محکمہ کا شاید کوئی قاعدہ ہے کہ مالیہ وغیرہ کے متعلق کسی کو اعتراض ہو تو دریافت کر لیتے ہیںشاید ایسی ہی کوئی بات تھی یا کوئی اور بات تھی اور افسر یہاں آیا ہوا تھا مجھے بھی بلایا گیا تو ایک مزارع مجھے دیکھ کر کہنے لگا کہ جی! ان کو کیا پوچھتے ہو ان کا تو روپیہ میں ایک آنہ ہی ہے۔ کیا کہیں کوئی اور جگہ ہے جہاں کسان اس طرح بول سکیں حالانکہ جیسا سلوک ان لوگوں سے ہم یہاں کرتے ہیں ویسا اور کوئی نہ کرتا ہوگا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانہ میں ایک دفعہ یہاں ایک مجسٹریٹ آیا اور آپ سے یہاں کے ہندوؤں کے متعلق ذکر کیا کہ وہ کچھ شاکی ہیں آپ نے ہندوؤں کو بلایا اور اس کے سامنے ان پر اپنی نوازشیں گنوانی شروع کیں۔ آپ نے بتانا شروع کیا کہ ہم نے ان لوگوں کے لئے یہ کیا، یہ کیا اور فرمایا کہ یہ لوگ سامنے بیٹھے ہیں ان سے کہیں انکار کردیں۔ بڈھے شاہ وغیرہ سب بیٹھے تھے مگر کسی کو انکار کی جرأت نہ ہوئی۔ اسی طرح یہاں کے ہندوؤں میں ایک دفعہ کچھ شورش ہوئی جو دراصل ان سب شورشوں کا پیش خیمہ ہے، ان دنوں بٹالہ کے ایک تحصیلدار جن کا نام شاید دیوان چند تھا یہاں آئے اور کہا کہ مَیں بطور سفارش آپ کے پاس آیا ہوں آپ ان کی شکایات کا خود ہی علاج کردیں۔ میں نے ان کے سامنے وہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام والا طریق پیش کیا او ربتایا کہ ان کے ساتھ فلاں موقع
پر ہم نے یہ کیا اور ان سے کہیں کہ ان میں سے ایک بات کا بھی انکار کردیں انہوں نے تسلیم کیا کہ مَیں سمجھ گیا ہوں اب میں ان کی سفارش نہیں کروں گا اور ان کو جاکر ڈانٹا اور اس جھگڑے کی صلح صفائی کرادی۔ ہماراسلوک ایسا ہے کہ گو کوئی ہمیں ظالم ہی کہے لیکن دلوں میں ہماری خوبی کو مانتے ہیں۔ اب بھی ان لوگوں کو کوئی مصیبت پیش آئے تو امداد کے لئے ہمارے پاس آتے ہیں اور ظاہر ہے کہ ظالم کے پاس مدد کے لئے کوئی نہیں جایا کرتا۔ ہماری عادت یہ نہیں کہ نام ظاہر کریں لیکن اگر ضرورت ہو تو مَیں ثابت کرسکتا ہوں کہ ہم نے ہندوؤں، سکھوں او رغیر احمدیوں سب کی مدد کی ہے۔ انہیں وظائف دیئے ہیں، کپڑے دیئے ہیں، روپے دیئے ہیں او راگر ضرورت ہو تو ان لوگوں کو سامنے بٹھا کر مَیں اقرار کرا سکتا ہوں کہ تم لوگوں کی فلا ں فلاں مدد کی گئی یا نہیں۔ 1928ء میں جب میں ڈلہوزی گیا تو قادیان کے لالہ شرمپت صاحب کے لڑکے لالہ گوکل چند صاحب تحصیلدار جو فوت ہوچکے ہیں، وہ بھی وہاں گئے، ہمارے ساتھ کی کوٹھی میں گجرات کے ایک رئیس جو غالباً آنریری مجسٹریٹ بھی تھے مقیم تھے، لالہ گوکل چند صاحب دو چار روز کے لئے ہی وہاں گئے تھے اور ان کے ساتھ تعلقات تھے اس لئے ان کے ہاں ہی ٹھہرے۔ ایک دن مجھے ملنے آئے تو کہا کہ آپ کو ایک بات بتاتا ہوں میں نے اپنے میزبان سے کہا تھا کہ آپ مرزا صاحب سے ابھی تک کیوں نہیں ملے تو وہ کہنے لگے کہ وہ تو اس قدر ظالم اور متعصّب ہیں، ان سے میں کیسے مل سکتا تھا۔ وہ ہندوؤں سے بہت تعصّب رکھتے ہیں۔ اس پر میں نے ان سے کہا کہ میں تو قادیان کا رہنے والا ہوں میں خوب جانتا ہوں کہ یہ سب باتیں جھوٹی ہیں۔ اس پر وہ حیران ہوئے اور کہنے لگے کہ اچھا یہ بات ہے۔ بہرحال جو انصاف کرنے والا ہے وہ خواہ کتنا بدنام ہوجائے مگر پھر بھی کامیاب وہی ہوتا ہے اب بھی ہمارے خلاف بہت شور ہے مگر اب بھی مَیں ایسی تحریریں دکھا سکتا ہوں کہ کوئی جھگڑا ہو تو کہتے ہیں آپ فیصلہ کردیں۔ ہم بار بار کہتے ہیں کہ عدالت میں جاؤ مگر کہتے ہیں کہ نہیں آپ ہی فیصلہ کردیں۔ تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمیں اس زمانہ میں اس بات کی توفیق ملی ہے کہ انصاف قائم کریں گو اس وقت بدنام ہیں مگر یہ بدنامی زیادہ دیر تک نہیں چل سکتی دلوں میں ہماری قدر خدا کے فضل سے ہے۔ مجھے ایک دوست نے سنایا کہ TRIBUNE میں جب میری وفات کی غلط خبر شائع ہوئی تو ایک مخالف نے مجھے فون کیا کہ سناؤ کوئی خبر
قادیان کے متعلق ہے مجھے چونکہ کئی لوگ پہلے بھی پوچھ چکے تھے اور مجھے غصہ چڑھا ہوا تھا اس لئے میں نے اسے کہا کہ چُپ رہو مگر اس نے کہا کہ نہیں میں بدنیتی سے نہیں پوچھتا بتاؤ کیا بات ہے مگر مجھے چونکہ غصہ تھا اس لئے میں نے پھر کہا کہ چُپ رہو مگر اس نے کہا کہ خدا کے لئے بتاؤ کیا بات ہے مجھے فکر ہے اس لئے پوچھتا ہوں اور جب میں نے بتایا تو اُس نے ذرا پرے ہو کر کہا جس کی مجھے آواز آئی کہ اَلْحَمْدُ لِلہِ تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے مخالفوں کے دلوں میں بھی ہماری قدر ہے، تم کبھی یہ خیال بھی نہ کرو کہ ظلم کامیاب ہوسکتا ہے۔ اگرچہ اس وقت ہمیں بدنام کیا جارہا ہے مگر اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگ جب دیکھتے ہیں کہ یہ ہمیں دیتے ہیں تو خیال کرتے ہیں کہ سب کچھ کیوں نہیں دیتے مگر جب انہیں معلوم ہوگا کہ رحم اور انصاف کی کیا حدود ہیں تو ضرور نادم ہوں گے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام جب فوت ہوئے تو ہندو، سکھ، غیر احمدی سب رورہے تھے حالانکہ زندگی میں یہی لوگ آپ کو گالیاں دیا کرتے تھے۔ میں نے اِس وقت جماعت کو ایک گُر بتا دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ظالم کو کبھی ہدایت نہیں دیتا اس لئے اپنے اعمال میں ظلم مت پیدا ہونے دو۔ اپنے رویہ میں نرمی رکھو۔ اللہ تعالیٰ دولت دے تو تمہارے اندر اِنکسار پیدا ہو، علم سے تواضع پیدا ہو اور وہ تمہیں جتنا اونچا کرے اُسی قدر جھکو اور کوشش کرو کہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں سے اس کے بندوں کو فائدہ پہنچاؤ۔ بادشاہ کی دولت رعایا کے لئے ہوتی ہے اور ملک کہہ کر اللہ تعالیٰ نے یہی بتایا ہے کہ ہم تمہیں جو کچھ دیں گے بادشاہ کرکے دیں گے تا تم دوسروں کو فائدہ پہنچاؤ، قدوسیت اس واسطے دیں گے کہ دوسروں کو پاک کرو، عزیز بنائیں گے تا دوسروں کو بڑا کرو عزیز اسے بھی کہتے ہیں جو دوسروں کو ذلیل نہ کرے، ہم تمہیں حکمت دیں گے مگر اس لئے کہ دوسروں کو سکھاؤ۔ جس پانی کا نکلنے کا رستہ نہ ہو وہ سڑ جاتا ہے۔ پس ہم تمہیں علم دیں گے لیکن اگر اس سے دوسروں کو فائدہ نہ پہنچاؤگے تو یہ سڑ کر تمہارے دماغ میں تعفّن پیدا کردے گا۔‘‘
(خطبات محمود جلد 16 صفحہ 168 تا 170)
مخالفوں سے احسان کا سلوک
ایک دفعہ ایک افسر نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ایک معاملہ میں کہا کہ یہ لوگ آپ کے شہری ہیں آپ ان کے ساتھ نرمی کا سلوک کریں تو حضرت صاحب نے فرمایا۔ اس بڈھے شاہ ہی کو پوچھو کہ آیا کوئی ایک موقعہ بھی ایسا آیا ہے جس سے اس نے اپنی طرف سے نیش زنی نہ کی ہو اور پھر اس سے ہی پوچھو کہ کیا کوئی ایک موقعہ بھی ایسا آیا ہے کہ جس میں میں اس پر احسان کرسکتا تھا اور پھر میں نے اس کے ساتھ احسان نہ کیا ہو۔ آگے وہ سر ڈال کر ہی بیٹھا رہا۔ یہ ایک عظیم الشان نمونہ تھا آپ کے اخلاق کا۔ پس ہماری جماعت کو بھی چاہئے کہ وہ اخلاق میں ایک نمونہ ہو۔ معاملامت کی آپ میں ایسی صفائی ہو کہ اگر ایک پیسہ بھی گھر میں نہ ہو تو امانت میں ہاتھ نہ ڈالیں اور بات اتنی میٹھی اور ایسی محبت سے کریں کہ جو دوسرے کے دل پر اثر کرے۔ میں نے تو آج تک محبت سے زیادہ اثر کرنے والی کوئی بات نہیں دیکھی۔ اس لئے ہماری جماعت کا بھی محبت آمیز شعار ہوجانا چاہئے کہ جب کوئی بات کرے تو ہر آدمی محسوس کرے کہ اس کے اندر اخلاص ہے اور اس کا دل محبت سے بھرا ہوا ہے۔
(خطبات محمود جلد 10 صفحہ 277-278)
(تذکار مہدی صفحہ 154 تا 157، ایڈیشن 2020، یوکے)