(قسط نمبر13)
باب دوم
اسی طرح آپ( حضرت مسیح موعودؑ)نے یہ بھی بیان فرمایا ہے کہ:
’’شان جلیل و عظیم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو مظہر اتم الوہیت ہے جیسے تمام نبی ابتدا سے بیان کرتے آئے ہیں ایسا ہی حضرت مسیح علیہ السلام نے اس شانِ عالی کا اقرار کیا ہے یہ اقرار جابجا انجیلوںمیں موجود ہے بلکہ اسی اقرار کے ضمن میں حضرت مسیح علیہ السلام اقرار کرتے ہیں کہ میری تعلیم ناقص ہے کیونکہ ہنوز لوگوں کو کامل تعلیم کی برداشت نہیں مگر وہ روح راستی جو نقصان سے خالی ہے( یعنی سید نا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم جس کا قرآن شریف میں بھی نام حق آیا ہے) وہ کامل تعلیم لائے گا اور لوگوں کو نئی باتوں کی خبر دے گا۔انجیل برنباس میں تو صریح نام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو محمد ہے درج ہے اور اس کے ٹالنے کے لئے یہ ناکارہ عذر پیش کیا جاتا ہے کہ مسلمانوں نے کسی زمانہ میں یہ نام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کتاب برنباس میں درج کر دیا ہو گا یا خود کتاب تالیف کر دی ہو گی۔
گویا مسلمان لوگ کسی رات کو اتفاق کر کے مسیحی کتب خانوں میں جا گھسے اور اپنی طرف سے بر بناس کی انجیلوں میں جابجا محمد نبی نام درج کر دیا یا خود یونانی یا عبرانی زبانوں میں اپنی طرف سے انجیل برنباس بناکر اور کئی ہزار نسخے اس کے لکھ کر پوشیدہ طور پر جبکہ عیسائی سوتے تھے وہ کتابیں ان کے کتب خانوںمیں رکھ آئے لیکن ایک انگریز فاضل عیسائی جس نے کچھ تھوڑا عرصہ ہوا قرآن شریف کا انگریزی میںترجمہ کیا ہے اس نے اپنے دیباچہ میں اس تقریب کے بیان میں کہ انجیل برنباس میں پیش گوئی حضر ت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں موجود ہے یہ قصہ تحریر کیا ہے کہ برنباس کی انجیل پوپ پنجم کےکتب خانہ میں تھی اور ایک راہب جو اس پوپ کا دوست تھا اور مدت سے اس انجیل کی تلاش میں تھا۔وہ پوپ کی الماری میں جبکہ پوپ سویا ہوا تھا اس انجیل کو پا کر بہت خوش ہوا اور کہا کہ یہ میری وہ مرادہے جو مدت کے بعد پوری ہوئی اور اس انجیل کو اپنے دوست پوپ کی اجازت سے لے گیا اور نام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھلا کھلا انجیل میں لکھا ہوا دیکھ کرمسلمان ہو گیا پس اس فاضل انگریز کی اس تحریر سے جو ہمارے پاس موجود ہے صاف معلوم ہوتا ہےکہ ہمیشہ یہ کتاب پوپوں کے کتب خانوں میں چاروں انجیلوں میں شامل کر کے عزت کے ساتھ رکھی جاتی تھی تبھی تو ایسے ایسے بزرگ اور فاضل راہب اس انجیل کو پڑھ کر مسلمان ہوتے تھے اس انگریز کانام جارج سیل صاحب ہے جو اکابر علماء عیسائیوں سے ہے ان کا ترجمہ قرآن شریف جو ان کی طرف سےشائع ہو کر مطبع لندن فریڈرک وارن اینڈ کمپنی میں چھپا ہے اس کے پہلے دیباچہ میں مؤلف موصوف نے یہ عجیب تذکرہ کہ ایک بزرگ راہب انجیل بر بناس پڑھ کر اور اس میں پیشگوئی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کھلے کھلے طور پر پاکر مسلمان ہو گیا تھا اس طور سے (جو نیچے لکھا جاتا ہے) بیان کیا ہے۔فرامیر مینو جو ایک عیسائی مانک یعنی ایک بزرگ راہب تھا وہ بیان کرتا ہے کہ اتفاقیہ مجھ کو ایک تحریر آبرنس صاحب کی (جو ایک فاضل مسیحیوں سے ہے) منجملہ اس کی اور تحریروں کے جن میں وہ پولوس کے بر خلاف ہے نظر سے گزری اس تحریر میں آبرنس صاحب (جو پولوس عیسائی کے مخالف ہیں) اپنے بیان کی صداقت کی بابت انجیل برنباس کا حوالہ دیتے ہیں۔تب میں اس بات کا نہایت شائق ہوا کہ انجیل برنباس کو میں بھی دیکھوں اور اتفاقاً تقریب یہ نکل آئی کہ خدا تعالیٰ کے فضل و کرم نےپوپ پنجم کا مجھ سے اتحاد و دوستانہ کرادیا۔ایک روز جبکہ پوپ موصوف کے کتب خانہ میں ہم دونوںاکٹھے تھے اور پوپ صاحب سو گئے تھے میں نے دل بہلانے کو ان کی کتابوں کا ملاحظہ کرنا شروع کیا سوسب سے پہلے جس کتاب پر میرا ہاتھ پڑا وہ وہی انجیل برنباس تھی جس کا میں متلاشی تھا۔اس کے مل جانے سے مجھے نہایت درجہ کی خوشی پہنچی اور میں نے یہ نہ چاہا کہ ایسی نعمت کو آستین کے نیچے چھپارکھوں۔تب میں پوپ صاحب کے جاگنے پر ان سے رخصت ہو کر وہ آسمانی خزانہ اپنے ساتھ لے گیاجس کے پڑھنے سے مجھے دین اسلام نصیب ہوا۔دیکھو صفحہ دہم ۰ اسطر چہارم ۴ ترجمہ قرآن شریف جارج سیل صاحب۔پھر صفحہ ۵۸ سطر ۲۴۔اسی ترجمہ میں جارج سیل صاحب اپنے عیسائی تعصب کےجوش سے یہ بے دلیل اور مہمل رائے لکھتے ہیں کہ معلوم ہوتا ہے کہ انجیل برنباس میں لفظ پیری قلیط(جس کا ترجمہ محمد ہے) مسلمانوں نے داخل کر دیا ہو گا مگر یقین کیا جاتا ہے کہ یہ کتاب اصلی جعل مسلمانوں کا نہیں۔یعنی مسلمانوں نے اس میں صرف اس قدر جعل کیا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کےآنے کی پیش گوئی بتصریح نام اس میں لکھ دی ہے اور جعل یہ اس لئے ٹھہرا کہ یہ پیشگوئی صریح صریح اس میں موجود ہے جس کا ماننا حضرات عیسائیوں کو کسی طور سے منظور ہی نہیں اور لطف یہ کہ آپ ہی اقراری ہیں کہ اس پیش گوئی کو پڑھ کر بڑے بڑے نیک بخت اور فاضل راہب مسلمان ہوتے رہے ہیںفتد بر۔منہ‘‘
(سرمہ چشم آریہ روحانی خزائن جلد 2، حاشیہ صفحہ 287-290)
مصداق اسم محمد صلی اللهعلیہ وسلم :
سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی متعدد تحریرات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام مبارک محمد و احمد رکھےجانے میں پنہاں حکمتوں کو نہایت لطیف پہلوؤں سے بیان فرمایا ہے۔ذیل میں آپ کی چند تحریرات درج کی جاتی ہیں۔
سراپا محمد
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا:
رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے واقعات پیش آمدہ کی اگر معرفت ہو اور اس بات پر پوری اطلاع ملے کہ اس وقت دنیا کی کیا حالت تھی اور آپ نے آکر کیا کیا؟ تو انسان وجد میں آکر اللھم صل علے محمد کہہ اٹھتا ہے۔میں سچ سچ کہتا ہوں۔کہ یہ خیالی اور فرضی بات نہیں ہے۔قرآن شریف اور دنیاکی تاریخ اس امر کی پوری شہادت دیتی ہے کہ نبی کریم نے کیا کیا۔ورنہ وہ کیا بات تھی کہ جو آپ کےلئے مخصوصاً فرمایا گیا إِنَّ اللهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يٰٓاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلَّمُوا تَسْلِيمًا (الاحزاب:57) کسی دوسرے نبی کے لئے یہ صدا نہیں آئی۔پوری کامیابی پور ی تعریف کے ساتھ یہی ایک انسان دنیا میں آیا جو محمد کہلایا، صلی اللہ علیہ والہ وسلم۔عادت اللہ اسی طرح پر ہے۔زمانہ ترقی کرتا ہے۔آخر وہ زمانہ آگیا جو خاتم النبین کا زمانہ تھا جو ایک ہی شخص تھا۔جس نے یہ کہا : قُلْ یٰٓا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا (7:159) کہنے کو تو یہ چند الفاظ ہیں۔اور ایک اندھا کہہ سکتا ہے کہ معمولی بات ہے مگر جو دل رکھتا ہے وہ سمجھتا ہے اور جو کان رکھتا ہے وہ سنتا ہے۔جوآنکھیں رکھتا ہے وہ دیکھتا ہے۔کہ یہ الفاظ معمولی الفاظ نہیں ہیں۔میں کہتا ہوں کہ اگر یہ معمولی لفظ تھے ، تو بتلاؤ کہ موسیٰ علیہ السلام کو یا مسیح کو یا کسی نبی کو بھی یہ طاقت کیوں نہ ہوئی کہ وہ یہ لفظ کہہ دیتا۔اصل یہی ہے کہ جس کو یہ قوت یہ منصب نہیں ملاوہ کیونکر کہہ سکتا ہے۔میں پھر کہتا ہوں کہ کسی نبی کویہ شوکت یہ جلال نہ ملا جو ہمارے نبی کریم کو ملا۔بکری کو اگر ہر روز گوشت کھلاؤ، تو وہ گوشت کھانےسے شیر نہ بن سکے گی۔شیر کا بچہ ہی شیر ہو گا۔پس یاد رکھو کہ یہی بات سچ ہے کہ اس نام کا مستحق اورواقعی حقدار ایک تھا۔جو محمد کہلایا۔یہ داد الہی ہے۔جس کے دل و دماغ میں چاہے۔یہ قوتیں رکھ دیتی ہے اور خداخوب جانتا ہے کہ ان قوتوں کا محل اور موقعہ کونسا ہے۔ہر ایک کا کام نہیں کہ اس راز کو سمجھ سکے اور ہر ایک کے منہ میں وہ زبان نہیں جو یہ کہہ سکے کہ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا جب تک روح القدس کی خاص تائید نہ ہو یہ کام نہیں نکل سکتا۔رسول اللہ میں وہ ساری قوتیں اور طاقتیں رکھی گئی ہیں جو محمد بنا دیتی ہیں تا کہ بالقوۃ باتیں بالفعل میں بھی آجاویں، اس لئے آپ نے یہ دعویٰ کیا کہ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا ایک قوم کے ساتھ جو مشقت کرنی پڑتی ہے۔تو کس قدر مشکلات پیش آتی ہیں۔ایک خدمت گار شریر ہو تو اس کا درست کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔آخر تنگ اور عاجز آکر اس کو بھی نکال دیتا ہے۔لیکن وہ کس قدر قابل تعریف ہو گا جو اسے درست کر لے اور پھر وہ تو بڑا ہی مرد میدان ہے جو اپنی قوم کو درست کر سکے ، حالانکہ یہ بھی کوئی بڑی بات نہیں۔مگر وہ جو مختلف قوموں کی اصلاح کے لئے بھیجا گیا۔سوچو تو سہی کس قدر کامل اور زبر دست قویٰ کا مالک ہو گا۔مختلف طبیعت کے لوگ،مختلف عمروں، مختلف ملکوں، مختلف خیال، مختلف قوی کی مخلوق کو ایک ہی تعلیم کے نیچے رکھنا اور پھر ان سب کی تربیت کر کے دکھا دینا اور وہ تربیت بھی کوئی جسمانی نہیں بلکہ روحانی تربیت، خداشناسی اورمعرفت کی باریک سے باریک باتوں اور اسرار سے پورا واقف بنا دینا اور نری تعلیم ہی نہیں بلکہ عامل بھی بنا دینا یہ کوئی چھوٹی سی بات نہیں ہے۔دنیا کے لئے اجتماع بھی ہو سکتے ہیں۔کیونکہ ان میں ذاتی مفاد اوردنیوی لالچ کی ایک تحریک ہوتی ہے۔مگر کوئی یہ بتلائے کہ محض اللہ کے لئے پھر ایسے وقت میں کہ اس جلالی نام سے کل دنیانا واقف ہو اور پھر ایسی حالت میں اس کا اقرار کرنا کہ دنیا کی تمام مصیبتوں کو اپنےسر پر اٹھا لینا ہو۔کون کسی کے پاس آسکتا ہے۔جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے بلانے والے کی عظیم الشان قوت جذب کی نہ ہو کہ بے اختیار ہو ہو کر دل اس کی طرف بھیج آویں اور وہ تمام تکلیفیں اوربلائیں ان کے لئے محسوس اللذات اور مدرک الحلاوت ہو جاویں۔اب رسول اللہ علیہ وسلم اور آپ کی جماعت کی طرف غور کرو تو پھر کیسا روشن طور پر معلوم ہو گا کہ آپ ہی اس قابل تھے کہ محمد نام سےموسوم ہوتے اور اس دعویٰ کو جیسا کہ زبان سے کیا گیا تھا۔إنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا اپنے عمل سے بھی کر دکھاتے؛ چنانچہ وہ وقت آگیا کہ اِذا جَاءَ نَصْرُ الله وَالفتحُ وَرَايتَ النَّاسَ يَدخلُونَ فِي دین الله أفواجاً (النصر: 302) اس میں اس امر کی طرف صریح اشارہ ہے کہ آپ اس وقت دنیا میں دین آئے جب دین اللہ کو کوئی جانتا بھی نہ تھا اور عالمگیر تاریکی پھیلی ہوئی تھی اور گئے اس وقت کہ جبکہ اس نظارے کو دیکھ لیا کہ یدخلون في دِينِ اللهِ اَفوَاجاً۔جب تک اس کو پورا نہ کر لیا۔نہ تھکے نہ ماندےہوئے۔مخالفوں کی مخالفتیں، اعداء کی سازشیں اور منصوبے، قتل کرنے کے مشورے، قوم کی تکلیفیںآپ کے حوصلہ اور ہمت کے سامنے سب ہیچ اور بے کار تھیں۔اور کوئی چیز ایسی نہ تھی جو آپ کو اپنےکام سے ایک لمحہ کے لئے بھی روک سکتی ! اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس وقت تک زندہ رکھا۔جب تک کہ آپ نے وہ کام نہ کر لیا جس کے واسطے آئے تھے۔یہ بھی ایک سرّہے کہ خدا کی طرف سے آنےوالے جھوٹوں کی طرح نہیں آتے۔اسی طرح پر آپ کے صدق نبوت پر آپ کی زندگی سب سے بڑانشان ہے۔کوئی ہے جو اس پر نظر کرے ؟ آپ کو دنیا میں ایسے وقت پر بھیجا کہ دنیا میں تاریکی چھائی ہوئی تھی اور اس وقت تک زندہ رکھا کہ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي (المائدہ: 4) کی آواز آپ کو نہ آگئی اور فوجوں کی فوجیں اسلام میں داخل ہوئیں آپ نے نہ دیکھ لیں۔غرض اس قسم کی بہت سی وجوہ ہیں، جن سے آپ کا نام محمد رکھا گیا“
( ملفوظات [2003 ایڈیشن] جلد 1 صفحہ 421-422)
(سیرت النبی ﷺ ، صفحہ44 تا48 ، مطبوعہ کینیڈا 2018)
چ چ چ