اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2026-06-18

سیرت النّبیﷺ از تحریرات و فرمودات ( سیّدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ) (تحقیق و ترتیب : مکرم آصف احمد خان صاحب)

(قسط نمبر12)
باب دوم
ولادت، بچپن، جوا نی
سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے آنحضورﷺکے ابتدائی حالات یعنی ولادت باسعادت، رضاعت و ایام طفولیت جوانی اور شادی کے حالات و واقعات پر مختلف پہلووں سے روشنی ڈالی ہے اس باب میں ولادت تاقبل نزول وحی کے حالات بیان کئے گئے ہیں۔
ولادت با سعادت:
کتب تاریخ و سیرت میں آپ ﷺ کی ولادت و بچپن کے متعلق جو کچھ بیان کیا گیا ہے ان واقعات سے آپ نےاپنی تحریرات و فرمودات میں سیرت کے نہایت اعلیٰ پہلووں کو منکشف فرمایا ہے۔ایک جگہ آپ فرماتے ہیں۔
” وہی خدا جو تجھے دیکھتا ہے جب تو دعا اور دعوت کے لئے کھڑا ہوتا ہے وہی خدا جو تجھے اسوقت دیکھتا تھاکہ جب تو تخم کے طور پر راستبازوں کی پشتوں میں چلا آتا تھا۔یہاں تک کہ اپنی بزرگ والدہ آمنہ معصومہ کے پیٹ میں پڑا“
( تریاق القلوب روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 281)
بر ہمو سماج کے ایک پر چارک نے آنحضور ﷺنام کی سیرت کے متعلق ایک کتاب بعنوان، سوانح عمری حضرت محمدصاحب تحریر کی جس میں انہوں نے عموماً بہت اچھے رنگ میں سیرت النبیﷺ کے واقعات درج کئے ہیں۔آپ نے اس کتاب کو پسند فرمایا اور اسکے متعلق فرمایا کہ ”مولف کتاب نے اپنی دیانت داری اور انصاف پسندی اورحق گوئی اور بے تعصبی کا عمدہ نمونہ دکھلایا ہے“
(روحانی خزائن جلد 23 چشمہ معرفت صفحہ 255)
حضور نے بطور نمونہ اس کتاب کی چند تحریرات کو چشمہ معرفت میں درج فرمایا ہے۔ان منتخب حصوں میں ایک جگہ درج ہے۔
’’غرض جس وقت عرب کی یہ حالت تھی جو اوپر مذکور ہوئی تب حضرت محمد صاحب عرب کے ایک مشہور اور معروف قبیلہ قریش کی شاخ بنی ہاشم میں پیدا ہوئے اور چونکہ آپ کے والدین بچپن میں ہی فوت ہو چکے تھے اس لئے آپ کو اس قدر تعلیم پانے کا بھی موقعہ نہ ملا کہ وہ ماں باپ کے زیر سایہ اپنی مادری زبان کو سیکھ سکتے بلکہ پیدا ہوتے ہی دودھ پلانے کے لئے ایک دیہاتی اور گنوار دایہ کے سپر دکئےگئے اور دن رات ایک گنواری زبان سے ان کو واسطہ پڑا“
(روحانی خزائن جلد 23 چشمہ معرفت صفحہ 256)
تاریخ اسلام اور سیرت النبی کی ابتدائی کتب میں نبی اکرم ﷺ کی تاریخ ولادت معین طور پر درج نہیں ہے لیکن بعد کے مورخین و محققین نے اصل تاریخ ولادت معلوم کرنے کی کوشش کی ہے۔اگر چہ اس میں بھی اختلاف موجود ہے۔بعض مورخین نے یہ تاریخ ولادت بیان کی ہے جو درست معلوم ہوتی ہے 9ر بیع الاول بمطابق 20اپریل 571 بروز پیر آنحضور ﷺ کی ولادت کے وقت رونما ہونے والے بہت سے واقعات بیان کئے جاتےہیں کہ ایک نور نے بصری کے محلات کو روشن کر دیا۔ آپ کی ولادت کے وقت فارس کے ایوانوں میںزلزلہ آیا جس سے اس کے 14 ستون ٹوٹ گئے اور فارس کے مقدس آتشکدوں کی آگ بجھ گئی۔ نیز یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ آپؐمختون پیدا ہوئے’’میں دیکھتا ہوں گرمیوں کو بھی روحانی ترقی کے ساتھ خاص مناسبت ہے آنحضرت ﷺکو دیکھو کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے مکہ جیسے شہر میں پیدا کیا اور پھر آپ ان گرمیوں میں تنہا غارِ حرا میں جا کر اللہ تعالی کی عبادت کیا کرتے تھے وہ کیسا عجیب زمانہ ہو گا۔آپ ہی ایک پانی کا مشکیزہ اُٹھا کر لے جاتے ہوں گے “
(ملفوظات [2003 ایڈیشن] جلد 4 صفحہ 316)
اسم محمد واحمد :
سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی تحریرات میں نہایت تفصیل سے آنحضور ﷺ کا نام مبارک محمد اور احمد رکھے جانے کے متعلق پُر معارف نکات بیان فرمائے ہیں۔
الہامی نام:
حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا:
’’یہی مثیل موسیٰ تھا جس کا نام محمدؐ ہے۔اس نام کا ترجمہ یہ ہے کہ نہایت تعریف کیا گیا۔خدا جانتا تھا کہ بہت سے نافہم مذمت کرنے والے پیدا ہوں گے اس لئے اس نے اس کا نام محمد رکھ دیا۔جبکہ آنحضرت شکم آمنہ عفیفہ میں تھے۔تب فرشتہ نے آمنہ پر ظاہر ہو کر کہا تھا کہ تیرے پیٹ میں ایک لڑکا ہے جو عظیم الشان نبی ہو گا اس کا نام محمد رکھنا“
(تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد 15، صفحہ 522)
اسی طرح ایک اور جگہ فرمایا:
’’پیغمبر خداﷺ کے وقت میں لوگ تو آپ کی مذمت کیا کرتے تھے مگر آپ ہنس کر فرمایا کرتےتھے کہ ان کی مذمت کو کیا کروں میرا نام تو خدا نے اول ہی محمدﷺرکھ دیا ہوا ہے “۔
(ملفوظات [2003 ایڈیشن] جلد 3 صفحہ 59)
کتب احادیث وسیرت سے بھی یہی بات عیاں ہے کہ یہ نام مبارک الہامی ہے۔نیز اس کے الہامی ہونے کا سب سے بڑا ثبوت ان ناموں کا قرآن میں وارد ہونا ہے۔قرآن کریم میں اسم محمدتین دفعہ آیا ہے اور ایک دفعہ اسم احمدآیا ہے۔
ان ناموں کے الہامی ہونے کے متعلق کتب احادیث و سیرت میں سے چند روایات یہ ہیں۔عن ابی جعفرا بن محمد بن عَلى أُمِرَتْ آمِنۃ وهيَ حَامِلَۃ بِرَسُولِ اللهِ أَن تُسَمِّيهِ احمد - یعنی جب حضرت آمنہ رسول اللہ صلی علیہ وسم کے حمل سے تھیں تو انہیں یہ حکم دیا گیا کہ آپ کا نام احمد ر کھیں سیرت النبیﷺ ابن ھشام میں روایت درج ہےكم حين حملت (اٰمنۃ) برسُولِ اللهِ فقيلَ لَهَا إِنك قد حملت بسّيدِ هذهِ الأُمةِ فإِذا وَقَع إلى الارضِ فقولی اعیذ بالواحدِمِن شَرِّ كلّ حاسِدٍثم سمّيه محمدًا یعنی جب حضرت آمنہ آنحضور صلی ﷺ کے حمل سے تھیںتو ان کو کہا گیا کہ یقینا آپ اس اُمت کے سردار کی ماں بننے والی ہیں پس یہ کہو کہ میں ہر شر سے خدائے واحد کی پناہ مانگتی ہوں اور اس بچہ کا نام محمد رکھو۔اس روایت اور اس قسم کی متعدد روایات جو کتب سیرت میں موجود ہیں سےصاف ظاہر ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام احمد اور محمد الہامی نام تھے پھر کتب سیرت میں ایک روایت یہ بھی ہے کہ
عبد المطلب کو یہ نام خواب کے ذریعہ بتایا گیا۔اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت پر سیدہ آمنہ سے کہا کہ اس بچہ کا نام محمد رکھیں ۔
آپ نے فرمایا:
حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دو ہی نام تھے۔محمد اور احمد صلی اللہ علیہ وسلم۔آنحضرت کا اسم اعظم محمد ہے۔صلی اللہ علیہ وسلم۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم اللہ ہے۔اسم اللہ دیگر کل اسماءمثلاً حی، قیوم، رحمن، رحیم وغیرہ کا موصوف ہے۔حضرت رسول کریم کا نام احمد وہ ہے۔جس کا ذکرحضرت مسیح نے کیا ياتي من بعدى اسمه أحمد (الصف:7) من بعدی کا لفظ ظاہر کرتا ہے کہ وہ نبی میرے بعد بلا فصل آئے گا۔یعنی میرے اور اسکے درمیان اور کوئی نبی نہ ہو گا۔حضرت موسیٰ نے یہ الفاظ نہیں کہے ، بلکہ اُنہوں نے مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ (سورۃ الفتح: 30) میں حضر ت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدنی زندگی کی طرف اشارہ کیا ہے۔جب بہت سے مؤمنین کی معیت ہوئی جنہوں نے کفار کے ساتھ جنگ کئے۔حضرت موسیٰ نے آنحضرت کا نام محمد بتلایا۔صلی اللہ علیہ وسلم۔کیونکہ حضرت موسیٰ خود بھی جلالی رنگ میں تھے۔اور حضرت عیسی نے آپ کا نام احمد بتلایا۔کیونکہ وہ خود بھی ہمیشہ جمالی رنگ میں تھے“
( ملفوظات [2003 ایڈیشن] جلد 1 صفحہ 443-444)
(سیرت النبی ﷺ ، صفحہ41 تا43 ، مطبوعہ کینیڈا)
ز ز ز