باب اول (قسط نمبر10)
عرب و عجم قبل از اسلام
آنحضور ﷺ کے آباء واجداد
سیّدالکونین حضرت محمد ﷺ کا مطہّر نسب:
جیسا کہ آپؑنے آنحضور ﷺ کی علو ّ نسبی قرآن کریم اور تاریخ عرب کی رو سے بیان فرمائی ہے اور بالخصوص جن آیات کا ذکر فرمایا ہے یعنی (توبہ: 128 اور الشعراء : 218، 220) ہیں اور دیگر بزرگ مفسرین نے بھی ان آیات کا یہی مضمون بیان کیا ہے مثلاً علامہ ابن کثیر لَقَدْ جَاءَکُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِکُمْ (توبہ:128) کی تفسیر میں بیان کرتے ہیں کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ مومنین پر احسان ظاہر فرماتا ہے کہ ہم نے تمہارے لئے تمہاری ہی طرح کا ایک رسول بھیجا ہے جیسا کہ ابراہیم علیہ السلام نے دعا مانگی تھی رَبَّنَا وَابعَث فِیھم رَسُولًا مِنھم اور وَلَقد مَنَّ اللہ علیٰ المومنین اور لَقَدْ جَاءَکُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِکُمْ جعفر بن ابی طالبؓنے نجاشی سے اور مغیرہؓنے سفیر کسرٰی سے کہا تھا اللہ نے ہم میں ہماری ہی قوم کا ایک رسول بھیجا ہے جس کے نسب سے ہم واقف ہیں جس کی صفات جانتے ہیں جس کے اٹھنے بیٹھنے اور صدق امانت سے ہم واقف ہیں زمانہ جاہلیت سے بھی جس کے خاندان پر کوئی دھبہ نہیں ہے۔ اس مضمون کو اسی آیت ’’ لَقَدْ جَاءَکُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِکُمْ‘‘کے تحت امام فخرالدین رازیؒ نے بھی بیان کیا ہے اور انہوں نے اس کی دوسری قرأت جس کا ذکر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کا بھی ذکر کیا ہے۔ چنانچہ امام فخرالدین رازیؒ تحریر کرتے ہیں کہ ۔ ’’ آن المقصودمن ذكر هذه الصّفةُ التنبيه على طهارتِهِ كَانّ قِيلَ هُوَ مِنْ عَشيَرتِكَم تَعرفونه بالصدق والامانة والعفافِوالصيانة۔۔۔و قُرِئَ مِن أَنفُسَكُمْ أَى مِنْ اَشرَفكُم وأفضلكُم وقيل هِيَ قِرائہ رسُولِ اللهِ وَ فاطمہ وَ عائشہ یعنی مقصود آپ ﷺ کی اس صفت کے بیان کا یہ ہے تا آپ ﷺ کی پاکیزگی بیان ہو جیسا کہ بیان کیا گیا ہے آپ ﷺ تمہارے ہی قبیلہ میں سے ہیں اور تم ان کے صدق و امانت و عفت و صیانت سے خوب واقف ہو.... اور اس آیت کو مِن اَنفَسَکُم بھی پڑھا گیا ہے۔ اور یہ قرائت رسول اللہ ﷺ و فاطمہؓ و عائشہؓ کی ہے۔
محفوظ نسب:
کسی بھی خاندان کے نسب کا شرف اس بات کو بھی سمجھا جاتا ہے کہ اس خاندان کا نسب کتنی پشتوں تک معلوم و محفوظ ہے۔ جس خاندان کا نسب جتنی دُور کی پشتوں تک معلوم و محفوظ ہو وہ اتنا ہی معزز سمجھا جاتا ہے اور وہ افراد، قوم یا خاندان جس کا نسب بھی محفوظ ہو اور خالص بھی ہو اس کی تمام پشتوں میں بکثرت نیک کردار لوگ موجود ہوں وہ قوم حسب و نسب کے لحاظ سے بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہے۔ دنیا کی تمام قدیم اقوام میں سے ایک حضرت محمد ﷺ کا خاندان ہی ایسا ہے جس کا نسب ابتدا سے لیکر انتہا تک محفوظ اور خالص ہے اور نیک کردار لوگوں حتی کہ ملہمین سے پُر رہا ہے۔ تاریخ کی متعدد کتب میں نبی اکرم ﷺ کا نسب نامہ درج ہے ’’ محمد ﷺ بن عبداللہ بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبد مناف بن قصیّ بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لوئی بن غالب بن فہر بن مالک بن عدنان بن اسماعیلؑ بن ابراہیمؑ ‘‘ یہ نسب نامہ جملہ کتب تاریخ میں بغیر کسی اختلاف کے موجود ہے۔ اور یہ عرب میں ایسا مشہور و معروف تھا کہ جس میں کوئی شبہ نہ تھا۔ نسب نامہ معلوم و محفوظ رہنے کی ایک وجہ یہ تھی کہ عرب معاشرہ میں نسب نامہ یاد رکھنا ایک رواج تھا اور جس شخص کا نسب معلوم نہ ہوتا اس کی کوئی عزت نہ ہوتی تھی۔ اگرچہ نسب نامہ یاد رکھنے کا رواج تھا لیکن بعض لوگ اس فن میں مہارت کی خاص شہرت بھی رکھتے تھے۔ اگر کسی شخص کے نسب کا کوئی معاملہ درپیش آتا تو لوگ ان ماہرین انساب کی طرف رجوع کرتے تھے۔
نسب مبنی برنکاح:
آنحضور ﷺ کو نسب کے لحاظ سے یہ بھی شرف حاصل ہے کہ آپﷺ کا خاص سلسلہ آباء نکاح پر مبنی ہے۔ جیسا کہ آپ ﷺ نے فرمایا ’’خَرجت من نكاح۔ولم اخرجُ مِن سفاح مِن لَدُن آدمَ لم يُصِبنِي مِن سفاحأهل الجاهلية شئى لم اخرج الا من طهره‘‘ یعنی میری پیدائش نکاح سے ہوئی۔ میں گناہ سے نہیں پیدا ہوا۔ آدم سے لے کر یہاں تک کہ زمانہ جاہلیت میں بھی میرے سلسلہ آباء میں گناہ کا شائبہ تک نہیں۔ میں اس سلسلہ آباء کے پاک تخم سے ہی ہوا ہوں۔
مطہّر سلسلہ اُمّہات:
آنحضور ﷺ کا سلسلہ نسب جس طرح والد کی طرف سے مطہّر ہے اسی طرح والدہ کی طرف سے بھی پشت در پشت مطہر ہے۔ مثلاً ھشام بن محمد اپنے والد کے متعلق بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے آنحضور ﷺ کے نسب نامہ میں 500 ماؤں کے نام لکھے ان میں سے ایک کے متعلق بھی سفاح یعنی گناہ کا شائبہ تک نہ تھا۔ حتیّ کہ خاص زمانہ جاہلیت میں بھی۔ تاریخ و سیرت کی متعدد کتب میں بیان کیا گیا ہے کہ آپ ﷺ اپنی جدّات یعنی دادیوں پر فخر کیا کرتے تھے کیونکہ آپؐکی تمام نسبی دادیاں نہایت پاکباز تھیں اور ان کی اولاد معروف نکاح کے نتیجہ میں ہوئی۔ آپؐفرمایا کرتے تھے میں عواتک اورفواطم کی اولاد ہوں۔ عواتک عاتکہ کی جمع ہے جس کے معنی پاکدامن کے ہیں اور فواطم فاطمہ کی جمع ہے جس کے معنی ایسی اونٹنی کے ہیں جس کا دودھ چھڑایا گیا ہو۔ اور عرب میں فاطمہ نیک خواتین کا لقب ہوا کرتا تھا۔
شرک سے پاک سلسلہ آباء:
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے:
’’ عرب کی تاریخ دیکھنے سے ثابت ہوتا ہے کہ بجز آنحضرت ﷺ کے سلسلہ اجداد کے جن کو اللہ جلّ شانہ نے اپنے خاص فضل و کرم سے شرک اور دوسری بلاؤں سے بچائے رکھا باقی تمام لوگ عیسائیوں کے بدنمونہ کو دیکھ کر اور ان کی چال چلن کی بدتاثیر سے متاثر ہو کر انواع اقسام کے قابل شرم گناہوں اور بدچلنیوں میں مبتلا ہوگئے تھے۔‘‘
(نور القرآن۔ روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 341 حاشیہ)
’’ چونکہ آنحضرت ﷺ اور آپ کی والدہ ماجدہ کے متعلق کبھی کسی کافر کو ایسا وہم و گمان بھی نہ ہوا تھا بلکہ سب کے نزدیک آپؐاپنی ولادت کی رُو سے طیّب اور طاہر تھے اور آپؐکی والدہ عفیفہ اور پاک دامن تھیں اس لئے آپؐکی نسبت یا آپؐکی والدہ ماجدہ کی نسبت ایسے الفاظ بیان کرنے ضروری نہ تھے کہ وہ مس ّ شیطان سے پاک ہیں۔‘‘
(ملفوظات [2003 ایڈیشن] جلد 5 صفحہ 343)
اور پھر الَّذِی یَرَاکَ حِینَ تَقُومُ وَتَقَلُّبَکَ فِی السَّاجِدِینَ (الشعراء :218، 220) کی تشریح میں آپ ﷺ کے مقدس و مطہّر نسب اور علّو خاندان ہونا ثابت کیا ہے۔ اسی طرح اس مضمون کو دوسرے مفسرین نے بھی بیان کیا ہے۔ یہاں یہ سوال ذہن میں پیدا ہوتا ہے کہ جب ہم عرب کی تاریخ پڑھتے ہیں تو مجموعی طور پر تمام عرب اور حتی کہ نسل اسماعیلؑ کے مولد و مسکن مکّہ اور اس کے باسی قریش بھی اسی شرک میں مبتلا نظر آتے ہیں پھر آپ کے خاندان کاشرک سے محفوظ رہنا کیسے ممکن ہوا۔ یہاں یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ آنحضرت ﷺ کے سلسلہ اجداد سے مراد تمام قریش نہیں بلکہ وہ خاص لڑی ہے جس کا ذکر وَتَقَلُّبَکَ فِی السَّاجِدِینَ میں ہوا ہے۔ جس میں آپ ﷺ کا مقدس تخم پشت در پشت منتقل ہوتا رہا۔ اس سلسلہ میں آپ ﷺ کے چچاؤں کا ہونا ضروری نہیں۔ اسی طرح آپ ﷺ کے سلسلہ آباء میں اگر کوئی عم (چچا) مشرک بھی ہو تو اس سے آپ ﷺ کے خاص سلسلہ آباء کی پاکیزگی پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ مثلاً آذر بھی عم ابراہیمؑ تھا حالانکہ قرآن میں ابراہیم کا باپ (اَب) کہا گیا ہے اور اس کا مشرک ہونا بھی قرآن سے ثابت ہے۔ لہٰذا سلسلہ آباء و اجداد سے یہاں مراد بالخصوص ایک معیّن لڑی ہے جسے خدا نے اپنے خاص فضل سے تمام نجاستوں سے محفوظ رکھا۔ جب ہم آنحضور ﷺ کے نسب نامہ کا بغور مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ہر دَور میں اس خاندان میں ایسے لوگ موجود رہے ہیں جو شرک اور دوسری بلاؤں اور نجاستوں سے بچائے گئے تھے۔ حضرت ابراہیم اور اسماعیل علیھما السلام کے قرب کے زمانہ میں تو لازماً اس خاندان میں توحید خالص پر قائم افراد بکثرت موجود ہوں گے۔ لیکن جب رفتہ رفتہ عرب میں شرک عام ہوتا گیا (جس کے اصل محرک عیسائی تھے) اور جاہلیت عروج پر پہنچ گئی حتّی کہ مکہ بھی بتوں کا تیرتھ بن گیا ۔ اس دَور میں بھی اس خاندان میں توحید پرست بلکہ الہام کا درجہ پانے والے افراد موجود نظر آتے ہیں۔
(سیرت النبی ﷺ ، صفحہ32 تا35 ، مطبوعہ کینیڈا 2018)
ززز