باب اول (قسط نمبر8)
عرب و عجم قبل از اسلام
آنحضور ﷺ کے آباء واجداد
آباء و اجداد:
آنحضور ﷺ کے آباء اجداد نسب و حسب ہر دو لحاظ سے سب سے اعلیٰ تھے۔ ابوالانبیاء حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جو دعائیں مانگی تھیں وہ حضرت اسحٰق ؑ کے حق میں بھی پوری ہوئیں اور لازم تھا کہ حضرت اسماعیلؑ کے حق میں بھی پوری ہوتیں۔ حضرت اسحٰق ؑ کی نسل سے پے درپے نبی برپا ہوئے اور حضرت اسماعیلؑ کی نسل سے نبیوں کے سردار حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ مبعوث ہوئے۔ حضورؑ نے اپنی تحریرات میں حضرت ابراہیمؑ، حضرت اسحٰق ؑاور حضرت اسماعیلؑ کے متعلق نیز حضرت ہاجرہؑ اور حضرت سارہؑ کے متعلق نہایت اہم حقائق پر روشنی ڈالی ہے۔ جن میں کچھ ذیل میں درج ہیں:
آنحضور ﷺ کا نسل اسماعیلؑ سے ہونا:
سیّدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ ان لوگوں کی مثال اُن یہودی فقہاء کے ساتھ دی جاسکتی ہے جو کہ بنی اسرائیل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے پہلے گذر چکے تھے اور ان کا عقیدہ پختہ تھا کہ آخری نبی جو آنے والا ہے وہ حضرت اسحٰق ؑکی اولاد میں سے ہوگا اور اسرائیلی ہوگا وہ مرگئے اور بہشت میں گئے، لیکن جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور سے یہ مسئلہ روشن ہوگیا کہ آنے والا آخری نبی بنی اسمٰعیل میں سے ہے اور ایسا ہی ہونا چاہئے تھا تب بنی اسرائیل میں سے جو لوگ ایمان نہ لائے وہ کافر قرار دیئے گئے اور لعنتی ہوئے اور آج تک ذلیل اور خوار اور دربدر مصیبت زدہ ہوکر پھر رہے ہیں‘‘
(ملفوظات [2003 ایڈیشن] ۔ جلد 5 صفحہ 64)
آنحضور ﷺ کے ظہور مبارک سے قبل تک بنی اسرائیل کا ایمان تھا کہ وہ عظیم نبی جو مبعوث ہونے والا ہے بنی اسرائیل سے ہی ہوگا لیکن جب آپﷺ کا ظہور بنی اسماعیل میں ہوا اور علامات نبوت روشن ہوتی گئیں تو یہ عقدہ کھل گیا۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت کے یہود میں اس موعودہ نبی کے متعلق ان علامات کے علاوہ جو بائیبل میں موجود تھیں کچھ سینہ بہ سینہ روایات بھی مشہور تھیں جو یہ اشارہ کرتی تھیں کہ وہ نبی بنی اسماعیل میں سے ہوگا، یہاں تک کہ ان علامات سے اشارہ پاکر ان میں سے کچھ کو یہ تو معلوم ہوگیا کہ ظہور مبارک عرب بلکہ یثرب سے ہوگا اور اس بنا پر انکے کچھ قبائل نے یثرب اور اس کے قریبی علاقوں میں سکونت بھی اختیار کرلی۔ لیکن قوم پرستی نے ان کو یہ صداقت قبول کرنے سے روک دیا کہ بنی اسرائیل کے علاوہ انکے بھائیوں بنی اسماعیل میں نبی برپا ہوسکتا ہے۔ حالانکہ وہ تمام علامات آنحضور ﷺ میں موجود پاتے تھے۔
تمام منقولی و معقولی دلائل سے قریش کا نسل اسماعیلؑ ہونا ثابت ہے اس کے باوجود جب کوئی اور چارہ نہ رہا تو جدید زمانہ کے مورخین نے یہ کہنا شروع کردیا کہ قریش کا اسماعیلؑ سے کوئی تعلق نہیں۔ مثلاً ولیم میور نے لکھا کہ اسماعیل ؑکا عرب میں آباد ہونا اور قحطان عرب کے مورث اعلیٰ تھے اور قریش اسماعیلی روایات مثلاً کعبہ کا طواف حجر اسود کا بوسہ اور حج کے مناسک کے امین تھے وغیرہ تمام من گھڑت قصے ہیں۔ اسکے نزدیک عربوں میں یہ تمام رسوم و روایات یہودیوں سے سن کر راہ پاگئی ہوں گی۔ لیکن جیسا کہ سیّدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے آنحضور ﷺ نسل اسماعیلؑ سے تھے اس بات کے لئے کافی دلائل موجود ہیں جن میں سے چند یہاں پیش کئے جاتے ہیں۔ عرب کی تاریخ کا نہایت اہم ماخذ قرآن مجید ہے اور عرب کے جو تاریخی حقائق قرآن نے بیان فرمائے ہیں انہیں خود اس وقت کے عربوں نے بھی جھٹلایا نہیں تھا بلکہ اس سے متفق نظر آتے ہیں۔ قرآن مجید میں بھی قریش کو نسل اسماعیل سے قرار دیا گیا ہے۔
وَجَاہِدُوْا فِي اللہِ حَقَّ جِہَادِہٖ۰ۭ ہُوَاجْتَبٰىكُمْ وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّيْنِ مِنْ حَرَجٍ۰ۭ مِلَّـۃَ اَبِيْكُمْ اِبْرٰہِيْمَ۰ۭ ہُوَسَمّٰىكُمُ الْمُسْلِـمِيْنَ۰ۥۙ مِنْ قَبْلُ وَفِيْ ھٰذَا لِيَكُوْنَ الرَّسُوْلُ شَہِيْدًا عَلَيْكُمْ وَتَكُوْنُوْا شُہَدَاۗءَ عَلَي النَّاسِ۰ۚۖ فَاَقِيْمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّكٰوۃَ وَاعْتَصِمُوْا بِاللہِ۰ۭ ہُوَمَوْلٰىكُمْ۰ۚ فَنِعْمَ الْمَوْلٰى وَنِعْمَ النَّصِيْرُ (الحج:79)
اور اللہ کے تعلق میں جہاد کرو جیسا کہ اس کے جہاد کا حق ہے۔ اس نے تمہیں چن لیا ہے اورتم پر دین کے معاملات میں کوئی تنگی نہیں ڈالی۔ یہی تمہارے باپ ابراہیم کا مذہب تھا۔ اُس (یعنی اللہ) نے تمہارا نام مسلمان رکھا (اس سے ) پہلے بھی اور اس (قرآن) میں بھی تاکہ رسول تم سب پر نگران ہوجائے اور تاکہ تم تمام انسانوں پر نگران ہوجاؤ۔ پس نماز کو قائم کرو اور زکوٰۃ دو اور اللہ کو مضبوطی سے پکڑلو۔ وہی تمہارا آقا ہے۔ پس کیا ہی اچھا آقا اور کیا ہی اچھا مددگار ہے۔
حدیث کی روایات میں بھی بکثرت ایسی روایات موجود ہیں جن سے آنحضور ﷺ کا قریش میں سے ہونا ثابت ہے۔ مثلاً بخاری کتاب بدءالخلق میں ابن عباس سے مروی ایک لمبی روایت ہے جس میں حضرت ابراہیمؑ کا حضرت اسماعیلؑ او رحضرت ہاجرہؑ کو مکہ کی بے آب و گیاہ ویرانہ میں چھوڑنے اور مکہ شہر کی آبادی اور قریش کے تاریخی حالات تفصیل سے بیان کئے گئے ہیں۔ بخاری کتاب المناقب میں نبی اکرم ﷺ کا قریش میں سے ہونا اور قریش کا نسل اسماعیلؑ سے ہونا متعدد روایات میں مذکور ہے۔ عربوں کی تاریخ کا ایک اور نہایت اہم ماخذ ابتدائی مورخین کی کتب ہیں جن میں عربوں کی اپنی قدیم روایات بیان کی گئی ہیں اور ان کو نظر انداز کرکے عرب کی تاریخ کا مطالعہ ممکن نہیں۔ ان تمام کتب سے بھی یہی بات ثابت ہے کہ قریش نسل اسماعیلؑ سے ہیں مثلاً سیرت النبی لابن ہشام میں روایت ہے کہ قَالَ ابنُ ھشَامُ فَالْعَربُ کُلّھا مِنْ وُلدِ اِسمَاعِیل وَ قَحطَانَ۔ وَبَعضُ اَھلِ الْیَمَن یقُولُ قَحطَانَ مِنْ وُلدِ اِسمَاعِیل وَیقُول اِسمَاعِیل ُ ابُوالْعَربِ کُلّھا۔ طبقات ابن سعد میں آنحضورﷺ کے الفاظ میں بھی یہی بات بیان کی گئی ہے۔ بائبل سے بھی ثابت ہے کہ حضرت سارہؑ کی ناراضگی کی وجہ سے حضرت اسماعیلؑ اور ہاجرہؑ وطن سے بے وطن ہوئے تھے۔ اور دنیا میں صرف عرب ہی اپنے آپ کو انکی اولاد قرار دیتے ہیں اگر وہ بھی نہیں تھے تو سوال یہ ہے کہ پھر حضرت اسماعیلؑ اور ہاجرہؑ وطن سے بے وطن ہوکر کہاں گئے۔ مناسب ہے کہ یہاں بائیبل کی وہ عبارت تحریر کردی جائے جس میں یہ قصہ بیان ہوا ہے۔
’’ دوسرے دن صبح سویرے ہی ابراہام نے کچھ کھانا اور پانی کی مشک لیکر ہاجرہ کے کندھے پر رکھ دی۔ اوراسے اسکے لڑکے کے ساتھ وہاں سے رُخصت کردیا اور وہ چلی گئی اور بئرسبع کے بیابان میں آوارہ پھرنے لگی۔ جب مشک کا پانی ختم ہوگیا تو اس نے لڑکے کو ایک جھاڑی کے سایہ میں چھوڑ دیا اور خود وہاں سے تقریباً سوگز کے فاصلہ پر دور جاکر اس کے سامنے بیٹھ گئی اور سوچنے لگی کہ میں اس بچے کو مرتے ہوئے کیسے دیکھوں گی؟ اور وہ وہاں نزدیک بیٹھی ہوئی زار زار رونے لگی۔ خدا نے لڑکے کے رونے کی آواز سنی اور خدا کے فرشتہ نے آسمان سے ہاجرہ کو پکارا او راس سے کہا اے ہاجرہ، تجھے کیا ہوا؟ خوف نہ کر خدا نے اس جگہ سے جہاں لڑکا پڑا ہے اسکی آواز سن لی ہے لڑکے کو اٹھالے اور اس کا ہاتھ تھام کیونکہ میں اس سے ایک بڑی قوم پیدا کروں گا۔ تب خدا نے ہاجرہ کی آنکھیں کھولیں اور اس نے پانی کا ایک کنواں دیکھا۔ چنانچہ وہ گئی اور مشک بھر کے لے آئی اور لڑکے کو پانی پلایا۔ وہ لڑکا بڑا ہوتا گیا اور خدا اس کے ساتھ تھا۔ وہ بیابان میں رہتا تھا اور تیر انداز بن گیا۔ جب وہ فاران کے بیابان میں رہتا تھا تو اس کی ماں نے مصر کی ایک لڑکی سے اس کی شادی کردی‘‘
(پرانا عہد نامہ۔ پیدائش باب 21۔ آیت 14 تا 21)
بائیبل کے اس حصہ میں جس بئرسبع کا ذکر ہے اسکے متعلق سر سیّد احمد خان صاحب نے ایک مفید تحقیق کی ہے جو ان کی کتاب ’’خطبات احمدیہ‘‘ میں موجودہے۔ جہاں تک فاران کا تعلق ہے اسلامی مورخین اور جغرافیہ دانوں نے کافی تحقیق کی ہے جس سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ فاران سے مراد حجاز کی سززمین ہے۔ نیز بائیبل سے یہ ثابت ہے کہ قیدار کی نسل عرب میں آباد ہوئی تھی اور قیدار مسلّمہ طور پر نسل اسماعیلؑ سے تھا۔ الغرض کہ آنحضور ﷺ کا نسل اسماعیلؑ سے ہونا ایسا ثابت شدہ امر ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے۔ اس مضمون کے متعلق درج ذیل کتب میں نہایت تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔
(سیرت خاتم النبیینؐاز حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ۔ صفحہ 65 تا 73)
(فصل الخطاب از حضرت حکیم نورالدین صاحبؓ،
خلیفۃ المسیح الاول صفحہ 273 تا 283)
(الخطبات الاحمدیہ فی العرب والسیرت المحمدیہؐ
مصنفہ سرسید احمد خان صاحب۔ خطبہ نمبر8)
مکہ کی آبادی و سکونت حجاز:
ان صفحات میں حضورؑ کی تحریرات و فرمودات کی روشنی میں مکہ شہر کی آبادی کی عظیم الشان غرض و غایت، دعاء ابراہیمی کی قبولیت، ذبح عظیم کی برکات، اور سیدہ ہاجرہؑ کے بلند مرتبہ کا ذکر ہے۔
آپؑفرماتے ہیں:
’’ دیکھو حضرت ابراہیمؑ کا ابتلاء کہ بچے اور اس کی ماں کو کنعان سے بہت دور لے جانے کا حکم ہوا اور وہ ایسی جگہ تھی جہاں نہ دانہ تھا او رپانی۔ وہاں پہنچ کر حضرت ابراہیمؑ نے خدا کے حضور عرض کی کہ اے اللہ میں اپنی ذریت کو ایسی جگہ چھوڑتا ہوں جہاں دانہ پانی نہیں ہے۔ حضرت سارہ کا ارادہ یہ تھا کہ کسی طرح سے اسماعیل مرجائے، اس لئے اس نے حضرت ابراہیمؑ علیہ السلام سے کہا کہ اسے کسی بے آب و گیاہ جگہ میں چھوڑ آ۔ حضرت ابراہیمؑ کو یہ بات بری معلوم ہوئی، مگر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو کچھ سارہ کہتی ہے، وہی کرنا ہوگا۔ اس لئے نہیں کہ خدا تعالیٰ کو سارہ کا پاس تھا۔ حضرت سارہ نے اس واقعہ سے پہلے بھی ایک دفعہ حضرت ہاجرہ کو گھر سے نکالا تھا۔ اس وقت بھی خداتعالیٰ کا فرشتہ اس سے ہم کلام ہوا تھا۔ کیونکہ نبیوں کے سوا غیر انبیاء سے بھی اللہ تعالیٰ بذریعہ فرشتہ کلام کیا کرتا ہے؛ چنانچہ حضرت ہاجرہ سے دو مرتبہ اللہ تعالیٰ کا مکالمہ ہوا۔ غرض حضرت ابراہیمؑ نے ویسا ہی کیا اور کچھ تھوڑا سا پانی اور تھوڑی سی کھجوریں ہمراہ لے کر حضرت ہاجرہ اور اس کے بچے کو لے جاکر وہاں چھوڑ آئے جہاں اب مکہ آباد ہے۔ چند دن کے بعد نہ دانہ رہا نہ پانی۔ حضرت اسماعیلؑ شدتِ پیاس سے بےچین ہونے لگے، تو اس وقت حضرت ہاجرہ نے نہ چاہا کہ اپنے بچے کی ایسی بےبسی کی موت اپنی آنکھوں سے دیکھے۔ اس لئے حضرت ہاجرہ چند مرتبہ اس پہاڑ پر اِدھر اُدھر دوڑیں کہ شاید کوئی قافلہ ہو۔ پہاڑ پر چڑھ کر گریہ وزاری کرنے لگیں۔ یہ ایسا وقت تھا کہ ان کے پاس صرف ایک ہی بچہ تھا۔ خاوند سے الگ تھیں۔ دوسرا بچہ پیدا ہونے کی اُمید نہیں تھی۔ گویا بیوہ کی مانند آپ کا حال تھا۔ آپ کی گریہ وزاری پر فرشتہ نے آواز دی ہاجرہ! ہاجرہ!! جب آپ نے اِدھر اُدھر دیکھا، تو کوئی شخص نظر نہ آیا۔ بچہ کے پاس جب آئیں تو دیکھا کہ اس کے پاس پانی کا چشمہ بہ رہا ہے۔ گویا اللہ تعالیٰ نے مردہ سے ان کو زندہ کردیا۔ حضرت نبی کریمؐ فرماتے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ چشمہ کا پانی نہ روکتا، تو وہ تمام ملک میں پھیل جاتا اس قصہ کے بیان کرنے سے یہ مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسی ایسی جگہوں پر جہاں آب و دانہ کچھ نہ ہو۔ اس طرح اپنی قدرت کے کرشمے دکھایا کرتا ہے، چنانچہ پانی کے اس پہلے کرشمہ نے حضرت اسماعیلؑ کو زندہ کیا، مگر وہ پانی جو حضرت نبی کریمؐ کے ذریعہ سے پھیلایا گیا، اس کی شان میں فرمایا: اعْلَمُوا أَنَّ اللہَ یُحْیِی الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِھَا (الحدید:18) گویا اس پانی سے دنیا زندہ ہوئی۔ مدعا یہ ہے کہ جہاں ظاہری اسباب موجود نہ تھے اللہ تعالیٰ نے بچاؤ کی ایک راہ نکال دی اور اللہ تعالیٰ جو یہ فرماتا ہے کہ اس کے امر سے زمین و آسمان قائم ہیں تو غور کرو کہ وہ جنگل جہاں اس قدر گرمی پڑتی تھی اور جہاں انسان کا نام و نشان نہ تھا اللہ تعالیٰ نے اس کو ایسا بابرکت بنا دیا کہ کروڑہا مخلوق وہاں جاتی ہے اور ہر ملک اور ہر قوم کے لوگ وہاں موجود ہوتے ہیں۔ وہ میدان جہاں حج کے لئے لوگ جمع ہوتے ہیں، وہی جگہ ہے جہاں نہ دانہ تھا نہ پانی‘‘
(ملفوظات [2003 ایڈیشن] جلد 1 صفحہ 172۔ 173)
(سیرت النبی ﷺ ، صفحہ24 تا28 ، مطبوعہ کینیڈا 2018)
ززز