باب اول (قسط نمبر7)
عرب و عجم قبل از اسلام
آنحضور ﷺ کے آباء واجداد
عیسائیوں کا بدکاری میں اول نمبر ہونے کا سبب:
کنواری مریم کی پرستش کے ساتھ ساتھ مقدسوں اور فرشتوں کی پرستش بھی شروع ہوگئی۔ جن سے خدا کے حضور سفارش کی درخواست کی جاتی تھی کہ خطرات سے محفوظ رکھیں۔ پانچویں صدی میں اس کی تصاویر گرجاؤں میں لگائی گئیں۔ ان کے سامنے بتیاں جلانا، بخور جلانا اور ان کا بوسہ دینا، آخرکار پرستش ہونے لگ گئی۔ کلیسیا کے اکثر بزرگوں نے ایسی رسومات اور توہمات کی مخالفت کی۔ چنانچہ سیپرین (Cyprian) نے اس بات پر زور دیا کہ شہیدان کارتھج کی عزت حد سے زیادہ نہ کرنی چاہئے۔ نیسیہ کے گریگوری (Gregory) اور جیروم (Jerome) نے تیرتھ گاہوں کی بڑی مخالفت کی۔ ویلنٹین (Valentinian) نے مقدس مرحوموں کی پرستش ناجائز قرار دی۔ ہیلویڈس (Helvidius) نے مقدس مریم کی پرستش کی سخت مخالفت کی ۔ ان کے علاوہ اوروں نے بھی ان توہمات کے بارے بہت کچھ کہا سنا۔ لیکن کسی نے بھی ان کے حال پکار کی پرواہ نہ کی۔ مشرقی کلیساؤں میں بت پرستی بہت بڑھ گئی۔ چنانچہ ساتویں صدی میں محمدی حملوں سے کسی قدر اس کی صفائی بھی ہوئی۔ چوتھی صدی خادمان دین کے تجرد کا خیال پیدا ہوا کہ ان کو شادی نہیں کرنی چاہئے راہب خانوں اور درویشوں کا میلان اس طرف زیادہ ہوگیا..... مشرق میں تو اس کی بہت پابندی نہ ہوئی مگر مغرب مین اس کا قانون بن گیا۔ اس قاعدے سے بہت سی خرابیاں پیدا ہوئیں..... تیسری صدی میں پریسٹ کے سامنے گناہوں کے اقرار کی رسم جاری ہوئی..... رفتہ رفتہ یہ اقرار (کونفیشن) ایک قانون بن گیا اور خیال ہونے لگا کہ ایسے اقراروں کے بغیر گناہوں کی معافی نہیں ہوتی ایسے اقرارات سے کئی قسم کی خرابیاں پیدا ہونے لگیں۔‘‘
چوتھی اور پانچویں صدی عیسویں میں Spain میں گاتھ قوم حکمران تھی۔ ان کا مذہب عیسائیت تھا اور رومی حکومت کا ہی ایک حصہ سمجھی جاتی تھی۔ اس قوم کے سرداروں اور پادریوں کی عیاشیوں اور بدکرداریوں اور مظالم کا ذکر متعدد کتب میں مذکور ہے، مثلاً Edward Gribb نے اپنی کتاب The Decline and Fall of Empire Roman کے باب 18 میں بڑی تفصیل سے کیا ہے۔ سیّدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے جس شخص اخطل عیسائی کا ذکر کیا ہے اس کے متعلق بڑی تفصیل سے مختلف کتب میں بیان کیا گیا ہے۔ دلچسپی رکھنے والے اس کا مکمل تعارف اردو دائرہ معارف اسلامی۔ زیر لفظ اخطل۔ جلد 1 صفحہ 181 تا 183 دیکھ سکتے ہیں۔
نیک راہب:
عرب کے اہل کتاب میں بعض نیک راہب بھی تھے جن میں سے کچھ الہام اور کشوف میں سے بھی حصہ پاتے تھے۔ آپؑنے تاریخ میں مذکور ان نیک راہبوں کا بھی ذکر اپنی تحریرات میں فرمایا ہے جیسا کہ ایک جگہ فرمایا:
’’ جیسا کہ آنحضرت ﷺکے ظہور کے وقت ہزاروں راہب ملہم اور اہل کشف تھے اور نبی آخر الزمان کے قرب ظہور کی بشارت سنایا کرتے تھے لیکن جب انہوں نے امام الزمان کو جو خاتم الانبیاء تھے قبول نہ کیا تو خدا کے غضب کے صاعقہ نے ان کو ہلاک کردیا اور ان کے تعلقات خداتعالیٰ سے بکلی ٹوٹ گئے اور جو کچھ ان کے بارے میں قرآن شریف میں لکھا گیا اس کے بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ وہی ہیں جن کے حق میں قرآن شریف میں فرمایا گیا وَکَانُوا مِنْ قَبْلُ یَسْتَفْتِحُونَ اس آیت کے یہی معنے ہیں کہ یہ لوگ خداتعالیٰ سے نصرت دین کیلئے مدد مانگا کرتے تھے اور ان کو الہام اور کشف ہوتا تھا اگرچہ وہ یہودی جنہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نافرمانی کی تھی خداتعالیٰ کی نظر سے گر گئے تھے لیکن جب عیسائی مذہب بوجہ مخلوق پرستی کے مرگیا اور اس میں حقیقت اور نورانیت نہ رہی تو اس وقت کے یہود اس گناہ سے بری ہوگئے کہ وہ عیسائی کیوں نہیں ہوتے۔ تب ان میں دوبارہ نورانیت پیدا ہوئی اور اکثر ان میں سے صاحب الہام اور صاحب کشف پیدا ہونے لگے اور ان کے راہبوں میں اچھے اچھے حالات کے لوگ تھے اور وہ ہمیشہ اس بات کا الہام پاتے تھے کہ نبی آخرزمان اور امام دوران جلد پیدا ہوگا اور اسی وجہ سے بعض ربانی علماء خداتعالیٰ سے الہام پاکر ملک عرب میں آرہے تھے اور ان کے بچہ بچہ کو خبر تھی کہ عنقریب آسمان سے ایک نیا سلسلہ قائم کیا جائے گا۔ یہی معنے اس آیت کے ہیں کہ یَعْرِفُونَہُ کَمَا یَعْرِفُونَ أَبْنَاءَھُمْیعنی اس نبی کو وہ ایسی صفائی سے پہچانتے ہیں جیسا کہ اپنے بچوں کو۔ مگر جب کہ وہ نبی موعود اس پر خدا کا کلام ظاہر ہوگیا تب خود بینی اور تعصب نے اکثر راہبوں کو ہلاک کردیا اور ان کے دل سیہ ہوگئے۔ مگر بعض سعادتمند مسلمان ہوگئے اور ان کا اسلام اچھا ہوا۔ پس یہ ڈرنے کا مقام ہے اور سخت ڈرنے کا مقام ہے۔ خداتعالیٰ کسی مومن کی بلعم کی طرح بدعاقبت نہ کرے۔ الٰہی تو اس امت کو فتنوں سے بچا اور یہودیوں کی نظریں ان سے دور رکھ۔ آمین ثم آمین۔‘‘
(ضرورت الامام۔ روحانی خزائن، جلد 13 صفحہ 475،476)
قرآن کریم اور احادیث نیز کتب تاریخ و سیرت سے یہ بات بالبداہت ثابت شدہ ہے کہ اسلام کے ظہور کے زمانہ تک اہل کتاب میں بعض نیک راہب موجودتھے۔ ان میں سے کچھ صاحب الہام بھی تھے اورکچھ نے اسلام بھی قبول کیا۔ مثلاً قرآن کریم میں سورۃ البقرہ آیت 147، آل عمران آیت76، المائدہ آیت 83،84۔ میں اس قسم کے نیک راہبوں کا ذکر موجود ہے۔ اسی طرح آنحضور ﷺ کے بچپن میں شام کی طرف ایک سفر میں بحیرا نامی عیسائی راہب سے ملاقات اور اس کے کشوف کا بھی ذکر ملتا ہے۔ورقہ بن نوفل بھی اسی قسم کے راہبوں میں شمار ہوتا ہے جس کا ذکر تاریخ اسلام کی متعدد کتب میں موجود ہے۔ اس مضمون سے متعلق آپؑکا ایک پُر معارف ارشاد ذیل میں درج ہے جس میں آپؑنے دنیا کی اس حالت کو آنحضور ﷺ کی صداقت کی ایک بیّن دلیل قرار دیا ہے۔ فرمایا:
’’ پس آنحضرتؐکا ایسی عام گمراہی کے وقت میں مبعوث ہونا کہ جب خود حالت موجودہ زمانہ کی ایک بزرگ معالج اورمصلح کو چاہتی تھی اور ہدایت ربانی کی کمال ضرورت تھی اور پھر ظہور فرماکر ایک عالم کو توحید اور اعمال صالحہ سے منور کرنا اور شرک اور مخلوق پرستی کا جو اُمّ الشر ُور ہے قلع قمع فرمانا اس بات پر صاف دلیل ہے کہ آنحضرتؐخدا کے سچے رسول اورسب رسولوں سے افضل تھے۔ سچا ہونا ان کا تو اس سے ثابت ہے کہ اس عام ضلالت کے زمانہ میں قانون قدرت ایک سچے ہادی کا متقاضی تھا اور سنت الٰہیہ ایک رہبر صادق کی متقضی تھی۔ کیونکہ قانون قدیم حضرت رب العالمین کا یہی ہے کہ جب دنیا میں کسی نوع کی شدت اورصعوبت اپنے انتہا کو پہنچ جاتی ہے تو رحمت الٰہی اس کے دور کرنے کی طرف متوجہ ہوتی ہے جیسے جب امساک باران سے غایت درجہ کا قحط پڑ کر خلقت کا کام تمام ہونے لگتا ہے تو آخر خداوند کریم بارش کردیتا ہے اور جب وبا سے لاکھوں آدمی مرنے لگتے ہیں تو کوئی صورت اصلاح ہوا کی نکل آتی ہے یا کوئی دوا ہی پیدا ہوجاتی ہے اور جب کسی ظالم کے پنجہ میں کوئی قوم گرفتار ہوتی ہے تو آخر کوئی عادل اور فریادرس پیدا ہوجاتا ہے۔ پس ایسا ہی جب لوگ خدا کا راستہ بھول جاتے ہیں اورتوحید اور حق پرستی کو چھوڑ دیتے ہیں تو خداوند تعالیٰ اپنی طرف سے کسی بندہ کو بصیرت کامل عطا فرماکر اور اپنے کلام اور الہام سے مشرف کرکے بنی آدم کی ہدایت کے لئے بھیجتا ہے کہ تا جس قدر بگاڑ ہوگیا ہے اس کی اصلاح کرے۔ اس میں اصل
حقیقت یہ ہے کہ پروردگار جو قیوم عالم کا ہے اور بقا اور وجود عالم کا اسی کے سہارے اورآسرے سے ہے کسی اپنی فیضان رسانی کی صفت کو خلقت سے دریغ نہیں کرتا اور نہ بیکار اور معطل چھوڑتا ہے بلکہ ہریک صفت اس کی اپنے موقعہ پر فی الفور ظہور پذیر ہوجاتی ہے۔ پس جبکہ ازروئے تجویز عقلی کے اس بات پر قطع واجب ہوا کہ ہریک آفت کا غلبہ توڑنے کے لئے خداتعالیٰ کی وہ صفت جو اس کے مقابلہ پر پڑی ہے ظہور کرتی ہے اور یہ بات تواریخ سے اور خود مخالفین کے اقرار سے اور خاص فرقان مجید کے بیان واضح سے ثابت ہوچکی ہے کہ آنحضرت ﷺکے ظہور کے وقت میں یہ آفت غالب ہورہی تھی کہ دنیا کی تمام قوموں نے سیدھا راستہ توحید اور اخلاص اور حق پرستی کا چھوڑ دیا تھا اور نیز یہ بات بھی ہریک کو معلوم ہے کہ اس فساد موجودہ کے اصلاح کرنے والے اور ایک عالم کو ظلمات شرک اور مخلوق پرستی سے نکال کر توحید پر قائم کرنے والے صرف آنحضرت ہی ہیں کوئی دوسرا نہیں۔ تو ان سب مقدمات سے نتیجہ یہ نکلا کہ آنحضرت خدا کی طرف سے سچے ہادی ہیں۔ چنانچہ اس دلیل کی طرف اللہ تعالیٰ نے اپنے پاک کلام میں آپ ارشاد فرمایا ہے اور وہ یہ ہے: تَاللّٰہِ لَقَدْ اَرْسَلْنَآ اِلٰٓی اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِکَ فَزَیَّنَ لَہُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَہُمْ فَہُوَ وَلِیُّہُمُ الْیَوْمَ وَلَہُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ وَمَآ اَنْزَلْنَا عَلَیْکَ الْکِتٰبَ اِلَّا لِتُبَیِّنَ لَہُمُ الَّذِی اخْتَلَفُوْا فِیْہِ ۙ وَہُدًی وَّرَحْمَۃً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ وَاللّٰہُ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَحْیَا بِہِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِہَاط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ (سورۃ النحل : 66-64)
یعنی ہم کو اپنی ذات الوہیت کی قسم ہے جو مبدء فیضان ہدایت اور پرورش اور جامع تمام صفات کاملہ ہے جو ہم نے تجھ سے پہلے دنیا کے کئی فرقوں اور قوموں میں پیغمبر بھیجے۔ پس وہ لوگ شیطان کے دھوکا دینے سے بگڑ گئے۔ سو وہی شیطان آج ان سب کا رفیق ہے۔ اور یہ کتاب اس لئے نازل کی گئی کہ تا ان لوگوں کا رفع اختلافات کیا جائے اور جو امر حق ہے وہ کھول کر سنایا جائے اور حقیقت حال یہ ہے کہ زمین ساری کی ساری مرگئی تھی۔ خدا نے آسمان سے پانی اتارا اور نئے سرے اس مردہ زمین کو زندہ کیا۔ یہ ایک نشان صداقت اس کتاب کا ہے۔ پر ان لوگوں کے لئے جو سنتے ہیں یعنے طالب حق ہیں‘‘
(روحانی خزائن جلد 1 ۔براہین احمدیہ بقیہ حاشیہ نمبر 10 صفحہ 113 تا 115)
(سیرت النبی ﷺ ، صفحہ20 تا23 ، مطبوعہ کینیڈا 2018)
ززز