اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2026-03-19

سیرت النّبیﷺ از تحریرات و فرمودات ( سیّدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ) (تحقیق و ترتیب :آصف احمد خان)

باب اول (قسط نمبر1)
عرب و عجم قبل از اسلام
اور آنحضور ﷺ کے آباء واجداد
آنحضور ﷺ کا ملک عرب سے اور بالخصوص مکہ سے ظہور فرمانا بیشمار حکمتوں پر مبنی ہے۔ انسانی آنکھ تاریخ عالم کی ورق گردانی کرتے ہوئےجب سرزمین عرب پر پہنچتی ہے تو ظھرالفساد فی البر و البحر کا اندوہناک نظارہ کرتی ہے۔ پھر وہی آنکھ ظہورِ اسلام کے بعد جب عرب کی پلٹی ہوئی کایا دیکھتی ہے تو دل ایمان و عقیدت سے بھر جاتا ہے اور زبانوں پر بے اختیار درود و سلام جاری ہوجاتا ہے۔
اَلّٰھُمَّ صَلِّ علیٰ مُحَمَّدٍ وَعَلی آلِ مُحَمَّدٍ وَبَارِکْ وَسَلَّمْ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ۔
صَادَفْتَھُمْ قَوْمًا کَرَوْثٍ ذِلَّۃً
فَجَعَلْتَھُمْ کَسَبِیْکَۃِ الْعِقْیَانٖ
تونے انہیں گوبر کی طرح ذلیل قوم پایا تو تُونے انہیں خالص سونے کی ڈلی کی مانند بنادیا۔
حَتَّی انْثَنٰی بَرٌّ کَمِثْلِ حَدِیْقَۃٍ
عَذْبِ الْمَوَارِدِ مُثْمِرِ الْأَغْصَانٖ
یہاں تک کہ خشک ملک اس باغ کی مانند ہوگیا جس کے چشمے شیریں ہوں اور جس کی ڈالیاں پھلدار ہوں۔
عَادَتْ بِلَادُ الْعُرْبِ نَحْوَ نَضَارَۃٍ
بَعْدَالْوَجٰی وَالْمَحْلِ وَالْخُسْرَانٖ
ملکِ عرب خشک سالی۔ قحط اور تباہی کے بعد شاداب ہوگیا۔
کَانَ الْحِجَازُ مَغَازِلَ الْغِزْلَانِ
فَجَعَلْتَھُمْ فَانِیْنَ فِی الرَّحْمَانٖ
اہل حجاز آھو چشم عورتوں سے عشق بازی میں لگے ہوئے تھے سو تُونے انہیں خدائے رحمٰن (کی محبت) میں فانی بنادیا۔ (قصائد الاحمدیہ صفحہ 3)
ملکِ عرب سے آنحضور ﷺ کے ظہور کی حکمت:
سیّدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی تحریرات و فرمودات میں اس امر پر روشنی ڈالی ہے کہ آنحضور ﷺ کا ملکِ عرب سے مبعوث ہونا حکمت سے خالی نہ تھا بلکہ ضرور تھا کہ آپ عرب ہی سے ظہور فرماتے۔ آپؑفرماتے ہیں:
’’ اس آخری نور کا عرب سے ظاہر ہونا بھی خالی حکمت سے نہ تھا۔ عرب وہ بنی اسماعیل کی قوم تھی جو اسرائیل سے منقطع ہوکر حکمت الٰہی سے بیابانِ فاران میں ڈال دی گئی تھی اور فاران کے معنی ہیں دو فرار کرنے والے یعنی بھاگنے والے۔ پس جن کو خود حضرت ابراہیمؑ نے بنی اسرائیل سے علیحدہ کردیا تھا اُن کا توریت کی شریعت میں کچھ حصہ نہیں رہا تھا۔ جیسا کہ لکھا ہے کہ وہ اسحاقؑکے ساتھ حصہ نہیں پائیں گے۔ پس تعلق والوں نے انہیں چھوڑ دیا اور کسی دوسرے سے ان کا تعلق اور رشتہ نہ تھا۔ اور دوسرے تمام ملکوں میں کچھ کچھ رسوم عبادات اور احکام کی پائی جاتی تھیں جن سے پتہ لگتا ہے کہ کسی وقت ان کو نبیوں کی تعلیم پہنچی تھی۔ مگر صرف عرب کا ملک ہی ایک ایسا ملک تھا جو ان تعلیموں سے محض ناواقف تھا اور تمام جہان سے پیچھے رہا ہوا تھا۔ اس لئے آخر میں اُسکی نوبت آئی اوراس کی نبوت عام ٹھہری تا تمام ملکوں کو دوبارہ برکات کا حصہ دیوے اور جو غلطی پڑ گئی تھی اس کو نکال دے۔ پس ایسی کامل کتاب کے بعد کس کتاب کا انتظار کریں جس نے سارا کام انسانی اصلاح کا اپنے ہاتھ میں لے لیا اور پہلی کتابوں کی طرح صرف ایک قوم سے واسطہ نہیں رکھا۔ بلکہ تمام قوموں کی اصلاح چاہی اور انسانی تربیت کے تمام مراتب بیان فرمائے۔ وحشیوں کو انسانیت کے آداب سکھائے۔ پھر انسانی صورت بنانے کے بعد اخلاق فاضلہ کا سبق دیا‘‘
(روحانی خزائن، اسلامی اصول کی فلاسفی، جلد 10 صفحہ 367)
اس ارشاد میں حضورؑ نے جو نکات بیان فرمائے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل کے متعلق خداتعالیٰ نے جو وعدے کئے تھے انکے پورا ہونے کے لئے ضروری تھا کہ انکے دونوں بیٹوں کی نسلوں کو نبوت و شریعت کی نعمت سے نوازا جاتا۔ حضرت اسحٰق علیہ السلام کی نسل یعنی بنی اسرائیل میں خداتعالیٰ نے پے درپے انبیاء مبعوث فرمائے جبکہ انکے بھائی حضرت اسماعیل علیہ السلام کی نسل جو عرب میں آکر آباد ہوئی اس میں اُس وقت تک نبوت منقطع تھی اور ان کے پاس کوئی شریعت نہ تھی گویا امّی تھے۔ انہی امّیوں میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کئے گئے وعدوں کے مطابق آنحضور ﷺ کو مبعوث فرمایا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعاؤں اور ان سے کئے گئے وعدوں کا ذکر قرآن میں اور بائیبل میں موجود ہے۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام کا حجاز میں آکر آباد ہونا اور آنحضور ﷺ کا نسل اسماعیلؑ سے ہونا بھی ثابت شدہ حقیقت ہے۔
سیاسی حالات:
حضور ؑ نے ظہور اسلام کے وقت عرب اور اسکے اردگرد کی سلطنتوں کے سیاسی و تمدّنی حالات بھی بیان فرمائے ہیں:
’’ اس جگہ اس بات کا جتلا دینا فائدہ سے خالی نہ ہوگا کہ خسرو پرویز کے وقت میں اکثر حصہ عرب کا پایۂ تخت ایران کے ماتحت تھا او رگو عرب کا ملک ایک ویرانہ سمجھ کر جس سے کچھ خراج حاصل نہیں ہوسکتا تھا چھوڑا گیا تھا مگر تاہم بگفتن وہ ملک اسی سلطنت کے ممالک محروسہ میں سے شمار کیا جاتا تھا لیکن سلطنت کی سیاست مدنی کا عرب پر کوئی دباؤ نہ تھا اور نہ وہ اس سلطنت کے سیاسی قانون کی حفاظت کے نیچے زندگی بسر کرتے تھے بلکہ بالکل آزاد تھے اور ایک جمہوری سلطنت کے رنگ میں ایک جماعت دوسروں پر امن اور عدل اپنی قوم میں قائم رکھنے کے لئے حکومت کرتی تھی جن میں سے بعض کی رائے کو سب سے زیادہ نفاذ احکام میں عزّت دی جاتی تھی اور اُن کی ایک رائے کسی قدر جماعت کی رائے کے ہم پلّہ سمجھی جاتی تھی۔‘‘
(تریاق القلوب۔ روحانی خزائن۔ جلد 15 حاشیہ صفحہ 376)
ذیل میں ظہور اسلام سے قبل عرب میں مشہور قبائل اور ریاستوں کا ذکر کرنا مناسب ہے تا کہ معلوم ہو کہ عرب کس طرح قبائل و اقوام میں بٹا ہوا تھا۔ جس کا اپنا کوئی مرکزی نظام یا شریعت نہ تھی۔
غسان۔ عرب کے شمال میں ایک ریاست تھی جسکے باشندے مذہبًا عیسائی تھے لیکن نسلاً عرب تھے ۔ یہ دراصل رومی حکومت کے ماتحت تھے۔ عرب میں  عیسائیت بھی سب سے پہلے غسان میں داخل ہوئی۔
یمن۔ عرب کے جنوب میں یمن کا علاقہ تھا اس میں عیسائی اور مشرک قبائل آباد تھے یمن کے مشرکین کی حمایت بالعموم فارس کے ساتھ تھی اورعیسائیوں کی حمایت روم اور حبشہ کے ساتھ تھی۔ دور رسالت میں یمن کے اکثر حصہ پر ایران کی حکومت تھی ایران کی طرف سے باذان نامی گورنر مقرر تھا۔
نجران۔ نجران کا علاقہ بھی عرب کے جنوب میں یمن کے قریب ہی تھا اس علاقے میں عیسائیت کا زور تھا روم کے پوپ کی طرف سے یہاں بشپ اور آرچ بشپ بھی مقرر ہوتے تھے۔
بحرین۔ عرب کے مشرق میں بحرین کا علاقہ ہے۔ یہاں اس وقت ایران کی حکومت تھی یہاں کے مشہور قبائل عبدالقیس ، بکر بن وائل، اورتمیم تھے۔
قبائل غطفان۔ عرب کے وسط یعنی نجد کے علاقہ میں غطفانی قبائل آباد تھے۔ ان میں سے قبائل اشجع، مروہ، فزارہ، کعب اور کلاب وغیرہ قابل ذکرتھے۔ یہ اندرونی طور پر آزاد تھے لیکن بیرونی معاملات میں بوقت ضرورت متحد ہوجایا کرتے تھے۔
خیبر و فدک۔ مدینہ کے شمال مشرق میں خیبر اور فدک کا علاقہ تھا۔ اس علاقہ میں یہود آباد تھے۔ یہاں یہود نے مضبوط قلعے بنارکھے تھے۔
اوس و خزرج۔ مدینہ میں دو مشہور مشرک قبائل آباد تھے۔ اوس و خزرج۔ ان دونوں قبائل کی آپس میں شدید دشمنی تھی۔ اور کئی جنگیں لڑ چکے تھے۔ انکی آخری جنگ نبوت کے تیرھویں سال ہوئی۔ قبائل عرب میں سب سے پہلے اسلام انہی نے قبول کیا اور انصار کہلائے۔
مدینہ کے یہودی قبائل۔ مدینہ میں تین یہودی قبائل آباد تھے۔ بنو قینقاع، بنو نضیر، اور بنو قریظہ۔
قریش مکہ۔ عرب کا سب سے مشہور قبیلہ قریش تھا جو مکہ اور اسکے اردگرد آباد تھا۔ قریش قبیلہ کعبہ کی تولیت کی وجہ سے عرب کا سب سے معزز قبیلہ تھا۔ خاص نسل اسماعیلؑ میں سے تھا۔ قریش اندرونی طور پر بھی تقسیم در تقسیم کا شکار ہوچکا تھا۔
یہ چند مشہور قبائل کا ذکر ہے لیکن اسکے علاوہ بھی بیسیوں قبائل آباد تھے۔ الغرض جزیرہ نما عرب مختلف اقوام اور قبائل اورمذاہب اورتمدنوں اور رواجوں کا ایک تیرتھ بنا ہوا تھا۔ جہاں کوئی مرکزی حکومت نہ تھی۔ لیکن مجموعی طورپر عرب کو ایران کا ایک محروسہ علاقہ سمجھا جاتا تھا۔
(سیرت النبی ﷺ ، صفحہ1 تا4 ، مطبوعہ کینیڈا 2018)
ززز