محمد اسامہ رحمٰن انسپکٹر وقف جدید مال قادیان
دنیا جس رفتار سے ڈیجیٹل دور میں داخل ہوئی ہے، شاید چند دہائیاں قبل اس کا تصور بھی مشکل تھا۔ آج ایک چھوٹا سا موبائل فون ہمارے لیے دفتر، بازار، کتب خانہ، ڈاک خانہ اور رابطے کا ذریعہ سب کچھ بن چکا ہے۔ گھر بیٹھے تعلیم حاصل کی جا سکتی ہے، دنیا کے کسی بھی حصے میں موجود شخص سے لمحوں میں رابطہ ہو سکتا ہے اور مالی معاملات بھی چند لمحوں میں انجام دیے جا سکتے ہیں۔ ایک طرف یہ سہولتیں انسانی ترقی کی نمایاں مثال ہیں تودوسری طرف انہی ذرائع کا غلط استعمال ایک ایسا خطرہ پیدا کرچکا ہے جسے آج سائبر کرائم کہا جاتا ہے۔
جس قدر ہماری روزمرہ زندگی ڈیجیٹل ذرائع سے وابستہ ہوتی جارہی ہے اسی قدر ہماری ذاتی معلومات بھی آن لائن نظام سے منسلک ہوتی جارہی ہے۔ اس لیے معلومات کی حفاظت اب صرف کمپیوٹر ماہرین کی ذمہ داری نہیں رہی بلکہ ہر اس شخص کی ضرورت بن چکی ہے جو موبائل فون، انٹرنیٹ یا سوشل میڈیا استعمال کرتا ہے۔
سائبرکرائم کیا ہے؟
سائبر کرائم سے مراد ایسے جرائم ہیں جن میں کمپیوٹر، موبائل فون، انٹرنیٹ یا کسی دوسرے ڈیجیٹل نظام کو جرم کے ارتکاب کے لیے استعمال کیا جائے یا خود کسی ڈیجیٹل نظام اور اس میں محفوظ معلومات کو نشانہ بنایا جائے۔ کسی شخص کا اکاؤنٹ ہیک کرنا، شناخت چرا لینا، جعلی پروفائل بنانا، فریب کے ذریعے ذاتی معلومات حاصل کرنا، نقصان دہ سافٹ ویئر پھیلانا، کسی کی نجی تصاویر کا ناجائز استعمال کرنا، آن لائن بلیک میلنگ اور مالی فراڈ اس کی مختلف صورتیں ہیں۔ اس جرم کی ایک خاص مشکل یہ ہے کہ اس کے لیے مجرم اور متاثرہ شخص کا ایک دوسرے کے سامنے ہونا ضروری نہیں۔ ایک شخص ایک براعظم میں بیٹھ کر دوسرے براعظم میں موجود کسی فرد، ادارے یا نظام کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
سائبر کرائم کی نمایاں صورتیں
بھارت کے National Cyber Crime Reporting Portal کے مطابق phishing میں دھوکے سے ایسا ای میل یا پیغام بھیجا جاتا ہے جو کسی قابلِ اعتماد ادارے کی طرف سے معلوم ہو اور مقصدsensitiveمعلومات حاصل کرنا ہو۔ اسی طرح vishing میں فون کال اور smishing میں SMS کے ذریعے یہی دھوکا کیا جاتا ہے۔
سائبر جرائم کی دنیا بہت وسیع ہے۔ Phishing میں مجرم کسی قابلِ اعتماد ادارے یا فرد کا روپ دھار کر خفیہ معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ Identity theft میں کسی دوسرے شخص کی شناخت یا credentials کا غلط استعمال کیا جاتا ہے۔ Malware ایسا نقصان دہ software ہے جو کسی device یا data کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ Ransomware میں data یا system کو قابو میں لے کر اس کی واپسی کے بدلے رقم کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔
اسی طرح سائبر اسٹالکنگ (Cyber Stalking)، سائبر بلینگ (Cyber Bullying)، آن لائن ایکسورشن/بھتہ (Online Extortion)، اسپائی ویئر (Spyware)، ڈیٹا چوری (Data Theft) اور غیر قانونی ہیکنگ (Unauthorized Hacking) بھی اس کی خطرناک صورتیں ہیں۔
ایک عالمی اور قومی خطرہ
یہ مسئلہ اب محض چند کمپیوٹر ماہرین تک محدود نہیں رہا۔ بھارت میں قومی سائبر کرائم رپورٹنگ نظام کے تحت مالی فراڈ کی شکایات میں مسلسل اضافہ رپورٹ ہوا ہے۔ وزارتِ داخلہ کے مطابق 2021 سے 2025 کے دوران National Cyber Crime Reporting Portal پر مالی فراڈ کی 65 لاکھ سے زیادہ شکایات درج ہوئیں اور رپورٹ شدہ رقم 55 ہزار کروڑ روپے سے تجاوز کر گئی۔
(https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2287039®=3&lang=1)
اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مسئلہ کتنا وسیع ہوچکا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی کہ cyber crime کے خلاف عوامی شعور اور بروقت کارروائی کتنی ضروری ہے۔
نئی ایجادات اور دنیا کی اپنی تباہی
سائبر کرائم کا ایک نہایت اہم پہلو قومی اور عالمی سلامتی بھی ہے۔ اس خطرے کی طرف حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے کئی سال قبل ہی غیر معمولی توجہ دلائی کہ:
’’پھر نئی ایجادیں ہیں۔ انسانوں نے اپنے رابطوں کے لئے، اپنے ریکارڈ رکھنے کے لئے، اپنے معاشی اور دوسرے نظام چلانے کے لئے بڑی آسانیاں پیدا کی ہیں۔ کمپیوٹر نے بہت سے کاموں کو سنبھال لیا ہے۔ لیکن یہی ایجاد دنیا کی تباہی کا بھی ذریعہ بن سکتی ہے۔ آجکل بار بار کبھی کسی خاص ملک میں اور کبھی پوری دنیا میں سائبر اٹیک (cyber-attack) ہو رہے ہیں۔ سارا نظام اس سے درہم برہم ہو جاتا ہے۔ یہاں کا بھی این ایچ ایس (NHS) کا نظام درہم برہم ہو گیا۔ ایئر پورٹس کا نظام درہم برہم ہو گیا۔ جنگی آلات کے استعمال اور جنگوں کی وجہ بننے میں بھی یہ سائبر حملے جو ہیں خوفناک کردار ادا کر سکتے ہیں اور تباہی لا سکتے ہیں۔۔۔ پس دنیا تو اپنی تباہی کے خود سامان کر رہی ہے۔ ‘‘
( خطبۂ جمعہ، 30 جون 2017ء)
یہ ارشاد ہمیں یہ حقیقت سمجھاتا ہے کہ ٹیکنالوجی بذاتِ خود نہ خیر ہے نہ شر۔ اصل سوال اس کے استعمال کا ہے۔ کمپیوٹر دنیا بھر کے لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لا سکتا ہے، علم کی روشنی پھیلا سکتا ہے اور انسانیت کی خدمت کر سکتا ہے؛ لیکن وہی نظام اگر فساد، جاسوسی یا جنگی مقاصد کے لیے استعمال ہو تو تباہی کا وسیلہ بن سکتا ہے۔ اس لیے ترقی کے ساتھ اخلاقی ذمہ داری بھی ضروری ہے۔
ہم سے کہاں غلطی ہوتی ہے؟(بنیادی وجوہات):
ٹیکنالوجیکل سیکیورٹی (جیسے اینٹی وائرس اور فائر وال) اپنی جگہ اہم ہے، لیکن سائبر حملوں میں 90 فیصد کامیابی انسانی نفسیات کا فائدہ اٹھا کر حاصل کی جاتی ہے۔ اس کی تین بنیادی وجوہات ہیں:
جلد بازی: جب کوئی پیغام آتا ہے کہ "آپ کا اکاؤنٹ بند ہو رہا ہے، فوراً اس لنک پر کلک کریں،" تو ہم بغیر سوچے سمجھے گھبراہٹ میں کلک کر دیتے ہیں۔
*اندھا بھروسہ: کسی انجان شخص کی ای میل، یا واٹس ایپ پر آنے والے کسی بھی 'فارورڈڈ' (Forwarded) لنک پر بلا تحقیق یقین کر لینا۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ سکرین کے اس پار بیٹھا شخص دوست ہے یا دشمن۔
توجہ کی کمی: ٹیکنالوجی کے حد سے زیادہ استعمال نے ہماری توجہ (Attention span) کو کمزور کر دیا ہے۔ ہم شرائط و ضوابط اور پاپ اپس (popups) کو پڑھے بغیر "Acceptکر لیتے ہیں، جس سے ہم خود اپنا نقصان کر بیٹھتے ہیں۔
اسلام اور معلوماتی حفاظت
اسلامی تعلیمات آج کی ڈیجیٹل دنیا کے لیے بھی بنیادی اخلاقی اصول فراہم کرتی ہیں۔
1. قرآن کریم ہمیں بغیر علم کے کسی بات کے پیچھے چلنے سے روکتا ہے۔جلدبازی سے روکتاہے۔
دھوکہ باز (Scammers) ہمیشہ آپ کے ذہن پر جلدی (Urgency) کا اثر ڈالتے ہیں تاکہ آپ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کھو دیں اور فوراً لنک پر کلک کر دیں۔ اسلامی تعلیم بغیر علم کے کسی بات کے پیچھے چلنے سے روکتی ہے اورجلد بازی سے سختی سے روکتی ہے۔
اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے:
’’وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ ۚ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولٰٓئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْـُٔولًا‘‘ (بنی اسرائیل:37)
اور وہ موقف اختیار نہ کر جس کا تُجھے علم نہیں۔ یقیناً کان اور آنکھ اور دل میں سے ہر ایک سے متعلق پوچھا جائے گا۔
حدیثِ نبوی (صلی اللہ علیہ وسلم) ہے: "اطمینان اور ٹھہراؤ اللہ کی طرف سے ہے، اور جلد بازی شیطان کی طرف سے ہے۔"
(مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 5055 )
آج سوشل میڈیا پر ایک خبر چند منٹوں میں ہزاروں لوگوں تک پہنچ سکتی ہے۔ اگر وہ خبر غلط ہو تو اتنی ہی تیزی سے غلطی بھی پھیلتی ہے۔ اس لیے کسی message کو صرف اس وجہ سے درست نہیں سمجھا جا سکتا کہ اسے کسی قریبی شخص نے بھیجا ہے یا بہت سے لوگوں نے آگے بڑھایا ہے۔ تحقیق کے بغیر خبر کو آگے پھیلانا بعض اوقات کسی فرد کی عزت، کسی خاندان کے سکون یا پورے معاشرے کے امن کو متاثر کر سکتا ہے۔
2.تحقیق اور تصدیق (Zero Trust) کا اصول ۔
سائبر سیکیورٹی کا ایک مشہور اصول ہے "Zero Trust یعنی کسی پر اندھا بھروسہ نہ کریں، ہمیشہ تصدیق کریں۔ اسلام نے ہمیں 1400 سال پہلے ہی یہ اصول سکھا دیا تھا۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ جَآءَكُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوْۤا...(الحجرات:۷)
اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! تمہارے پاس اگر کوئی بدکردار کوئی خبر لائے تو (اس کی) چھان بین کرلیا کرو۔
یہ آیت صرف اخباری خبروں کے بارے میں نہیں بلکہ آج کے پورے information environment کے لیے ایک اصول فراہم کرتی ہے: Forward کرنے سے پہلے verify کریں۔
3. امانت کی حفاظت
اسلامی تعلیم کا تیسرا پہلو دوسروں کی privacy اور عزت کی حفاظت ہے۔قرآن کریم بدگمانی، تجسس اور غیبت سے بھی روکتا ہے۔ ڈیجیٹل دنیا میں ان برائیوں کی نئی شکلیں پیدا ہو گئی ہیں، لیکن اسلامی اصول آج بھی وہی ہیں۔
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اجۡتَنِبُوۡا کَثِیۡرًا مِّنَ الظَّنِّ۫ اِنَّ بَعۡضَ الظَّنِّ اِثۡمٌ وَّلَا تَجَسَّسُوۡا وَلَا یَغۡتَبۡ بَّعۡضُکُمۡ بَعۡضًاؕ اَیُحِبُّ اَحَدُکُمۡ اَنۡ یَّاۡکُلَ لَحۡمَ اَخِیۡہِ مَیۡتًا فَکَرِہۡتُمُوۡہُ ؕ (الحجرات:۱۳)
یعنی: اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ظن سے بکثرت اجتناب کیا کرو۔ یقیناً بعض ظن گناہ ہوتے ہیں۔ اور تجسس نہ کیا کرو۔ اور تم میں سے کوئی کسی دوسرے کی غیبت نہ کرے۔ کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرتا ہے کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے؟ پس تم اس سے سخت کراہت کرتے ہو۔
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے سوشل میڈیا کے غلط استعمال کے بارے میں بہت واضح رہنمائی فرمائی۔ حضورِ انور کو اپنے نام سے ایک جعلی Facebook account کا علم ہوا تو آپ نے اس سے لاتعلقی کا اظہار کرتےہوئے ایک خطبہ جمعہ میں فرمایا:
’’تیسری بات مَیں آج یہ کہنا چاہتا تھا کہ مجھے پتہ لگا کہ میرے نام سے آج کل انٹرنیٹ وغیرہ پرفیس بک (Facebook)ہے۔ فیس بُک کا ایک اکاؤنٹ کھلا ہوا ہے جس کا میرے فرشتوں کو بھی پتہ نہیں۔ نہ کبھی مَیں نے کھولا نہ مجھے کوئی دلچسپی ہے بلکہ مَیں نے تو جماعت کو کچھ عرصہ ہوا اس بارہ میں تنبیہ کی تھی کہ اس فیس بُک سے بچیں۔ اس میں بہت ساری قباحتیں ہیں۔ پتہ نہیں کسی نے بے وقوفی سے کیا ہے۔ کسی مخالف نے کیا ہے یا کسی احمدی نے کسی نیکی کی وجہ سے کیا ہے لیکن جس وجہ سے بھی کیا ہے، بہر حال وہ توبند کروانے کی کوشش ہو رہی ہے انشاء اللہ تعالیٰ وہ بند ہو جائے گا۔ کیونکہ اس میں قباحتیں زیادہ ہیں اور فائدے کم ہیں۔ ‘‘ (خطبہ جمعہ 31دسمبر2010)
یہ ارشاد ہمیں digital identity کی حفاظت کی اہمیت سمجھاتا ہے۔ آج جعلی اکاؤنٹس، impersonation اور stolen identities نہ صرف افراد بلکہ اداروں کے لیے بھی مسئلہ بن چکے ہیں۔اس لیے کسی شخص کی تصویر، ذاتی پیغام یا نجی معلومات کو اس کی اجازت کے بغیر نشر کرنا معمولی بات نہیں سمجھنی چاہیے۔
حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے نوجوانوں کو انٹرنیٹ پر غیر ضروری تعلقات اور اجنبی افراد سے رابطوں کے خطرات سے بھی متنبہ فرمایا ہے۔ یہ رہنمائی خاص طور پر اس دور میں اہم ہے جب ایک معمولی online رابطہ بھی کسی شخص کی ذاتی زندگی میں غیر ضروری مداخلت کا سبب بن سکتا ہے۔
حضورانورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکی ہدایات و رہنمائی ہمارےلئےبہت اہمیت کی حامل ہے ۔اس ڈجیٹل دنیامیں محفوظ رہنےکیلئے انہی ہدایات و راہنمائیوں کو ایک مجموعہ کی شکل میں ’’سوشل میڈیا‘‘ کے عنوان سے مرتب کیا گیا۔
دنیاوی تعلیم اور عملی احتیاط:
اسلامی اخلاقی اصولوں کے ساتھ جدید cyber security کی بنیادی تعلیم حاصل کرنا بھی ضروری ہے۔ Government of India کی سائبر سیفٹی رہنمائی کے مطابق ہمیں اپنے بچوں اور بڑوں دونوں کو یہ سکھانا چاہیے کہ:
• ہر آن لائن اکاؤنٹ کے لیے مضبوط اور منفرد پاس ورڈ استعمال کریں۔
• جہاں ممکن ہو Multi-Factor Authentication (MFA) فعال کریں۔
• OTP، PIN، CVV اور پاس ورڈ کسی کو نہ بتائیں۔
• نامعلوم لنکس، attachments اور مشکوک پیغامات پر کلک نہ کریں۔
• موبائل، کمپیوٹر، browser اور applications کو باقاعدگی سے update رکھیں۔
• سوشل میڈیا پر اپنی ذاتی معلومات غیر ضروری طور پر public نہ کریں۔
• اجنبی افراد کی friend requests اور messages کے معاملے میں اجتناب کریں۔
• مالی معاملات ہمیشہ trusted device اور محفوظ network سے انجام دیں۔
• کسی مشکوک کال یا پیغام میں فوری فیصلہ کرنے کے بجائے پہلے متعلقہ ادارے سے خود رابطہ کرکے تصدیق کریں۔
آج ہماری نئی نسل اس دنیا میں پروان چڑھ رہی ہے جہاں physical اور digital زندگی ایک دوسرے سے جدا نہیں رہیں۔ اس لیے صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ بچے موبائل کم استعمال کریں۔ انہیں یہ بھی سکھانا ہوگا کہ mobile اور internet کو کیسے محفوظ طریقے سے استعمال کرنا ہے۔
والدین کو چاہیے کہ بچوں سے دوستانہ انداز میں بات کریں، انہیں privacy کی اہمیت سمجھائیں، اجنبی online contacts کے خطرات سے آگاہ کریں اور یہ سکھائیں کہ کوئی بھی مشکوک پیغام، تصویر یا رابطہ ہو تو اسے چھپانے کے بجائے والدین سے share کریں۔
آج ہمیں اپنے لیے یہ اصول مقرر کرنے چاہئیں:
خبر آئے تو تحقیق کریں،لنک آئے تو تصدیق کریں،معلومات مانگی جائیں تو احتیاط کریں،اور کچھ شیئر کرنے سے پہلے سوچیں کہ کیا یہ درست، ضروری اور اخلاقی ہے؟
اگر ہم اسلامی تعلیم کی تحقیق، امانت، حیا اور حقوق العباد کی روح کو جدید سائبر سکیورٹی کی عملی احتیاطوں کے ساتھ جوڑ لیں تو ان شاء اللہ ہم اس نعمتِ جدیدہ سے بھرپور فائدہ بھی اٹھا سکتے ہیں اور اس کے نقصانات سے اپنے آپ کو، اپنی نسلوں اور اپنے معاشرے کو بڑی حد تک محفوظ بھی رکھ سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں علم کے ساتھ حکمت، ٹیکنالوجی کے ساتھ ذمہ داری اور آزادی کے ساتھ تقوی عطا فرمائے۔ آمین۔