مجلس عرفان
جرمنی کے ریجنNordrheinسے تعلق رکھنے والی لجنہ اماء الله اور ناصرات الاحمدیہ کے ایک وفد کی حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے ملاقات (بقیہ از شمارہ 41)
20؍ اکتوبر 2025ء کوحضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے جرمنی کے ریجنNordrheinسے تعلق رکھنے والی لجنہ اماء الله اور ناصرات الاحمدیہ کے پچاس رکنی وفد کی ملاقات ہوئی ۔
یہ ملاقات اسلام آباد (ٹِلفورڈ) میں منعقد ہوئی۔ جس کے لئے مذکورہ وفد نے خصوصی طور پر اس ملاقات کی غرض سےجرمنی سے برطانیہ کا سفر اختیار کیا۔
آخر میں حضورِ انور نے اس بات پر زور دیا کہ آپ کا کام رُعب ڈالنا نہیں ہے، آپ کا کام یہ ہے کہ اصلاح کرنا اور ایک ہمدرد بن کے اصلاح کرنا۔ ہر لجنہ کی ممبر کو یہ احساس ہو کہ میری صدر میری ہمدرد ہے، میری بہن ہے اور میری بہتری چاہتی ہے۔ پھر وہ آپ سے ذاتی تعلق پیدا کریں گی، جب ذاتی تعلق ہو گا، تو آپ ایک سوسائٹی بنیں گی اور یہی جماعت کی تنظیم کا مقصد ہے اور یہی چیز ہے جس کو آپ صحیح طرح اگر اختیار کریں تو اس کا حق ادا کر سکتی ہیں اور اسی طرح آپ نظام جماعت کی نمائندگی بھی کر سکتی ہیں اور خلیفۂ وقت کی نمائندگی کا حق بھی ادا کر سکتی ہیں، اس لیے لجنہ قائم کی گئی ہے۔ جو ضروری اصلاح ہے، وہ ہونی چاہیے، لیکن عقل کے ساتھ۔
ایک لجنہ ممبر نے راہنمائی کی درخواست کی کہ
بہت سے والدین اس بات کے خلاف ہوتے ہیں کہ کوئی دوسری قوم کے فرد سے شادی کرے، چاہے وہ احمدی ہی کیوں نہ ہو، ایسے میں والدین سے کس طرح بات کرنی چاہیے؟
اس پرحضور انورنے واضح فرمایا کہ یہ قوم اور قومیت کوئی چیز نہیں ہے۔ نیز آنحضرتؐ کی جیون ساتھی کے انتخاب کی بابت فرمودہ نصیحت کے تناظر میں بیان فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کوفرمایا تھا کہ تم کسی کی اچھی قوم کی وجہ سے، کسی کی دولت کی وجہ سے، کسی کی شکل کی وجہ سے شادیاں کرتے ہو۔ رشتے اس لیے تلاش کرتے ہیں۔شکل اچھی ہوتی ہے، پسند آجاتی ہے اور شادی کر لی۔ یا اس کے پاس دولت بہت ہے، تو چلو مجھے دولت تھوڑی سی مل جائے گی۔ مرد لالچی ہوتے ہیں۔ یا قوم اچھی ہے، میری قوم کا آدمی ہے اس لیے مَیں نے شادی کرنی ہے۔ ہم تو چودھریوں سے باہر نہیں جائیں گے، جٹّوں سے باہر نہیں جائیں گے، سیّدوں سے باہر نہیں جائیں گے، مُغلوں سے باہر نہیں جائیں گے۔ اب ہم مُغل ہیں اور ہمارے تو کئی مُغلوں کی بلکہ بعض کی حضرت خلیفة المسیح الثّانی ؓ کے زمانے سے مُغلوں سے باہر شادیاں ہوئی ہوئی ہیں۔
نیز اس بات کی اہمیت کو بھی اُجاگر فرمایا کہ اب یہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم دین دیکھو۔ اگر دین ہے تو اس سے شادی کرو۔ اس لیے اگر مرد دین دیکھ رہے ہوں گے تو عورتیں بھی دیندار بنیں گی، اور لڑکیاں اگر دیندار لڑکے تلاش کر رہی ہوں گی تو لڑکے بھی دیندار بنیں گے۔ پھر ایک احمدی اسلامی معاشرہ قائم ہوگا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ تمہیں کیا پتا کہ کون سیّد ہے، کون فلاں ہے اور کون فلاں نہیں ہے، ذاتوں پر تم چلے جاتے ہو اور دو نسلوں کے بعد تو پتا ہی نہیں لگتا۔ بعض جھوٹے سیّد بنے ہوتے ہیں۔
حضورِ انور نے اس حوالے سے ایک دلچسپ لطیفہ بھی پیش فرمایا کہ وہ لطیفہ مشہور ہے کہ پارٹیشن سے پہلے ایک میراثی تھا اور ایک کوئی ترکھان تھا، ویسے تو یہ پیشے ہیں، لیکن ہمارے ملک میں پنجاب میں ذاتیں بنی ہوئی ہیں۔ آپ پنجابی ہیں، آپ کو پتا ہو گا، تو پاکستان بننے کے بعد بچے پڑھ گئے اور انہوں نے شادیاں کرنی تھیں۔ تو ایک سیّد بنا ہوا تھا اور ایک قریشی بنا ہوا تھا تو انہوں نے کہا کہ ہاں! یہ سیّد ہے اور ہم قریشی ہیں، ہم رشتہ کریں گے، جب نکاح کے لیے باتیں چلنی شروع ہوئیں اور اکٹھے ہوئے تو دیکھا کہ وہ اتفاق سے دونوں ایک دوسرے کو پہچانتے تھے اور ان کو پتا بھی تھا کہ ہم میں سے ایک میراثی اور ایک ترکھان ہے۔ ایک دوسرے کو کہنے لگے کہ تم سیّد کیسے اور تم قریشی کیسے؟ تو ایک نے کہا کہ جس طرح تم سیّد بنے اس طرح مَیں قریشی بن گیا۔ تو کوئی پہچان نہیں ہے، اس لیے یہ طریقہ ہی غلط ہے۔
مزید برآں حضورِ انور نے ذات پات کے تفرقات سے پاک ہو کر نیکی اور دینداری کو ترجیح دینے کے حوالے سے توجہ دلائی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ چند نسلوں کے بعد تو بھول جاتے ہیں، مطلب ہے کہ بھول کیا جاتے ہیں بلکہ پتا ہی نہیں لگتا، دنیا کو دھوکا ہوتا ہے کہ کون کیا اور کس ذات کا ہے۔ اس لیے کہہ دیا کہ مَیں چودھری ہوں، مَیں جٹ ہوں، مَیں ہرل ہوں، مَیں کھوکھر ہوں، مَیں کھرل ہوں، مَیں آرائیں ہوں یا مَیں فلاں ہوں تو ہم جٹّوں نےآرائیوں میں لڑکی نہیں دینی اور آرائیوں نے جٹّوں میں نہیں دینی، سیّدوں نے فلاں میں نہیں دینی، مغلوں نے فلاں کو نہیں دینی، یہ تو بالکل غلط طریقہ ہے۔ کوئی ذات پات نہیں، اصل چیز یہ ہے کہ احمدی برادری ہے۔ احمدی ہو، نیک ہو شادی کر لینی چاہیے۔ کوئی بھی ہو، بلکہ قرآنِ شریف میں تو یہ آیا ہے کہ جن کو تم نہیں جانتے، جن کے خاندان کے بارے میں پتا نہیں کہ وہ کون ہیں، تو وہ پھر بھی تمہارے دینی بھائی ہیں اور ان کی اولادوں سے تم شادیاں کر سکتے ہو۔ کوئی ذات پات نہیں ہے، آپ کو کیا پتا ہے کون کون ہے، نیز مسکراتے ہوئے فرمایا کہ ایویں ہی سارے چودھری بن کے بیٹھے ہوئے ہیں، اور دوسرے مجھے کیا پتا کہ کون صحیح چودھری ہے بھی کہ نہیں۔
آخر میں حضورِ انور نے اصل شناخت کے معیار کی بابت ایک مزید ایمان افروز واقعہ پیش فرمایا کہ سیّد عبدالستّار شاہ صاحبؓ، وہ سیّد تھے، ان کی گدی بھی تھی، ان کا خاندان پیر کہلاتا تھا، یہ حضرت خلیفۃ المسیح الرّابع رحمہ الله کے نانا تھے، لیکن ان کو شک رہتا تھا کہ پتا نہیں کہ مَیں اصلی سیّد ہوں کہ بنا بنایا ہوں، جس طرح آجکل کے لوگ بن گئے ہیں۔ ایک دن آ رہے تھے تو اُوپر سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سیڑھیاں اُتر رہے تھے، انہوں نے کہا کہ ہاں! شاہ صاحب، تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جب ان کوشاہ صاحب کہا اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پوری واقفیت ان سے نہیں تھی، تو انہوں نے کہا کہ اب مجھے تسلّی ہو گئی ہے کہ میں پکّا سیّد ہوں، کیونکہ اللہ کے نبیؑ نے کہہ دیا ہے کہ مَیں سیّد ہوں، شاہ ہوں۔تو یہ اس طرح ہونا چاہیے، آجکل آپ کی کوئی گارنٹی نہیں دے سکتا کہ کون کیا ہے۔
ایک ناصرہ نے سوال کیا کہ
ہمیں کیا کرنا چاہیے کہ بہن بھائیوں میں لڑائیاں کم ہوں؟
اس پر حضورِ انور نے انتہائی شفقت بھرے انداز میں مسکراتے ہوئے فرمایا کہ نماز پڑھا کرو، اخلاق دکھایا کرو اور ٹھنڈا پانی پی لیا کرو۔ جس پر تمام شاملینِ مجلس بھی مسکرا دیے۔ حضورِ انور نے دریافت فرمایا کہ اگر تمہارے اچھے اخلاق ہیں تو کیوں لڑائی ہوتی ہے، اچھاbehaveکر رہی ہو تو لڑائی نہیں ہوگی۔ تم نے کوئی بات کی ہوگی تو اگلا پھر لڑے گا۔اگر کوئی تم سے لڑے، تم کان بند کر کے دوسری طرف چلی جاؤاور کہہ دو کہ مَیں نہیں لڑوں گی۔
حضورِ انور نے اس حوالے سے مزید سمجھایا کہ حدیث میں آیا ہے کہ جو روزے دار ہو، تو روزے والے سے کوئی لڑائی کرے یا کوئی سختی سے بولے تو تم کہہ دو کہ مَیں روزے میں ہوں، مَیں نہیں لڑوں گا، مَیں بُری بات نہیں کروں گا۔ قرآنِ شریف میں بھی آیا ہے کہ عَنِ اللَّغۡوِ مُعۡرِضُوۡنَ، لغو باتوں سے اِعراض کرو اوربچو، تو اسی طرح تم لوگ بھی لغو باتوں سے بچو۔ اور ٹھنڈا پانی پی لو اور بیٹھ جایا کرو اور وہاں سے چلی جایا کرو۔ چھوٹے بھائی ہیں، تو چھوٹے بھائیوں سے شفقت کرنی چاہیے، بڑے بھائی بہن ہیں، تو ان سے ویسے ہی عزت سے پیش آؤ اور اگر تم پرکوئی رُعب ڈالتا ہے، تو تم علیحدہ کمرے میں چلی جاؤ۔
پھر حضورِ انور نے ناصرہ سے دریافت فرمایا کہ تم پر بڑے رُعب ڈالتے ہیں، تو اس نے معصومیت سے عرض کیا کہ چھوٹا بھی، اس پر حضورِ انور نے مسکراتے ہوئے فرمایا کہ چھوٹا لڑتا ہے تو اس کومعاف کر دیا کرو اور کہو کہ تمہیں معاف کیا۔
مزیدبرآں حضورِ انور نے غلطیوں سے سبق سیکھنے کے حوالے سے فرمایا کہ قرآنِ شریف میں دو لڑنے والوں کی مثال ہے، ایک نے کہا کہ تم یہ کہتے ہو، وہ کہتے ہو تو مَیں تمہیں قتل کر دوں گا۔دوسرے نے کہا تم میری طرف قتل کرنے کے لیے ہاتھ بڑھاؤ گے، تو مَیں تمہیں کچھ نہیں کہوں گا، مَیں تو اللہ سے ہی دعا کروں گا۔ خیر ایک نےدوسرے کو مار دیا اور اس کے بعد آگے کہانی ہے کہ کس طرح وہ مر گیا اور اس کو دفنایا بھی نہیں اور پھر ایک کوّا آیا، اس نے زمین کھودی اور اپنے مرے ہوئے کوّے کو دفنایا۔ تو اس نے کہا کہ مَیں تو اس سے بھی بدّتر ہوں، تو آخر میں جو ہوتا ہے، وہ انسان کو غلط باتیں کرنے کا افسوس ہوتا ہے۔
آخر میں حضورِ انور نے ناصرہ کو تلقین فرمائی کہ جب وہ تمہارا چھوٹا بھائی بڑا ہو جائے گا یابھائی بہن جو بھی ہے، تو وہ کہے گا اوہو! مَیں غلطی کرتا تھا اور بہنوں سے لڑتا تھا، اس لیے تم شروع میں ہی معاف کر دیا کرو۔
ایک لجنہ ممبر نے عرض کیا کہ
بعض اوقات نوجوان لڑکوں کو بنیادی باتوں کا پتا نہیں ہوتا، جیسے کہ پاکی اور ناپاکی، پھر یہ لاعلمی عائلی مسائل کا باعث بن رہی ہوتی ہے، اس سلسلے میں ہماری راہنمائی فرما دیں کہ کس طرح چھوٹی عمر سے بچے کو ان باتوں کے بارے میں بتایا جائے؟
اس پر سوال کے نفسِ مضمون کی روشنی میں حضورِ انور نے بچوں کی تربیت میں والدین کی راہنمائی اور ذمہ داری کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ یہ تو بتانا چاہیے۔ماں باپ کا بتانا کام ہے، کیا بتاؤں۔ ان کی دینی تعلیم ہے، لٹریچر ہے، اطفال الاحمدیہ ہے، خدام الاحمدیہ ہے، وہاں بھی ان کو سمجھایا جاتا ہے۔ فقہی مسائل ہیں، آپس میں ماں باپ کی بے تکلفی ہو، تو ان کو بتائیں۔ لڑکیوں کو مائیں بتاتی ہیں کہ کیا ناپاکی پاکی ہے، لڑکوں کو باپ بتائیں۔ اگر ماؤں کو جھجھک ہے اور ان کی شروع میں گھروں کی تربیت یہ ہے، تو کوئی باہر سے آپ کو خطبہ تو نہیں دے گا کہ یہ ناپاکی اور یہ پاکی ہے، اس پر تم عمل کرو۔ یہ تو خود عقل کا استعمال کریں اور خود ہمّت کریں اور اس بات کو سوچیں کہ میری کیا ذمہ داریاں ہیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں اور ذمہ داریوں کا احساس یہی ہے کہ بچوں کی تربیت کرنی ہے۔ تو ان کو بچپن میں سمجھانا چاہیے، دس سال کا بچہ ہو جاتا ہے، پھر گیارہ سال کا ہو جاتا ہے، بارہ سال کا ہو جاتا ہے، مختلف عمروں سے گزرتے ہیں اور اسی طرح لڑکیاں مختلف عمروں سے گزرتی ہیں، تو ہر سٹیج پر جو بھی باتیں ہیں، ان کو ماں اور باپ کو سمجھانا چاہیے، تو اسی سے تربیت ہوتی ہے۔
آخر میں حضورِ انور نے اس پہلو کی جانب بھی توجہ دلائی کہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں اور اگر شرم آتی ہے، تو پھر لکھ کے ان کے سرہانے سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیا کریں کہ اسلام کی یہ پاکی اور یہ ناپاکی ہے، یہ تعلیم ہے، اس طرح تربیت بھی کر سکتے ہیں۔ اگر زیادہ شرم آتی ہے، آپ لوگ شرماتے بڑا ہیں، اوّل تو شرمانا نہیں چاہیے۔ نیز احساس دلایا کہ آجکل کے زمانے میں بغیر شرمائے فضول فلمیں تو دیکھ لیتے ہیں، یہاں باتیں کرتے ہوئے شرم آ جاتی ہے، اور کچھ نہیں تو ان کو لکھ کے سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیا کریں تاکہ وہ پڑھ لیں اور ان کو پتا لگ جائے کہ اسلام کی تعلیم پاکی کے بارے میں لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے کیا ہے۔
ایک شریکِ مجلس نے سوال کیا کہکیا مردوں کے لیے داڑھی رکھنا فرض ہے، کیونکہ کئی احمدی مرد اس معاملے میں سنجیدہ نہیں نظر آتے؟
اس پر حضورِ انور نے واضح فرمایا کہ داڑھی رکھنا فرض نہیں، بلکہ یہ سُنّتِ رسول صلی الله علیہ وسلم ہے۔ ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے حضورِ انور نے تذکرہ فرمایا کہ کسی نے حضرت مسیح موعودعلیہ السلام سے شکایت کی کہ ایک شخص نے بہت چھوٹی سی داڑھی رکھی ہوئی ہے، تو حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے فرمایا کہ جس حد تک کوئی شخص میرے طریقہ کار کی پیروی کرتا ہے، وہ اس کے میرے ساتھ تعلق کی عکاسی کرتا ہے، چونکہ یہ سُنّتِ نبویؐ ہے اس لیے داڑھی رکھنی چاہیے۔ اس حوالے سےحضورِ انور نے اپنی ذاتی مثال بھی پیش فرمائی کہ نوجوانی میں انہیں داڑھی رکھنے کا خیال نہیں آیا، مگر بعد میں ایک چھوٹی داڑھی سے آغاز کیا اور آہستہ آہستہ اسے بڑھایا۔ نیز توجہ دلائی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جن کے ہم پیروکار ہیں، ان کی محبّت میں سُنّت پر جتنا زیادہ عمل کرنے کی کوشش کریں گے، اتنا ہی زیادہ اجر ہمیں ملے گا۔ پس فرض نہ ہونے کے باوجود یہ یقینی طور پر سُنّت ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ کسی شخص کے ایمان کی مضبوطی اور اس سے اس کا تعلق اس کے طرزِعمل اور صورت کی تقلید کی کوششوں سے بھی ظاہر ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے جماعت کے عہدیداروں کے لیے شرط رکھی گئی ہے کہ وہ کم از کم داڑھی رکھیں، سوائے اس کے کہ کوئی خاص طبّی وجہ اس کی راہ میں روک ہو، یہ جماعت کے نفاذ کی حد ّہے۔تاہم یہ کوئی زبردستی نہیں ہے اور افراد پر لاٹھی نہیں چلائی جا سکتی۔آخر میں حضورِ انور نے اس بات کی بھی وضاحت فرمائی کہ مرد بھی داڑھی رکھنے پر مجبور کرنے کی شکایت کر سکتے ہیں، جیسا کہ کچھ خواتین حجاب کے معاملے میں کرتی ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ حجاب قرآنِ کریم کا صریح حکم ہے، جبکہ داڑھی فرض نہیں، بلکہ سُنّت ہے۔
ایک سائل نے راہنمائی کی درخواست کی کہ جب کوئی مشکل یا آزمائش طویل ہو جائے تو کیا کرنا چاہیے اور کس طرح اللہ پر اعتماد برقرار رکھتے ہوئے ثابت قدم رہا جا سکتا ہے؟
اس پر حضورِ انور نے مفصّل راہنمائی عطا فرمائی کہ دعا جاری رکھنی چاہیے۔ نیز حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے ارشاد کی روشنی میں بیان فرمایا کہ دعا کے قبول ہونے میں تاخیر جتنی زیادہ ہو، اُمید اتنی ہی زیادہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آخرکار اسے قبول فرمائے گا، اس لیے صبر اور حوصلے کی ضرورت ہے۔
اس تناظر میں حضورِ انور نے ایک معروف ولی کا قصّہ بھی سنایا کہ جس نے مسلسل تیس سال تک دعا کی۔ کئی مواقع پر اللہ تعالیٰ نے ان کو اطلاع دی کہ ان کی دعا قبول نہیں ہوگی اور یہ آزمائش مقدر ہے۔ ایک دن جب ولی دعا کر رہے تھے، ایک مُرید بھی بحالتِ کشف یہ آواز سُن رہا تھا، مُرید نے کہا کہ چونکہ اللہ نے فرمایا کہ دعا قبول نہیں ہوگی، توآپ دعا کرنا بند کر دیں۔ ولی نے جواب دیا کہ یہی واحد دروازہ ہے، جس کی طرف مَیں رجوع کر سکتا ہوں، اور کس پر بھروسہ رکھوں؟ اگر کسی پر اعتماد کرنا ہے تو صرف اللہ پر، کسی انسان پر نہیں۔ انہوں نے یہ عزم کیا کہ اگر دعا ابھی قبول نہیں ہوتی، تو شاید ایک دن قبول ہو ہی جائے گی یا یہ اللہ کی منشا ہے اور انہیں اس پر راضی رہنا چاہیے، اصل اجر تو آخرت میں ہے۔ اسی لمحے ولی اور مُرید پر کشف کی حالت طاری ہوئی اور معلوم ہوا کہ گذشتہ تیس سال کی تمام دعائیں قبول ہو چکی ہیں۔
مزید برآں حضورِ انور نے آنحضرتﷺ کی مثال بھی پیش فرمائی کہ جنہوں نے مکّہ میں لگاتار تیرہ سال شدید مشکلات برداشت کیں، اللہ تعالیٰ کے نزدیک کوئی نبی اُن سے زیادہ محبوب نہ تھا، ہجرت کے بعد بھی کئی سال جنگوں اور مکّہ کی فتوحات تک مسلسل مشکلات اور دشمنیوں کا سامنا کیا، پھر بھی صبر کیا اور اللہ پر اعتماد برقرار رکھا۔ آپؐ کی زندگی میں بچوں، لوگوں، دشمنوں اور رشتہ داروں سے متعلق غمّ اور مصیبتیں آئیں، لیکن آپؐ نے کبھی اللہ سے اُمید نہیں توڑی۔
آخر میں حضورِ انور نے اس بات پر زور دیا کہ اور کس راستے پر پھر جائیں، کہاں جائیں؟ نیز تلقین فرمائی کہ ہمیں یہ اُمید ہے کہ اگر ہم دنیا کی آزمائشیں صبر و استقامت سے گزاریں اور اللہ کے مقرر کردہ امتحان میں کامیاب ہوں، تو اگلی زندگی میں پھرعظیم اجر ملے گا۔ اصل زندگی تو آخرت کی زندگی ہے۔دنیا میں صرف ستّر یا اسّی سال گزارے جائیں گے، اگر ہم اللہ پر بھروسہ رکھیں، تو اجر آخرت میں حاصل ہوگا اور ان شاء اللہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔
ایک لجنہ ممبر نے سورۃ النور کی اس آیت اَلۡخَبِیۡثٰتُ لِلۡخَبِیۡثِیۡنَ وَالۡخَبِیۡثُوۡنَ لِلۡخَبِیۡثٰتِ ۚ وَالطَّیِّبٰتُ لِلطَّیِّبِیۡنَ وَالطَّیِّبُوۡنَ لِلطَّیِّبٰتِ کے مفہوم کے متعلق سوال کیا کہ اگر کوئی بہت نیک شخص ایسے شریکِ حیات سے منسلک ہو جائے جو دین سے دُور ہو تو اس آیت کو کس طرح سمجھا جائے؟
اس پر حضورِ انور نے جامع راہنمائی عطا فرمائی کہ سب سے پہلے یہ دیکھنا چاہیے کہ کیا نکاح سے پہلے اللہ تعالیٰ سے راہنمائی کے لیے دعا کی گئی تھی۔ اگر دعا کی گئی تھی اور دل کو اطمینان حاصل ہوا تھا، تو ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس شریکِ حیات میں کچھ دیگر نیک پہلو دیکھے ہوں۔ لیکن اگر واقعی وہ شریکِ حیات بدکردار ثابت ہو، تو اسلام نے اس میں عورت کے لیے خُلع اور مرد کے لیے طلاق راستہ رکھا ہے۔بایں ہمہ حضور انورنے نصیحت فرمائی کہ نکاح سے پہلے ہمیشہ یہ دعا کرنی چاہیے کہ اگر یہ رشتہ میرے حق میں بہتر ہے، تو اے اللہ !اسے ممکن بنا دے، اور اگر نہیں، تو اس میں کوئی رکاوٹ پیدا فرما دے۔ لیکن اگر کوئی شخص محض ذات، دولت، خاندان یا ظاہری خوبصورتی کو دیکھ کر نکاح کرے، تو پھر وہ اس کے نتائج کا ذمہ دار خود ہے، اللہ تعالیٰ نہیں۔
مزید برآں حضورِ انور نے سوال کے نفسِ مضمون کی روشنی میں بیان فرمایا کہ آیت کا عمومی مفہوم یہ ہے کہ بدکردار لوگ عموماً بدکردار لوگوں کی طرف مائل ہوتے ہیں اور اُن کے درمیان ایسے رشتے عام ہیں، تاہم استثنائی صورتیں موجود ہیں، کبھی نیک عورت بدکردار مرد کے نکاح میں بھی آ جاتی ہے۔ تو ایسی صورت میں پہلے دعا کرنی چاہیے اور نصیحت و اصلاح کی کوشش کرنی چاہیے۔ اگر باوجود حقیقی کوشش کے وہ شخص باز نہ آئے اور بدی میں انتہا تک پہنچ جائے، تو علیحدگی کا راستہ کھلا ہے۔
آخر میں حضورِ انور نے اس بات کو بھی واضح فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے کسی مخصوص شادی کے لیے یہ نہیں فرمایا کہ وہ ضرور ہونی چاہیے، ماسوائے اس کے کہ کسی کو الہام ہو یا کسی صالح شخص کے ذریعہ خاص راہنمائی حاصل ہو۔ اس لیے کسی رشتے کے غلط ثابت ہونے پر اللہ کو الزام نہیں دیا جا سکتا۔ عام طور پر نیک شخص دانستہ کسی بدکار سے شادی نہیں کرتا۔نکاح سے پہلے شریکِ حیات کے بارے میں مکمل تحقیق کرنی چاہیے، اگر کسی کے عیوب معلوم ہونے کے باوجود نکاح کیا جائے، تو یہ خود اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ شخص حقیقی معنی میں نیک نہیں۔
ملاقات کے اختتام پر حضورِ انور نے ازراہِ شفقت تمام شاملاتِ مجلس کو بطورِ تبرک قلم کا تحفہ عطا فرمایا اور چھوٹی بچیوں میں چاکلیٹ تقسیم فرمائی۔ یہ روح پرور نشست حضورِ انور کے دعائیہ کلمات ’’اللہ حافظ، السلام علیکم‘‘ پر اختتام پذیر ہوئی۔
(بشکریہ روزنامہ الفضل انٹر نیشنل 1 نومبر 2025ء)