اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2026-10-15

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا نیشنل اجتماع لجنہ اماء اللہ آئرلینڈ ۲۰۲۶ء

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا نیشنل اجتماع لجنہ اماء اللہ آئرلینڈ ۲۰۲۶ء

کے موقع پر بصیرت افروز پیغام

مکرمہ صدر صاحبہ لجنہ اماء اللہ آئرلینڈ

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

الحمد للہ، اللہ تعالیٰ آپ کو اپنا سالانہ اجتماع منعقد کرنے کی توفیق عطا فرما رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس اجتماع کو آپ سب کے لئے بے شمار برکات کا موجب بنائے۔ اجتماعات کا اصل مقصد اپنی روحانی اور اخلاقی حالت کا جائزہ لینا، دینی علم میں اضافہ کرنا اور اللہ تعالیٰ سے اپنے تعلق کو مضبوط کرنا ہے۔ اس لیے ہر احمدی خاتون اور بچی کو کوشش کرنی چاہیے کہ وہ نمازوں کی پابندی، تلاوتِ قرآنِ کریم، دعاؤں اور نیک اعمال میں ترقی کرے۔ اللہ تعالیٰ اس اجتماع کو ہر لحاظ سے کامیاب فرمائے اور آپ سب کو حقیقی معنوں میں اپنی اصلاح کرنے اور جماعت احمدیہ کی خدمت کرنے والی بننے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

 

خلاصہ خطاب بر موقع سالانہ اجتماع مجلس انصار اللہ برطانیہ 2026

امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا مجلس انصار اللہ برطانیہ کے سالانہ نیشنل اجتماع 2026ءکے موقع پر پُر معارف اختتامی خطاب کا خلاصہ

حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کی بیعت کرنے کا مقصد یہی ہے کہ ایک ایسی جماعت قائم ہو جو اللہ تعالیٰ اور بندوں کے حقوق قائم کرنے والی،اُنہیں اپنے اُوپر لازم کرنے والی اور اُن پر عمل کرنے والی ہو

اِس بات پر غور کریں کہ پہلے نحن انصار اللّٰہ کہنے والوں نے، جن کا قرآنِ شریف میں ذکر ہے، یہ اعلان کیا تھا کہ ہم مسیح کے مشن کو چلانے میں اُس کے مددگار ہوں گے، اُس کے پیغام کو پہنچائیں گے اور اُس کی مدد کریں گے۔ اور مسیحِ محمدیؐ کے انصار پر تو یہ اِس سے بڑھ کر ذمہ داری ہے کہ اپنے اِس عہد کو پُورا کریں۔ اور جن شرائط پر بیعت کی ہے، اُن شرائط کو پُورا کرنے کے لیے اپنی تمام تر طاقتوں اور صلاحیتوں کے ساتھ عمل کریں۔ اپنے گھروں کو بھی دنیا کی نجاستوں سے پاک کریں اور بچائیں، معاشرے میں بھی خدا تعالیٰ کی حکومت قائم کرنے کے لیے اُن پر بھرپور کوشش کریں اور آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کا جھنڈا لہرانے کے لیے اپنی انتہائی کوشش کریں

ہر ایک کو اپنا جائزہ لینا چاہیے کہ گذشتہ ایک سال میں ہم نے اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کو اپنی زندگیوں کا حصّہ بناتے ہوئے عہدِ بیعت نبھانے کی کوشش کی ہے؟ اگر نہیں یا اس معیار کے مطابق نہیں کی تو پھر قابلِ فکر بات ہے۔ پھر نحن انصار اللّٰہ کا نعرہ لگا دینا کافی نہیں ہو گا۔ اور انصار الله کا دعویٰ پھر خالی دعویٰ ہی ہوگا

 
 
 

(۲۰؍ستمبر ۲۰۲۶ء، نمائندگان الفضل انٹرنیشنل) آج مجلس انصاراللہ برطانیہ کے سالانہ نیشنل اجتماع کا تیسرا اور آخری روز تھا۔ یاد رہے کہ یہ اجتماع گلفورڈ میں واقع Hook Lane پر موجود پچاس ایکڑ زمین پر منعقد ہوا۔ اس اجتماع کے اختتامی اجلاس کو بنفس نفیس رونق بخشنے کے لیے امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز چار بج کر ۲۶؍منٹ پر اجتماع گاہ میں تشریف لائے۔ نماز ظہر و عصر کی ادائیگی کے بعد حضورانور چار بج کر ۴۳؍منٹ پر کرسیٔ صدارت پر تشریف فرما ہوئے جس کے بعد اجلاس کی کارروائی کا باقاعدہ آغاز ہوا۔

تشہد، تعوذ اور سورۃ الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ

مَیں ہمیشہ آپ کو اِس بات کی یادہانی کرواتا ہوں کہ آپ جو انصاراللہ کہلاتے ہیں، آپ جماعت کا وہ حصّہ ہیں جو تجربے اور عمر کے لحاظ سے اپنی انتہا کو پہنچ چکے ہیں یا اُس گروہ میں داخل ہو چکے ہیں جو عمر اور تجربے کے لحاظ سے آخری عمر کا گروہ ہے۔ اِس کے بعد تو پھر اگلا جہان ہی ہے۔

ہر ناصر کو اِس بات پر غور کرتے رہنا چاہئے کہ ہم نے اپنی زندگی کے مقصد کو سمجھنا ہے، اپنے لیے بھی اور اپنی اولادوں اور نسلوں کے لیے بھی ہم نے یہ غور کرنا ہے کہ ہماری ذمہ داریاں کیا ہیں۔

ہم نے یہ دیکھنا ہے کہ احمدی ہونے کے بعد جو ہم نے عہد کیا ہے اُسے کس حدّ تک پُورا کر رہے ہیں؟ اور کس حدّ تک اپنے گھروں میں اُسے پُورا کروانے کے لیے تلقین کر رہے ہیں اور کوشش کر رہے ہیں؟

حضورِ انور نے فرمایا کہ ہم انصاراللہ کی تنظیم میں شامل ہو کر نحن انصار اللّٰه کا اعلان کرتے ہیں۔ پس

اِس بات پر غور کریں کہ پہلے نحن انصار اللّٰہ کہنے والوں نے، جن کا قرآنِ شریف میں ذکر ہے، یہ اعلان کیا تھا کہ ہم مسیحؑ کے مشن کو چلانے میں اُس کے مددگار ہوں گے، اُس کے پیغام کو پہنچائیں گے اور اُس کی مدد کریں گے۔ اور مسیحِ محمدیؐ کے انصار پر تو یہ اِس سے بڑھ کر ذمہ داری ہے کہ اپنے اِس عہد کو پُورا کریں۔ اور جن شرائط پر بیعت کی ہے، اُن شرائط کو پُورا کرنے کے لیے ان پر اپنی تمام تر طاقتوں اور صلاحیتوں کے ساتھ عمل کریں۔ اپنے گھروں کو بھی دنیا کی نجاستوں سے پاک کریں اور بچائیں، معاشرے میں بھی خدا تعالیٰ کی حکومت قائم کرنے کے لیے بھرپور کوشش کریں اور آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کا جھنڈا لہرانے کے لیے اپنی انتہائی کوشش کریں۔

ہمیشہ یادرکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اِنَّ الۡعَھْدَ کَانَ مَسۡـُٔوۡلًا کہ یقیناً عہد کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ پس ہمیں اِس بات کو ہمیشہ سامنے رکھنا چاہئے۔ ہم نے اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق اِس زمانے میں جو سب سے بڑا عہد کیا ہے، وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے یہ عہد ہے کہ ہم آپؑ کی بیعت میں شامل ہوکر اُن تمام بُرائیوں سے بچنے کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں استعمال کریں گے اور تمام نیکیوں کے اختیار کرنے کے لیے اور اپنی روحانیت کو بڑھانے کے لیے اور اللہ تعالیٰ کا قُرب پانے کے لیے مکمل طور پر اپنی تمام طاقتوں کے ساتھ کوشش کریں گے اور اِس سوچ کے ساتھ کریں گے کہ ہمارے اِس عمل سے اللہ تعالیٰ ہم پر فضل فرمائے گا۔ یہ کوشش کسی احسان کے طور پر نہیں ہے بلکہ ہمارے ہی فائدے کے لیے ہے۔

ہمیشہ یہ مدّنظر رکھنا چاہئے کہ یہ ہمارا عہد ہے اور ہم نے جو عہد کیا ہے، تو وہ صرف عہد برائے عہد نہیں ہے، بلکہ اُس کو پُورا کرنے کے لیے عہد کیا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے جو یہ فرمایا ہے کہ تمہارے عہدوں کے بارے میں تم سے پوچھا بھی جائے گا۔پس اِس بات کو ہمیشہ ہر احمدی کو اور خاص طور پر ہر ناصر کو مدّ نظر رکھنا چاہئے۔

گذشتہ سال مَیں نے تقویٰ اور بیعت کے حوالے سے انصار کو کچھ کہا تھا اور شرائطِ بیعت پر باتیں کی تھیں۔ اِسی طرح مَیں نے یُوکے جلسہ سالانہ میں بھی اور جرمنی کے جلسہ سالانہ میں بھی شرائطِ بیعت کے مضمون کو ہی بیان کیا تھا اور شرائطِ بیعت کے جو کچھ پہلو تھے، اُن کو سامنے رکھتے ہوئے، اُن پر تفصیلی روشنی بھی ڈالی تھی۔

ہر احمدی اور ہرناصر کو ہمیشہ اِن باتوں پر غور کرتے رہنا چاہئے۔ یہ نہیں کہ ایک دفعہ مَیں نے تقریر کی تو ختم ہو گئیں، اُن کو سُنتے رہیں ، جُگالی کرتے رہیں، ایم ٹی اے پر یہ آتی ہیں۔

گو کہ تفصیلی طور پر دوبارہ مَیں نے اِن دو تقریروں میں ساری باتیں cover نہیں کیں جو بیعت کی شرائط میں سے ساری باتیں ہیں، لیکن اِس سے پہلے، کئی سال پہلے، اپنی خلافت کی ابتدا میں شرائطِ بیعت بیان کی تھیں جو کہ کتاب کی صورت میں شائع ہو چکی ہیں۔

بہرحال ہم نے اپنے عہدِ بیعت کو نبھانا ہے، وہ کوشش کرنی ہے، جو انسانی طاقت کے لیے ممکن ہے، اور ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ عہدِ بیعت کرنے کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ہم سے کیا چاہتے ہیں۔

آپؑ نے تو بڑے واضح طور پر فرمایا ہے کہ میرے سلسلے میں اگر داخل ہوئے ہو، تو یہ سوچ کر داخل ہو کہ تم اٰخَرِیۡنَ مِنْھُمۡ کے مصداق بننے والے ہو۔ اِس لیے اپنے تمام پُرانے جو مشاغل ہیں، غلط قسم کے کام ہیں، دنیاوی کام ہیں، اِن سب کو دُور کرنا ہو گا۔ اور دنیاوی خواہشات کو دُور کرنا ہو گا۔ اور اپنی ساری توجہ اللہ تعالیٰ کی طرف کرنی ہو گی۔ تبھی تم عہدِ بیعت کو پُورا کر سکتے ہو۔ اللہ بہرحال مقدّم ہونا چاہئے۔ ’’دین کو دنیا پر مقدّم رکھوں گا‘‘ کا عہد کرتے ہیں تو اِس کا مطلب یہی ہے کہ ہر معاملے میں اللہ تعالیٰ کا حق پہلے ہے۔پس ہمیں سوچنا چاہئے، اپنا جائزہ لینا چاہئے کہ کیا ہم اِس سوچ کے ساتھ اپنی زندگی گزارنے کی کوشش کر رہے ہیں؟

آپؑ نے یہ بھی فرمایا کہ میرے ہاتھ پر اگر بیعت کی ہے اور مجھے حَکَم اور عدل مانا ہے، تو پھر

اپنے ایمان اور عرفان میں ترقی کرو۔

آپؑ فرماتے ہیں کہ جو شخص ایمان لاتا ہے، اُسے اپنے ایمان میں یقین اور عرفان تک ترقی کرنی چاہئے۔ اور ایمان میں ترقی یہ ہے کہ جو کچھ مَیں نے کہا ہے، اُس پر اتنا یقین رکھو کہ کوئی چیز تمہیں اِس بات سے روکنے والی نہ ہو۔ اور ہمیشہ میری باتوں پر حُسنِ ظنّ رکھو۔ اور یہ سمجھو کہ یہ تمہارے ایمان کا حصّہ ہے۔ کیونکہ میرا آنا اللہ تعالیٰ کی پیشگوئی کے مطابق اور آنحضرت ﷺ کی پیشگوئی کے مطابق ہے۔

پس آپؑ فرماتے ہیں کہ مَیں آنحضرت ﷺ کی نمائندگی میں آیا ہوں۔ اِس لیے مَیں جو باتیں کہوں اِنہیں غور سے سُنو اور حَکَم اور عدل کے طور پر میری باتوں کو مانو اور اپنے عہدوں کو پُورا کرو۔ اور ہمیشہ یادرکھو کہ اگر تم یہ نہیں کرو گے تو تم اپنا حق بیعت اور عہدِ بیعت حقیقت میں نبھا نہیں رہے ہو گے۔پس یہ وہ سوچ ہے کہ جسے ہر ناصر کو ہمیشہ اپنے سامنے رکھنا چاہئے۔

پھر آپؑ کے ارشادات پر عمل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ اِس کے لیے آپؑ کی کُتُب اور ملفوظات کا مطالعہ بھی کرنا چاہئے۔

ہر ایک کو اپنا جائزہ لینا چاہئے کہ گذشتہ ایک سال میں ہم نے اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کو اپنی زندگیوں کا حصّہ بناتے ہوئے عہدِ بیعت نبھانے کی کوشش کی ہے؟ اگر نہیں یا اُس معیار کے مطابق نہیں کی تو پھر قابلِ فکر بات ہے۔ پھر نحن انصار اللّٰہ کا نعرہ لگا دینا کافی نہیں ہو گا۔ اور انصار الله کا دعویٰ پھر خالی دعویٰ ہی ہوگا۔

پھر جیسا کہ مَیں نے کہا کہ آپؑ نے فرمایا تھا کہ عہدِ بیعت میں شامل ہو کر تم اٰخَرِیۡنَ مِنْھُمۡ میں شامل ہو گئے ہو۔ اِس لیے تمام پُرانی غلط قسم کی حرکتوں کو چھوڑنا پڑے گا اور دنیا کی بیہودہ قسم کی حرکتیں ہیں ، لغویات ہیں، غلط باتیں ہیں، یا ایسی چیزیں ہیں کہ جو تمہیں دین سے ہٹانے والی ہیں، یا تمہارے ایمان کو کمزور کرنے والی ہیں، یا تمہارے عمل میں کسی قسم کی کمزوری ڈالنے والی ہیں، اُن کو تمہیں بہرحال چھوڑنا ہوگا۔ یہ اِسی طرح ہے کہ جیسے تمہارے پُرانے کپڑےہیں یا گندے کپڑے ہیں، اُن کو اُتار کر صاف اور دُھلے ہوئے کپڑے پہنتے ہو۔آپؑ نے یہ لفظ استعمال کیا ہے کہ جھوٹے مشاغل کے کپڑے اُتارواور اپنی ساری توجہ خدا تعالیٰ کی طرف کرو۔

آپؑ فرماتے ہیں کہ اِس بیان سے میرا مدّعا اور مقصد یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے یہ سلسلہ قائم کیا ہے اور اُس کی تائید میں صدہا نشان اُس نے ظاہر کیے ہیں، ہم یقیناً مانتے ہیں کہ بہت سے نشانات ہیں، آسمانی بھی اور زمینی بھی، جو اللہ تعالیٰ نے ظاہر فرمائے۔ فرمایا کہ اِس کی غرض یہ ہے کہ یہ جماعت صحابہؓ کی جماعت ہو۔ اور پھر خیر القرون کا زمانہ آ جاوے۔ جو لوگ اس سلسلہ میں داخل ہوں، چونکہ وہ اٰخَرِیۡنَ مِنْھُمۡ میں داخل ہوتے ہیں، اس لیے وہ جھوٹے مشاغل کے کپڑے اُتار دیں۔

جو بھی غلط قسم کے مشاغل تھے، عادتیں تھیں، یا رسمیں تھیں، اُن کو چھوڑنا پڑے گا۔ اور جو موجودہ زمانے کی رسمیں ہیں، نئی نئی باتیں ہیں، بیہودہ چیزیں ہیں، لغویات ہیں، اِن سے بھی بچنا ہو گا، اِن کو بھی چھوڑنا ہو گا۔ تبھی ہم حقیقی احمدی کہلا سکیں گے۔

آپؑ نے فرمایا کہ یہ زمانہ جو آیا ہے یعنی مسیح موعودؑ کا زمانہ یہ پیشگوئیوں کے مطابق آیا ہے۔ اِس لیے اگر میری بیعت میں آگئے ہو تو پھر وہ تمام باتیں اختیار کرو جو تم کو کرنے کا مَیں نے کہا ہے۔ اور وہ باتیں کون سی ہیں جنہیں کرنے کا کہا ہے۔ وہ بنیادی طور پر وہی باتیں ہیں جن شرائط پر ہم نے بیعت کی ہے۔

حضورِ انور نے فرمایا کہ جیسا کہ مَیں نے کہا ہے کہ اِس کی تفصیل مَیں مکمل بیان کر چکا ہوں اور کتابی شکل میں موجود ہے۔ اِس کے بعد آجکل پھر مزید تفصیلات بھی مَیں نے اِس کی بیان کی ہیں، اِن کو بھی غور سے بار بار سننا چاہئے، ہمارے ریکارڈ میں موجود ہیں، انٹرنیٹ ہر ایک کے پاس ہے، الاسلام کی ویب سائٹ ہے، ایم ٹی اے کی سائٹ ہے، ہر جگہ یہ موجود ہیں۔ اور پھر اِس پر عمل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔پس یہ جب ہم کریں گے، تبھی ہم اُس مقصد کو حاصل کرنے والے ہوں گے، جو آپؑ کی آمد کا مقصد ہے۔ اور اِس مقصدکو حاصل کرنے والے ہوں گے، جس کے حاصل کرنے کے لیے آپؑ نے ہم سے بیعت لی ہے۔

اِس بات پر آپؑ نے خاص طور پر توجہ دلائی تھی کہ

توحید کا اقرار جماعت کو کرنا چاہئے اور تبتّل اِلَی الله اور ذکرِ الٰہی اور حقوق الاخوان میں خاص رنگ پیدا ہونا چاہئے۔ یہ ساری باتیں اگر ہوں گی تو تبھی ایک احمدی حقیقی احمدی کہلا سکتا ہے، تبھی ایک ناصر حقیقی ناصر کہلا سکتا ہے، مددگار کہلا سکتا ہے۔ جو مسیح موعود علیہ السلام کے پیغام کو دنیا میں پھیلانے والا ہو گا۔ جو اپنی نسلوں کی اِس نہج پر تربیت کرنے والا ہو گا۔

آپؑ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے حقوق میں سب سے بڑھ کر حقّ یہ ہے کہ اُس کی عبادت کی جائے۔ اور یہ عبادت کسی ذاتی غرض پر مبنی نہ ہو۔ یہ نہیں ہونا چاہئے کہ ہم نے کچھ فائدہ اُٹھانا ہے اور اِس لیے ہم نے عبادت کرنی ہے۔ یا ہم نے دوزخ سے بچنا ہے اور بہشت میں جانا ہے، اِس لیے عبادت کرنی ہے۔ اگر یہ نہ بھی ہو، تب بھی اُس کی عبادت کی جائے اور اللہ تعالیٰ سے ذاتی محبّت ہو، جو مخلوق کو اپنے خالق سے ہونی چاہئے اور اُس کو سامنے رکھتے ہوئے عبادت ہونی چاہئے۔ جب یہ ہوگا تو پھر دوزخ اور بہشت کا سوال ہی پیدا نہیں ہو گا۔

حضورِ انور نے فرمایا کہ

اگر ہم اپنا جائزہ لیں، تو اِس میں بہت کمی ہے، ہماری عبادتیں اِس معیار کی نہیں ہیں۔ پس اِس پر ہمیں بہت غور اور توجہ کرنے کی ضرورت ہے۔

پھر آپؑ نے فرمایا کہ

ایک احمدی کا یہ بھی کام ہے کہ بنی نوع انسان کے ساتھ ہمدردی کرے۔

بنی نوع انسان کی ہمدردی میں میرا مذہب یہ ہے کہ

جب تک دشمن کے لیے بھی دعا نہ کی جاوے، پُورے طور پر سینہ صاف نہیں ہوتا۔ یہ ہمدردی کا وہ معیار ہےکہ جو ہم نے اپنانا ہے۔

حضورِ انور نے فرمایا کہ لوگ ہم سے پوچھتے ہیں کہ Love for all, Hatred for None کا کیا مطلب ہے؟ تو Love for All Hatred for None کا یہی مطلب ہے کہ اگر ہم یہ نعرہ لگاتے ہیں کہ ہر ایک سے ہمارے دل میں ہمدردی اور پیار ہے اور ہم نفرت کسی سے نہیں کرتے، تو پھر آپؑ فرماتے ہیں کہ پھر دشمن کے لیے بھی اپنا سینہ صاف کرو۔ اُن کے لیے بھی ہمدردی کے جذبات ہوں۔ اُن کے لیے دعائیں کرو۔ اور اُن کو سیدھے راستے پر لانے کی کوشش کرو۔ تو تبھی ان کے لیے یہ ہمدردی نفرت دُور کرنے کا باعث بنے گی۔

دعا کے حوالے سے آپؑ نے بڑے واضح طور فرمایا کہ قرآنِ شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اُدۡعُوۡنِیۡۤ اَسۡتَجِبۡ لَکُمۡ کہ مجھ سے مانگو، مَیں تمہاری دعائیں قبول کروں گا۔ اِس میں آپؑ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ کوئی قید نہیں لگائی کہ دشمن کے لیے دعا کرو گے تو مَیں قبول نہیں کروں گا۔ بلکہ آپؑ نے فرمایا کہ مَیں تو کہتا ہوں کہ دشمن کے لیے دعا کرنا بھی سُنّت ہے۔ اور اِس کی مثال آپؑ نے اِس طرح دی کہ حضرت عمر رضی الله عنہ اسلام کے خلاف تھے، لیکن آنحضرتﷺکی دعا سے وہ مسلمان ہو گئے۔

حضورِ انور نے توجہ دلائی کہ اِس لیے

ہماری کسی سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں۔ ہم نے ہر ایک کے لیے دعا کرنی ہے۔ اور ہر ایک کو سیدھا راستہ دکھانے کی کوشش کرنی ہے۔ اِس سوچ کے ساتھ جب ہم اپنی تبلیغ کریں گے تو اُس میں برکت بھی پڑے گی اور نئے نئے راستے کھلیں گے۔ تبلیغ کے لیے بہت ساری کوششیں ہوتی ہیں لیکن سوچ اتنی خالص نہیں ہوتی جتنی ہونی چاہئے۔

آپؑ نے اپنے بارے میں بڑے یقین سے فرمایا کہ مَیں خدا کا شکر کرتا ہوں کہ میرا کوئی دشمن نہیں ہے۔ اور کوئی ایسا شخص نہیں ہے کہ جس نے میری دشمنی کا اظہار بھی کیا ہو اور مَیں نے دو تین مرتبہ کم ازکم بڑے درد سے اس کی بہتری کے لیے دعا نہ کی ہو۔ اور یہی آپؑ نے فرمایا کہ مَیں اپنے ماننے والوں کو بھی کہتا ہوں کہ میری بیعت میں آئے ہو، تو انسانی ہمدردی کے حوالے سے بیعت کی جو شرط ہے، وہ یہ بھی ہے کہ تمہیں لوگوں کے لیے دعا کرنی چاہئے اور اِن کے لیے ہمدردی رکھنی چاہئے۔

آپؑ نے فرمایا کہ تم یہ بھی یاد رکھو کہ تم میرے ساتھ تعلق رکھتے ہو تو تمہیں چاہئے کہ وہ قوم بنو جس کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:فَاِنَّھُمْ قَوْمٌ لَا يَشْقٰی جَلِيْسُهُمْ۔ یعنی وہ ایسی قوم ہے کہ اُس کا ہم جلیس، اُس کے ساتھ بیٹھنے والا، بدبخت نہیں ہوتا۔ اور یہ خلاصہ ہے ایسی تعلیم کا جو تَخَلَّقُوْا بِاَخْلَاقِ اللّٰهِ میں پیش کی گئی ہے۔

حضورِ انور نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی باتیں ماننی ہیں، اللہ تعالیٰ کے رنگ میں رنگین ہونا ہے اور یہی اللہ تعالیٰ کا حکم ہے۔ پس تم لوگوں کو اِس طرح اپنی حالتوں کو بدلنا پڑے گا کہ تمہارے ساتھ بیٹھنے والےبھی نیکیوں کا اثر لینے والے ہوں اور نیکی کی طرف آنے والے ہوں۔ پس

ہمیں اِس بات کو ہمیشہ سامنے رکھنا چاہئے اور اِس پر غور کرنا چاہئے کہ ہم کس حد تک نیکیوں کا اثر دوسروں پر ڈالتے ہیں۔

پھر اِسی طرح آپؑ نے فرمایا کہ قرآنِ شریف کی تعلیم تم اپنے اُوپر لاگو کرو۔

اِس کے لیے آپؑ نے فرمایا کہ مَیں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ اُسے بار بار پڑھو۔

جو قرآنِ شریف کے احکامات ہیں اُنہیں سمجھو اور سمجھ کر اپنے اُوپر لاگو کرنے کی کوشش کرو۔

اور پھر جب خود یہ عمل کرو گے تو اِسی سے دنیا پر اسلام کی خوبصورتی ظاہر ہو گی۔ اِس لیے

ہر احمدی کو قرآنِ کریم بڑے غور سے پڑھنا چاہئے۔ اور انصار کو خاص طور پر پڑھنا چاہئے۔ اِس کا ترجمہ پڑھنے کی طرف بھی توجہ دینی چاہئے۔

آپؑ نے فرمایا کہ ہمارے مخالف بھی اِسی لیے ہماری مخالفت کرتے ہیں کہ قرآنِ شریف کو اُنہوں نے صحیح پڑھا نہیں ہے اور نہ اُس کو سمجھتے ہیں۔ اگر وہ قرآنِ کریم کو حقیقتاً سمجھ کر پڑھیں تو اُنہیں نُور اور حکمت اور معرفت بھی عطا ہو جائے۔

حضورِ انور نے تلقین فرمائی کہ یہ نُور اور حکمت اور معرفت ہم احمدیوں کو حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ اِس کا ترجمہ بھی پڑھیں۔ اِس کی تفسیر بھی پڑھیں تاکہ ہمیں زیادہ سے زیادہ اِس کا علم حاصل ہو۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تفسیر پڑھ کر الله تعالیٰ ہماری راہنمائی کرتا ہے۔

پس آپؑ نے ہمیں بھی یہ تلقین فرمائی ہے کہ قرآنِ کریم کو پڑھو، اِس میں دلیلیں تلاش کرو، اِس میں تمہیں ہر قسم کی دلیل مل جاتی ہے۔ اسلام کی سچّائی کی دلیل ہے۔ خدا تعالیٰ کے وجود کی دلیل ہے۔ بُرائیوں سے بچنے کے طریق ہیں۔ حقوق العباد ادا کرنے کے طریق ہیں۔ اور بہت ساری اَور باتیں ہیں، سب کی تعلیم ہمیں اِس میں ملتی چلی جائے گی، جسے آپؑ نے فرمایا کہ لوگوں کو بھی بتاؤ۔ اور اِس کے ذریعے سےلوگوں کو صحیح راستہ دکھانے کا باعث بنو۔ اور اسلام اور احمدیت کی خوبیاں لوگوں پر ظاہر کرو۔ جس سے اُن پر خاص طور پر آجکل کے زمانے میں ظاہر ہو گا کہ اسلام کو جس طرح یہ لوگ سمجھتے ہیں، اسلام وہ نہیں ہے، بلکہ اسلام تو ایک ایسا دین ہے کہ جو خدا تعالیٰ کا قُرب دلانے والا ہے، اُس کی عبادت کی طرف توجہ دلانے والا ہے، اور پھر حقوق العباد کی طرف توجہ دلانے والا بھی ہے۔ اور معاشی اور معاشرتی ، جتنے بھی مسائل ہیں، سب کا حل قرآنِ کریم پیش کرتا ہے۔پس آپؑ نے بار بار اِس طرف توجہ دلائی ہے کہ تم قرآنِ کریم کو سمجھنے کی کوشش کرو۔ اور اِس کا ترجمہ پڑھو۔ اور کبھی نا اُمید نہ ہو کہ پتا نہیں کہ ہم سچے ہیں یا نہیں!

حضورِ انور نے فرمایا کہ آجکل بعض نوجوانوں میں یہ بات آجاتی ہے۔ اگر انصار کو پُورا علم ہو تو اِن نوجوانوں کے شکوک خود بھی دُور کر سکتے ہیں۔

آپؑ فرماتے ہیں کہ ہم یقیناً سچّے ہیں اور ہمیں یقین کرنا چاہئے کہ ہم یقیناً سچّے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا دعویٰ یقیناً سچّا ہے اور آنحضرت ﷺکی پیشگوئیوں کے مطابق اور اللہ تعالیٰ نے قرآنِ شریف میں جس طرح واضح طور پر فرمایا ہے، کے مطابق آپؑ کا آنا ہے۔

پس جب ہم قرآنِ شریف پڑھیں گے، اُس پر غور کریں گے، تو اِس کے مزید دلائل کھل کر سامنے آتے چلے جائیں گے۔

حضورِ انور نے فرمایا کہ عبادت کا اصل حق جو ہے وہ نماز ہے۔ تو نماز کی طرف توجہ دلاتے ہوئے آپؑ فرماتے ہیں کہ تمہیں نمازیں اِس طرح پڑھنی چاہئیں کہ جس طرح آنحضرتﷺنے ہمیں سکھایا اور آپؐ نے پڑھیں۔ فرمایا کہ نماز کو اِس طرح پڑھو جس طرح رسول اللهؐ پڑھتے تھے۔ اور آپؐ کس طرح پڑھتے تھے؟ آپؐ نے ایک صحابیؓ کو چار دفعہ حکم دیا تھا کہ جاؤ اور جا کر غور کر کے اور سوچ سوچ کر اورآرام سے ٹھیک طرح نماز پڑھو۔ آپؐ کے اپنے نماز پڑھنے کے معیار تو بہت اعلیٰ تھے جن کے بارے میں حضرت عائشہ رضی الله عنہا نے فرمایا کہ اِن کی خوبصورتی اور لمبائی کا تو نہ ہی پوچھو!

حضورِ انور نے توجہ دلائی کہ

ہمیں بھی ٹھہر ٹھہر کر ، سمجھ سمجھ کر نماز پڑھنی چاہئے اور اللہ تعالیٰ سے مانگنا چاہئے۔

پھر آپؑ نے سورت فاتحہ کے بارے میں فرمایا کہ اِس کو بھی سمجھ کر پڑھو۔ اور آپؑ نے یہ سمجھایا ہے کہ سورت فاتحہ جو ہے یہ بھی ایک دعا ہے۔ اور الله تعالیٰ نے اِس میں ہمیں دعا کا طریق بھی سکھا دیا ہے۔ نہ صرف دعا سکھائی بلکہ دعا کس طرح کرنی چاہئے یہ بھی بتا دیا۔ اور فرماتے ہیں کہ قرآنِ شریف کے شروع میں یہ دعا سکھائی ہے اور ساتھ ہی دعا کے آداب بھی اِس میں بتا دیے۔ سورت فاتحہ کا نماز میں پڑھنا لازمی ہے، اور یہ دعا ہی ہے، جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اصل دعا نماز میں ہی ہوتی ہے۔ اِس کی وضاحت میں آپؑ فرماتے ہیں کہ دعا سے پہلے ضروری ہے کہ اللہ کی حمد و ثناء کی جائے کہ جس سے اللہ تعالیٰ کے لیے روح میں ایک جوش اور محبّت پیدا ہو۔

حضورِ انور نے فرمایا کہ لوگ اِس زمانے میں مجھے بھی لکھتے ہیں کہ اِس کام کے لیے یا اُس کام کے لیے ہم کیا دعا کریں؟ کون سا ذکر کریں؟ ہمیں کوئی دعائیں بتائیں؟ ٹھیک ہے قرآنِ کریم میں بہت ساری دعائیں ہیں، اُنہیں یاد کرنا چاہئے، مسنون دعائیں بھی ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ سورت فاتحہ کو اگر غور سے پڑھیں اور پھر اپنے سجدوں میں ، اپنی زبان میں، اللہ تعالیٰ سے مانگیں اور اپنے مقاصد کو اللہ تعالیٰ کے سامنے رکھتے ہوئے اپنے سارے جذبات کا اظہار کریں، تو اللہ تعالیٰ دعاؤں کو سُنتا ہے اور مسائل کو حل کرتا ہے۔

حضورِ انور نے فرمایا کہ پھر یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کے بارے میں آپؑ نے یہ کہا ہے کہ ہمیں اِس بات کو کافی نہیں سمجھ لینا چاہئے کہ ہم نے جو پانا تھا پا چکے۔ بلکہ آپؑ نے فرمایا کہ تم بیعت کر کے اُس پانی کے قریب تو آگئے ہو، جو تمہیں ہلاکت سے بچا سکتا ہے، لیکن اُسے پینا ابھی باقی ہے۔ اور اِس کے پینے کے لیے اگر خدا تعالیٰ کا فضل و کرم ہو گا، اُس کی توفیق ملے گی، تو تبھی تم اُس کو پی سکتے ہو۔ اِس لیے تم پانی پینے کے لیے اللہ تعالیٰ کا فضل مانگو۔ اور اُس کے پینے کا طریق یہ ہے کہ حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا کرو۔

آپؑ نے فرمایا کہ مَیں سچ کہتا ہوں کہ یہ تقریب ہے جو اللہ تعالیٰ نے سعادت مندوں کے لیے پیدا کر دی ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نے موقع مہیا کر دیا ہے کہ مسیح موعودؑ کو اِس زمانے میں بھیج دیا ہے، لیکن مبارک وہی ہیں کہ جو اِس سے فائدہ اُٹھاتے ہیں۔

حضورِ انور نے یاد دلایا کہ وہی فائدہ اُٹھائیں گے، اُنہی کو مبارک ہے جو اپنے عمل میں تبدیلی پیدا کریں گے اور اللہ تعالیٰ سے ایک خاص تعلق پیدا کریں گے۔

حضورِ انور نے فرمایا کہ بہت سارے لوگ آتے ہیں اور جھڑ جاتے ہیں۔ اِس لیے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا نہیں کرتے۔ وہ دین کو سمجھتے نہیں۔ اُس کی گہرائی میں نہیں جاتے۔ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے پیغام کو صحیح طرح نہیں سمجھتے۔ آئے، کچھ دن دیکھا، ذاتی فائدہ نہ ہوا تو چھوڑ کر چلے گئے۔ تو ایسے لوگوں کو تو پھر کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا۔ فائدہ تو اُسی کو ہو گا کہ جو حقیقت میں گہرائی میں جا کر اِن باتوں کو سمجھے گا۔ ایمان کو مضبوط بھی کرے گا۔ اور اللہ تعالیٰ سے مدد بھی چاہے گا۔ اور دنیا کی عارضی تکلیفوں کو برداشت بھی کرے گا۔

آپؑ نے فرمایا کہ

مَیں یقیناً جانتا ہوں کہ جو اِس چشمہ سے پیےگا ، وہ ہلاک نہیں ہو گا، کیونکہ یہ پانی زندگی بخشتا ہے اور ہلاکت سے بچاتا ہے اور شیطان کے حملوں سے محفوظ کرتا ہے۔

اِس چشمہ سے سیراب ہونے کا کیا طریق ہے؟ یہی کہ خدا تعالیٰ نے جو دو حقّ تم پر قائم کیےہیں ان کو بحال کرو اور پُورے طور پر ادا کرو۔ اِن میں سے ایک خدا کا حقّ ہے دوسرا مخلوق کا۔ آپؑ نے فرمایا کہ خدا کو وحدہٗ لا شریک سمجھو جیساکہ اِس شہادت کے ذریعہ تم اقرار کرتے ہو اَشْھَدُ اَنْ لَّآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ۔ یعنی مَیں شہادت دیتا ہوں کہ کوئی محبوب اور مطلوب اور مطاع اللہ کے سوا نہیں ہے۔یہ ایک ایسا پیارا جملہ ہے کہ اگر یہ یہودیوں، عیسائیوں یا دوسرے مشرک بُت پرستوں کو سکھایا جاتا اور وہ اِس کو سمجھ لیتے تو ہرگز تباہ اور ہلاک نہ ہوتے۔ اِسی ایک کلمہ کے نہ ہونے کی وجہ سے اُن پر تباہی اور مصیبت آئی ہے اور اُن کی روح مجذوم ہو کر ہلاک ہو گئی۔آپؑ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے تمہاری بے غرض محبّت ہونی چاہئے۔ پس یہ بے غرض محبّت رکھو۔

پھر آپؑ نے نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر خدا تعالیٰ کے حضور اپنے اور اپنے خاندان کی حفاظت کے لیے گریہ و بُکا کرو گے تو تمہارے خاندان اور تمہارے بچے عذاب سے بچ جائیں گے۔ اگر دنیا داروں کی طرح رہو گے تو اِس سے کچھ فائدہ نہیں ہو گا۔ اور میرے ہاتھ پر توبہ کی ہے تو میرے ہاتھ پر توبہ کرنا تو ایک موت کو چاہتا ہے تاکہ تم نئی زندگی میں ایک اور پیدائش حاصل کرو۔

فرمایا کہ اِس سلسلے میں داخل ہو کر تمہارا ایک الگ وجود ہو اور تم ایک بالکل نئی زندگی بسر کرنے والے انسان بن جاؤ۔ جو کچھ تم پہلےتھے وہ نہ رہو۔ یہ مت سمجھو کہ تم خد اتعالیٰ کی راہ میں تبدیلی کرنے سے محتاج ہوجاؤ گے، یا تمہارے بہت سے دشمن پیدا ہو جائیں گے۔ نہیں! خدا کا دامن پکڑنے والا ہرگز محتاج نہیں ہوتا۔ اِس پر کبھی بُرے دن نہیں آ سکتے۔ خدا جس کا دوست اور مددگار ہو اگر تمام دنیا اُس کی دشمن ہو جاوے تو کچھ پرواہ نہیں۔ مومن اگر مشکلات میں بھی پڑے تو وہ ہر گز تکلیف میں نہیں ہوتا بلکہ وہ دن اُس کے لیے بہشت کے دن ہوتے ہیں۔ خداکے فرشتے ماں کی طرح اُسے گود میں لے لیتے ہیں۔

آپؑ نے فرمایا کہ اپنے دلوں کو پاک صاف کرو۔ دنیا کی حالت ایسی ہے کہ جب تم اپنے دلوں کو پاک صاف کرو گے اور اللہ تعالیٰ کے حضور جھکو گے، تبھی اللہ تعالیٰ تمہیں بچائے گا اور اُس کے فرشتے تمہیں اپنی گود میں لے لیں گے۔ اور

آجکل دنیا کے جو حالات ہیں، ہم دیکھ رہے ہیں کہ کس طرح دنیا تباہی کی طرف جا رہی ہے۔ اور ایک بہت بڑی تباہی کا نظارہ ہمیں سامنے آتا ہوا نظر آرہا ہے جس کو دنیا سمجھ نہیں رہی۔ بڑی قومیں خاموشی سے سمجھتی ہیں کہ ہم جنگ کریں گے اور اگر ہم جیت گئے تو ہماری ایک دنیا پر برتری ہوجائے گی۔ لیکن اگر یہ جنگ ہو گئی تو اِس میں قومیں تباہ ہو جائیں گی۔پس اگر احمدیوں نے اِس سے بچنا ہے یا دنیا کو بچانا ہے تو اِس کے لیے ہمیں خود بھی اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنا ہو گا اور لوگوں کو بھی اُس کی آگاہی دینی ہو گی کہ دیکھو! اگر تم چاہتے ہو کہ عذاب سے بچو ، تباہیوں سے بچو، جو چاہے انسانی غلطیوں کی وجہ سے تباہیاں آنے والی ہیں یا انسانوں کی جنگوں کی وجہ سے تباہیاں آنے والی ہیں، یا الله تعالیٰ کے عذاب سے کوئی تباہی آنے والی ہے، تو اِن سے بچنے کا ایک ہی ذریعہ ہے کہ خداتعالیٰ کی طرف جھکو اور اُس کی عبادت کا حق بجا لاؤ، اُس کے بندوں کے حق ادا کرو، نیکیوں کی طرف قدم بڑھاؤ اور ایک پُر امن معاشرہ قائم کرو۔ جس میں الله تعالیٰ کے حقوق بھی ادا ہو رہے ہوں اور بندوں کے حقوق بھی ادا ہو رہے ہوں۔پس

ہمارا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بیعت کرنے کا مقصد یہی ہے کہ ایک ایسی جماعت قائم ہو جو اللہ تعالیٰ اور بندوں کے حقوق قائم کرنے والی، اُنہیں اپنے اُوپر لازم کرنے والی، اور اُن پر عمل کرنے والی ہو۔

پس ہمیں چاہئے کہ ہم اِن باتوں پر غور کریں اور دیکھیں کہ کیا ہم یہ مقصد حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں؟ اگر ہم وہ مقصد حاصل نہیں کر رہے، جس کے لیے ہم نے بیعت کی تھی، تو پھر ہم نے اِس بیعت کی حقیقت کو نہیں سمجھا اور ہم اِس سے فائدہ نہیں اُٹھا سکتے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا تھا کہ تمہیں کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ تم چشمے کے قریب تو آگئے، لیکن فائدہ نہیں اُٹھایا۔

پس فائدہ اُٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے عملوں کو اِس کے مطابق ڈھالیں جو خدا تعالیٰ کی تعلیم کے مطابق ہوں۔ خدا تعالیٰ کے احکامات کے مطابق ہوں۔ آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کی سُنّت کے مطابق ہوں۔ اور تبھی ہم حقیقت میں حقیقی احمدی کہلا سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اِس چیز کو سمجھنے اور اِس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اورہم حقیقی رنگ میں انصاراللہ بن کر اللہ تعالیٰ کی توحید کو دنیا میں قائم کرنے والے ہوں اور آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کے جھنڈے کو دنیا میں لہرانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنے والے ہوں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اِس کی توفیق دے۔(آمین)