پیارے احبابِ جماعتِ احمدیہ کینیڈا
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
مجھے اس بات کی بہت خوشی ہے کہ آپ اپنا جلسہ سالانہ ۱۰، ۱۱ اور ۱۲ جولائی ۲۰۲۶ء کو منعقد کر رہے ہیں۔ میری دلی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کے جلسہ کو ہر لحاظ سے کامیاب فرمائے اور تمام شاملینِ جلسہ کو بے شمار برکات سے نوازے۔
ہر احمدی کو یہ عہد کرنا چاہیئے کہ وہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اس مقدس مشن کو پورا کرنے کے لیے انتھک کوششیں کرے گا، جس کا پہلا مقصد انسانیت کو اپنے پیدا کرنے والے، یعنی خدائے واحد کی پہچان کروانا اور اس کی عبادت کی طرف بلانا ہے، اور دوسرا مقصد بنی نوع انسان کے حقوق ادا کرنا ہے تاکہ اس زمین پر امن اور صلح قائم ہو سکے۔
اس ضمن میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’خدا تعالیٰ نے اس جماعت کو بنانا چاہا ہے تو اس سے یہی غرض رکھی ہے کہ وہ حقیقی معرفت جو دنیا میں گم ہوچکی ہے اور وہ حقیقی تقویٰ و طہارت، جو اس زمانہ میں پائی نہیں جاتی، اسے دوبارہ قائم کرے۔‘‘ (ملفوظات جلد ۷ صفحہ ۴۷۸، ۴۷۷)
میں آپ کی توجہ اس طرف دلانا چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اپنا ذاتی تعلق پیدا کریں اور بہترین مسلمان بننے کی کوشش کریں۔ اپنی دعاؤں میں اضافہ کریں اور اپنے دلوں کو ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے ذکر سے آباد رکھیں، یہ جلسہ آپ کے تقویٰ کے معیاروں کو بلند کرنے کا ذریعہ بننا چاہیئے کیونکہ تقویٰ ہی حقیقی نیکی ہے اور یہی اللہ تعالیٰ کا خوف آپ کے دلوں میں پیدا کرتا ہے۔ درحقیقت آپ کا واحد مقصد اللہ تعالیٰ، جو ہمارا خالق ہے، کی رضا حاصل کرنا ہونا چاہیئے۔
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں: ’’انسان کو چاہیئے کہ روحانی پانی کو تلاش کرے تو وہ اسے ضرور پالے گا اور روحانی روٹی کو ڈھونڈے تو وہ اسے ضرور دی جائے گی۔ جیسا کہ ظاہری قانونِ قدرت ہے ویسے ہی باطن میں بھی قانونِ قدرت ہے لیکن تلاش شرط ہے جو تلاش کرے گا وہ ضرور پالے گا۔ خدا کے ساتھ تعلق پیدا کرنے میں جو شخص سعی کرے گا خدا تعالیٰ اس سے ضرور راضی ہو جائے گا۔‘‘
(ملفوظات جلد ۱۰ صفحہ ۸۰، ۸۱)
کسی بھی احمدی، بلکہ حقیقت میں کسی بھی مسلمان کے لیے سب سے بنیادی فرض اللہ تعالیٰ کی عبادت کے حقوق کا ادا کرنا ہے۔ پس آپ کو اپنی پانچ وقت نمازوں کی ادائیگی میں باقاعدہ ہونا چاہیئے۔ مزید برآں، آپ کو نمازوں میں اللہ تعالیٰ کے حضور کامل اخلاص اور عاجزی کے ساتھ ادا کرنی چاہئیں، نہ کہ جلدی بازی میں محض اس لیے کہ آپ کہہ سکیں کہ آپ نے اپنا فرض پورا کر لیا ہے۔
خاص طور پر جلسے کے دنوں میں، فرائض اور نوافل کے علاوہ، آپ کو کثرت کے ساتھ ذکرِ الٰہی میں مشغول رہنا چاہیئے۔ آپ کے خیالات پاکیزہ ہونے چاہئیں اور آپ کی تمام تر توجہ اللہ تعالیٰ کی طرف ہونی چاہیئے۔ ایسا کرنے سے آپ برائیوں سے محفوظ رہیں گے، دراصل عبادت کا اصل مقصد بھی یہی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا کثرت سے ذکر انسان کو باقاعدگی سے فرض نمازیں ادا کرنے کی طرف متوجہ کرتا ہے، اور جب انسان باقاعدگی سے عبادت کرتا ہے تو وہ خود بخود اللہ تعالیٰ کے ذکر کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔
آپ کو اپنی اصلاح کے لیے مسلسل کوشش کرتے رہنا چاہیئے اور تقویٰ کے اعلیٰ ترین معیار حاصل کرنے چاہئیں تاکہ آپ دنیا کے تمام مسلمانوں کے لیے ایک بہترین نمونہ بن سکیں۔ ایک احمدی مسلمان ہونے کے ناتے، آپ سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ آپ نیکی، دیانت داری، ایمانداری اور سب سے بڑھ کر تقویٰ اور پاکیزگی کا اعلیٰ ترین نمونہ پیش کریں۔ یہ انتہائی ضروری ہے کہ آپ اپنے روزمرہ کے رویوں کا خود جائزہ لیں اور اپنے اخلاق اور اعمال کو بہتر بنانے کی کوشش کریں تاکہ آپ ان بلند معیاروں کو حاصل کر سکیں جن کی توقع حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی جماعت کے افراد سے کی تھی۔ آپ کے قول اور فعل میں مطابقت ہونی چاہیئے تاکہ آپ اسلام کے حقیقی اور مخلص نمائندے بن سکیں۔
اس دور میں، اللہ تعالیٰ نے ہمیں خلافتِ احمدیہ جیسی عظیم نعمت عطا فرمائی ہے۔ پس ہر احمدی کو خلافت کے ساتھ وفاداری، اخلاص اور کامل اطاعت کا تعلق قائم رکھنا چاہیئے اور خلیفہ وقت کے ساتھ اپنے محبت اور اخلاص کے تعلق کو مسلسل بڑھاتے رہنا چاہیئے۔ یہی ہماری مسلسل ترقی کی کلید ہے اور یہی وہ واحد راستہ ہے جو ہماری جماعت کو دائمی کامیابیوں کی طرف لے جائے گا۔ اس سلسلہ میں یہ بات یاد رکھیں کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے کامل اطاعت اور فدائیت کا جو عہد ہم نے کیا ہے، اور آپؑ نے اپنے ماننے والوں کے لیے جس گہرے تعلق کو، جو دنیا کے تمام رشتوں اور تعلقات سے بالاتر ہے، ضروری قرار دیا ہے، اسی عزم اور لگن کے ساتھ وہ تعلق خلیفہ وقت کے ساتھ بھی جاری رہنا چاہیئے۔ کیونکہ خلافتِ احمدیہ، حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ہی روحانی جانشین ہے۔
آخر میں میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اپنے اس جلسے کی کارروائی سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا فرمائے اور آپ کے ایمان و ایقان کو مزید مضبوط کرے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اس بات کی توفیق دے کہ آپ اپنی زندگیوں میں ایک حقیقی پاک تبدیلی پیدا کرنے والے ہوں جو آپ کو تقویٰ، نیک اعمال اور اسلامِ احمدیت اور انسانیت کی خدمت کی طرف گامزن کرنے والی ہو۔ اللہ تعالیٰ آپ سب کو اپنی بے شمار برکتوں سے نوازے۔
(بشکریہ روزنامہ الفضل 19؍اگست 2026)