سوال: آنحضرت ﷺ نے سنی سنائی بات آگے پھیلانے والے کے بارے میں کیا فرمایا؟
جواب: آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ انسان کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات لوگوں میں بیان کرتا پھرے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی خبر کی تحقیق کیے بغیر اسے آگے پہنچانا بھی جھوٹ کے دائرے میں آتا ہے۔
سوال: سنی سنائی باتیں پھیلانا کس طرح جھوٹ بن جاتا ہے؟
جواب: جب انسان کسی بات کی حقیقت معلوم کیے بغیر اسے دوسروں تک پہنچاتا ہے تو وہ غیر مصدقہ بات کو حقیقت کے طور پر پیش کرتا ہے۔ خطبہ میں ایسے لوگوں کا ذکر ہے جو کہتے ہیں کہ ’’ہم نے سنا تھا‘‘، لیکن تحقیق کرنے پر بات غلط نکلتی ہے۔ آنحضرت ﷺ نے ایسے طرزِ عمل کو جھوٹ قرار دیا ہے۔
سوال: صحابہؓ کو جھوٹ کس قدر ناپسند تھا؟
جواب: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہؓ کو جھوٹ سے بڑھ کر کوئی خصلت زیادہ ناپسند نہ تھی۔ اگر کسی شخص نے نبی کریم ﷺ کے سامنے جھوٹ بولا تو آپؐ کے دل میں اس کا اثر رہتا، یہاں تک کہ آپؐ کو معلوم ہو جاتا کہ اس شخص نے توبہ کرلی اور جھوٹ بولنے سے مکمل طور پر اجتناب شروع کردیا ہے۔
سوال: اپنی سوت کو چڑانے کے لیے جھوٹا دعویٰ کرنے کے بارے میں آنحضرت ﷺ نے کیا فرمایا؟
جواب: ایک عورت نے پوچھا کہ اگر وہ اپنے خاوند کی طرف سے ایسی نعمتوں کا اظہار کرے جو حقیقت میں اسے ملی ہی نہیں، صرف اپنی سوت کو چڑانے کے لیے، تو کیا یہ جائز ہے؟ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص ایسی چیز سے سیر ہونے کا اظہار کرے جو اسے دی ہی نہیں گئی، وہ جھوٹ کے دو کپڑے پہننے والے کی مانند ہے۔
سوال: ’’جھوٹ کے دو کپڑے پہننے‘‘ سے کیا مراد ہے؟
جواب: خطبہ میں اس کی تشریح بیان ہوئی ہے کہ یہاں کپڑے کا لفظ مثال کے طور پر استعمال ہوا ہے۔ مراد یہ ہے کہ ایسا شخص جھوٹ اور فریب میں پوری طرح ملوث ہے؛ گویا اس نے سر سے پاؤں تک جھوٹ کا لباس پہن رکھا ہے۔
سوال: جھوٹی خبریں اور افواہیں پھیلانے والوں کے بارے میں آنحضرت ﷺ نے کیا انذار فرمایا؟
جواب: ایک رؤیا میں ایسے شخص کا عبرتناک انجام دکھایا گیا جو صبح اپنے گھر سے نکل کر ایک جھوٹی بات بناتا اور وہ بات چاروں طرف پھیل جاتی تھی۔ اس کے منہ، نتھنے اور آنکھ کو لوہے کے کانٹے سے چیرنے کا عذاب دکھایا گیا۔ اس سے جھوٹی باتیں اور افواہیں پھیلانے کی سنگینی ظاہر ہوتی ہے۔
سوال: لوگ جھوٹی باتیں کن مقاصد کے لیے پھیلاتے ہیں؟
جواب: خطبہ میں بیان ہوا ہے کہ بعض لوگ زبان کے مزے یا لطف کے لیے باتیں کرتے ہیں، جبکہ بعض اوقات کسی کو معاشرے میں بدنام کرنے یا نقصان پہنچانے کے لیے جھوٹی باتیں پھیلائی جاتی ہیں۔ دونوں صورتیں قابلِ مؤاخذہ ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کی پکڑ ہو سکتی ہے۔
سوال: کاروبار میں سچائی کی کیا اہمیت ہے؟
جواب: آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ خریدنے اور بیچنے والے اگر سچائی اختیار کریں اور صاف صاف بات بیان کریں تو ان کی خرید و فروخت میں برکت دی جاتی ہے۔ لیکن اگر وہ بات چھپائیں اور جھوٹ بولیں تو ان کی خرید و فروخت کی برکت مٹا دی جاتی ہے۔
سوال: کاروباری معاملات میں جھوٹ کا کیا نتیجہ نکلتا ہے؟
جواب: جھوٹ کی وجہ سے کاروبار سے برکت اٹھ جاتی ہے۔ خطبہ میں توجہ دلائی گئی ہے کہ بہت سے کاروباری جھگڑے جھوٹی باتوں کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ جھوٹ بولنے والا دنیا میں نقصان اٹھانے کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور بھی گنہگار قرار پاتا ہے۔
سوال: جھوٹ بولنے والے سے فرشتہ کیوں دور ہو جاتا ہے؟
جواب: حضرت ابن عمرؓ کی روایت کے مطابق آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جب کوئی بندہ جھوٹ بولتا ہے تو اس بدبو کی وجہ سے جو اس کے جھوٹ سے پیدا ہوتی ہے فرشتہ اس سے ایک میل دور ہو جاتا ہے۔ اس سے جھوٹ کی روحانی قباحت کا اندازہ ہوتا ہے۔
سوال: آنحضرت ﷺ نے اناج کے تاجر کو کیا نصیحت فرمائی؟
جواب: آپ ﷺ ایک اناج کے ڈھیر کے پاس سے گزرے اور آپؐ نے اپنا ہاتھ اناج کے اندر ڈالا تو اندر سے نمی محسوس ہوئی۔ تاجر نے بتایا کہ بارش کی وجہ سے اناج گیلا ہوگیا تھا۔ آپؐ نے فرمایا کہ اسے اوپر کیوں نہ رکھا تاکہ لوگ اسے دیکھ سکتے۔ پھر فرمایا: ’’جس نے دھوکا دیا وہ مجھ سے نہیں ہے۔‘‘
سوال: ’’جس نے دھوکا دیا وہ مجھ سے نہیں ہے‘‘ کا کیا مفہوم ہے؟
جواب: اس ارشاد سے معلوم ہوتا ہے کہ دھوکا دہی اسلام کی بنیادی اخلاقی تعلیمات کے خلاف ہے۔ ایک مسلمان کو اپنے معاملات میں اس قدر صاف اور دیانت دار ہونا چاہیے کہ وہ کسی شخص کو حقیقت چھپا کر نقصان نہ پہنچائے۔
سوال: احمدی مسلمان کے لیے سچائی کی کیا اہمیت ہے؟
جواب: جو شخص حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مان کر آنحضرت ﷺ پر حقیقی ایمان کا دعویٰ کرتا ہے، اس کے ہر قول اور فعل میں سچائی کا اعلیٰ معیار ہونا چاہیے۔ محض ایمان کا دعویٰ کافی نہیں بلکہ عملی زندگی میں صداقت کا اظہار ضروری ہے۔
سوال: آنحضرت ﷺ کو بعثت سے پہلے کن اوصاف کی وجہ سے شہرت حاصل تھی؟
جواب: آنحضرت ﷺ سچائی، امانت اور دیانت میں سب سے نمایاں تھے۔ اسی وجہ سے آپؐ اپنی قوم میں صادق اور امین کے نام سے مشہور تھے۔ آپؐ سے کبھی جھوٹ نہیں سنا گیا اور لوگ آپؐ کو صدوق، امین، بردبار اور نہایت مہربان سمجھتے تھے۔
سوال: اہلِ مکہ نے آنحضرت ﷺ کو ’’امین‘‘ اور ’’صدیق‘‘ کیوں کہا؟
جواب: کیونکہ آپؐ کی پوری زندگی صداقت اور امانت کا عملی نمونہ تھی۔ حضرت مصلح موعودؓ نے بیان فرمایا کہ عربوں کی سینکڑوں سالہ تاریخ میں صرف آنحضرت ﷺ کو پوری قوم کی طرف سے امین اور صدیق کا خطاب ملا۔ یہ اس بات کی غیر معمولی شہادت تھی کہ آپؐ کی صداقت اور امانت کی کوئی مثال ان کے علم میں موجود نہ تھی۔
سوال: آنحضرت ﷺ کی سچائی کی سب سے بڑی گواہی کیا تھی؟
جواب: حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے بیان کے مطابق آپ ﷺ کی اپنی زندگی آپؐ کی صداقت کی سب سے بڑی گواہی تھی۔ آپؐ نے اپنی پوری زندگی اپنی قوم کے درمیان گزاری تھی۔ لوگ آپؐ کے بچپن، جوانی اور بڑھاپے سے واقف تھے اور آپؐ کی خلوت و جلوت سے واقف تھے۔ اس لیے آپؐ کی زندگی خود آپؐ کے دعوائے صداقت کی زبردست دلیل تھی۔
سوال: حضرت ابوبکرؓ نے آنحضرت ﷺ کی رسالت کو فوراً کیوں تسلیم کرلیا؟
جواب: حضرت ابوبکرؓ آنحضرت ﷺ کی سابقہ زندگی، آپؐ کے اخلاق اور صداقت سے بخوبی واقف تھے۔ جب آپؓ نے آپؐ سے رسالت کے دعوے کی تصدیق چاہی اور آپؐ نے فرمایا کہ میں اللہ کا رسول ہوں تو حضرت ابوبکرؓ نے بلا تردد آپؐ کی تصدیق کردی۔
سوال: حضرت ابوبکرؓ کے ایمان لانے کی بنیادی وجہ کیا تھی؟
جواب: حضرت مصلح موعودؓضی اللہ عنہ ے بیان فرمایا کہ رسول کریم ﷺ کا نفسِ ناطقہ اپنی سچائی کا خود شاہد تھا۔ حضرت ابوبکرؓ آپؐ کی زندگی اور کردار سے اس قدر واقف تھے کہ آپؐ کی صداقت کو تسلیم کرنے کے لیے کسی بیرونی دلیل کے محتاج نہ تھے۔
سوال: آنحضرت ﷺ کی صداقت پر حضرت خدیجہؓ، حضرت علیؓ اور حضرت زیدؓ نے کس طرح گواہی دی؟
جواب: ان بزرگوں نے آپؐ کی زندگی، اخلاق، معاملات اور قربت سے آپؐ کی صداقت کو دیکھا اور آپؐ پر ایمان لائے۔ حضرت خدیجہؓ نے آپؐ کی پہلی وحی کے موقع پر آپؐ کی دلجوئی کی، حضرت علیؓ نے کم عمری میں آپؐ کا ساتھ دیا اور حضرت زید بن حارثؓ نے آپؐ کے اخلاق اور معاملات کا طویل مشاہدہ کرکے آپؐ کی صداقت کی گواہی دی۔
سوال: حضرت مصلح موعودؓ نے آنحضرت ﷺ کے ابتدائی ساتھیوں کو کس انداز میں بیان کیا؟
جواب: حضرت مصلح موعودؓ نے بیان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کے دعوئ نبوت کے فوراً بعد ایسے مخلص ساتھی عطا فرمائے جنہوں نے آپؐ کی صداقت کو پہچانا۔ ورقہ بن نوفلؓ، حضرت خدیجہؓ، حضرت علیؓ، حضرت زیدؓ اور حضرت ابوبکرؓ نے مختلف انداز میں آپؐ کی صداقت کی گواہی دی۔
***