اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2026-10-29

خطبہ جمعہ فرمودہ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز 14؍دسمبر 2007ء بطر زسوال و جواب

سوال: آنحضرت ﷺ اللہ تعالیٰ کی کس صفت کے حقیقی مظہر تھے؟
جواب: آنحضرت ﷺ اللہ تعالیٰ کی صفت ’’حکیم‘‘ کے حقیقی مظہر تھے۔ آپ ﷺ کی پیدائش، بعثت، تعلیم، ارشادات اور عملی زندگی میں اللہ تعالیٰ کی حکمت کا ایسا کامل اظہار ہوا کہ آپ ﷺ نے اپنے قول و فعل سے دنیا کو حکمت اور دانائی کی تعلیم دی۔
سوال: آنحضرت ﷺ کے قول و فعل کو قرآن کریم کی تفسیر کیوں کہا گیا ہے؟
جواب: کیونکہ آپ ﷺ کے احکام، اقوال، اعمال اور نصائح دراصل قرآن کریم کی پُرحکمت تعلیم کی عملی تفسیر ہیں۔ آپ ﷺ نے صرف احکام بیان نہیں فرمائے بلکہ خود ان پر عمل کرکے دکھایا۔ اس لیے آپ ﷺ کی پوری زندگی قرآن کریم کی تعلیمات کا عملی نمونہ ہے۔
سوال: ایک مومن کو آنحضرت ﷺ کے ہر قول و فعل کے بارے میں کیا رویہ اختیار کرنا چاہیے؟
جواب: ایک مومن کو یقین رکھنا چاہیے کہ آنحضرتﷺ کا کوئی قول یا فعل حکمت سے خالی نہیں۔ اگر کسی حکم کی حکمت فوراً سمجھ نہ بھی آئے تو مومن کا ایمان ہونا چاہیے کہ اس میں ضرور کوئی حکمت اور انسان کی بھلائی پوشیدہ ہے۔
سوال: ’’اَلْکَلِمَۃُ الْحِکْمَۃُ ضَالَّۃُ الْمُؤْمِنِ‘‘کا کیا مطلب ہے؟
جواب: آنحضرت ﷺ نے فرمایا:
اَلْکَلِمَۃُ الْحِکْمَۃُ ضَالَّۃُ الْمُؤْمِنِ حَیْثُ مَا وَجَدَھَا فَھُوَ اَحَقُّ بِھَا۔
یعنی حکمت کی بات مومن کی گمشدہ متاع ہے، جہاں کہیں وہ اسے پائے وہی اس کا زیادہ حقدار ہے۔
یہ حدیث سنن ابن ماجہ، کتاب الزہد، باب الحکمت، حدیث 4169 میں بیان ہوئی ہے۔
سوال: اس حدیث سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے؟
جواب: ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ حکمت کی بات خواہ کسی ایسے شخص سے ملے جسے ہم کم علم، غریب، کم عمر یا اپنے سے کمتر سمجھتے ہوں، ہمیں بات کی حقیقت اور فائدے کو دیکھنا چاہیے۔ اگر اس میں حکمت ہے تو اسے قبول کرنا چاہیے۔ تکبر کی وجہ سے کسی اچھی بات کو رد نہیں کرنا چاہیے۔
سوال: آنحضرت ﷺ کی حکمت صرف عبادات تک محدود تھی؟
جواب: نہیں۔ آپ ﷺ کی حکمت زندگی کے ہر شعبہ میں ظاہر ہوتی تھی۔ آپ ﷺ کے گھریلو معاملات، معاشرتی امور، تربیتی ارشادات، کاروباری معاملات، قومی فیصلوں، جنگی حکمتِ عملی اور دشمنوں کے ساتھ معاملات سب میں حکمت کا اعلیٰ معیار نظر آتا ہے۔
سوال: آنحضرت ﷺ کی بعثت سے پہلے بھی آپؐ کے پُرحکمت فیصلوں کی کوئی مثال ملتی ہے؟
جواب: جی ہاں۔ تعمیرِ کعبہ اور حجرِ اسود کی تنصیب کے موقع پر قبائل میں شدید اختلاف پیدا ہوگیا تھا اور جنگ کی نوبت آچکی تھی۔ جب آنحضرت ﷺ وہاں تشریف لائے تو سب نے خوشی سے کہا کہ ’’یہ امین آگیا‘‘ اور آپ ﷺ کو اپنا منصف تسلیم کیا۔
سوال: حجرِ اسود کی تنصیب کے اختلاف کو آنحضرت ﷺ نے کس حکمت سے حل فرمایا؟
جواب: آپ ﷺ نے ایک چادر منگوائی، حجرِ اسود کو اس پر رکھا اور تمام قبائل کے سرداروں کو چادر کے کنارے پکڑ کر اسے اٹھانے کا موقع دیا۔ پھر جب حجرِ اسود مقررہ مقام تک پہنچ گیا تو آپ ﷺ نے اپنے دستِ مبارک سے اسے اپنی جگہ نصب کردیا۔ یوں تمام قبائل کو عزت بھی مل گئی اور اختلاف بھی ختم ہوگیا۔
سوال: اس واقعہ سے کیا سبق ملتا ہے؟
جواب: اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک حقیقی لیڈر اختلاف کو طاقت کے ذریعے نہیں بلکہ حکمت، انصاف، فہم و فراست اور سب کے جذبات کا خیال رکھتے ہوئے حل کرتا ہے۔ آنحضرت ﷺ نے ایسا فیصلہ فرمایا جس میں کسی فریق کو شکست یا تحقیر کا احساس نہیں ہوا۔
سوال: ’’حکمت کی بات‘‘ کے بارے میں آنحضرت ﷺ کا کیا ارشاد ہے؟
جواب: آپ ﷺ نے فرمایا کہ حکمت کی بات مومن کی گمشدہ چیز ہے؛ جہاں ملے اسے لے لینا چاہیے۔ اس میں یہ تعلیم ہے کہ مومن ہمیشہ علم و حکمت کا طالب رہے اور اچھی بات کو اس کے قائل کی شخصیت دیکھ کر رد نہ کرے۔
سوال: ثمامہ بن اثال کے واقعہ میں آنحضرت ﷺ نے کون سی حکمت اختیار فرمائی؟
جواب: ثمامہ بن اثال کو گرفتار کرکے مسجد نبوی میں باندھ دیا گیا۔ آنحضرت ﷺ نے اسے فوراً اسلام قبول کرنے پر مجبور نہیں کیا بلکہ تین دن تک اسے مسلمانوں کی عبادت، اخلاص، رسول اللہ ﷺ سے محبت اور اسلامی تعلیمات کا عملی مشاہدہ کرنے کا موقع دیا۔ پھر جب آپ ﷺ نے محسوس کیا کہ اس کے دل میں نرمی پیدا ہوگئی ہے تو اسے آزاد کردیا۔ نتیجتاً ثمامہ نے اسلام قبول کرلیا۔
سوال: ثمامہ بن اثال کے واقعہ سے تبلیغ کے متعلق کیا سبق ملتا ہے؟
جواب: اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تبلیغ میں جلد بازی یا جبر کے بجائے حکمت، صبر، عملی نمونہ اور حالات کے مطابق طریقِ کار اختیار کرنا چاہیے۔ بعض اوقات عملی کردار زبانی تبلیغ سے زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے۔
سوال: آنحضرت ﷺ نے توکل اور اسباب کے درمیان کیا توازن قائم فرمایا؟
جواب: ایک شخص نے پوچھا کہ کیا اونٹ کو کھلا چھوڑ کر اللہ تعالیٰ پر توکل کرے یا پہلے اسے باندھے؟ آپ ﷺ نے فرمایا:اَعْقِلْہَا وَتَوَکَّلْ۔یعنی ’’اس کا گھٹنا باندھو اور پھر اللہ پر توکل کرو۔‘‘
(سنن الترمذی، کتاب صفۃ القیامۃ والرقائق، باب 60، حدیث 2517)
سوال: ’’اونٹ باندھو اور توکل کرو‘‘ کا بنیادی سبق کیا ہے؟
جواب: اس کا بنیادی سبق یہ ہے کہ اسلام محض ظاہری اسباب چھوڑ دینے کا نام نہیں۔ اللہ تعالیٰ پر توکل کے ساتھ ساتھ جائز اور ضروری اسباب اختیار کرنا بھی سنت اور حکمت کا تقاضا ہے۔
سوال: غزوۂ اُحد کے بعد آنحضرت ﷺ نے کون سا پُرحکمت فیصلہ فرمایا؟
جواب: غزوۂ اُحد کے بعد مسلمانوں کی جسمانی حالت بہت خراب تھی۔ اس دوران اطلاع ملی کہ کفارِ مکہ دوبارہ حملہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ آپ ﷺ نے ان کے تعاقب کا فیصلہ فرمایا اور اعلان کروایا کہ صرف وہی صحابہؓ آپ ﷺ کے ساتھ جائیں گے جو گزشتہ روز غزوۂ اُحد میں شریک ہوئے تھے۔ یہ واقعہ حمراء الاسد کے نام سے معروف ہے۔
سوال: غزوۂ حمراء الاسد کے فیصلے میں کیا حکمت تھی؟
جواب: اس فیصلے سے مسلمانوں کا حوصلہ بلند ہوا اور دشمن پر یہ اثر پڑا کہ مسلمان شدید زخمی ہونے کے باوجود دوبارہ مقابلہ کے لیے تیار ہیں۔ دشمن نے واپس آکر حملہ کرنے کی جرأت نہ کی اور پیچھے ہٹ گیا۔
سوال: صلح حدیبیہ میں آنحضرت ﷺ کی حکمت کا کیا اظہار ہوا؟
جواب: صلح حدیبیہ میں آپ ﷺ نے ایسے حالات میں بھی صبر، دور اندیشی اور حکمت سے کام لیا جہاں بظاہر بعض شرائط مسلمانوں کے لیے سخت محسوس ہوتی تھیں۔ آپ ﷺ کی حکمتِ عملی نے بالآخر ایسے نتائج پیدا کیے جن سے اسلام کی تبلیغ اور مسلمانوں کی قوت میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔
سوال: عروہ بن مسعود نے صحابہؓ کو دیکھ کر کیا گواہی دی؟
جواب: عروہ بن مسعود نے صلح حدیبیہ کے موقع پر صحابہؓ کی رسول کریم ﷺ سے محبت اور ادب دیکھ کر اعتراف کیا کہ اس نے قیصر و کسریٰ اور نجاشی جیسے بڑے بادشاہوں کے دربار دیکھے ہیں، لیکن محمد ﷺ کے صحابہؓ جیسی اپنے نبی ﷺ سے عقیدت اور محبت کہیں نہیں دیکھی۔
سوال: اس واقعہ سے آنحضرت ﷺ کی قیادت کے بارے میں کیا معلوم ہوتا ہے؟
جواب: معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے صرف ظاہری اقتدار سے لوگوں کو تابع نہیں کیا بلکہ محبت، اخلاق، روحانی اثر اور حسنِ سلوک سے لوگوں کے دلوں پر حکومت کی۔
سوال: ایک یہودی نے آنحضرت ﷺ کو کس طرح سلام کیا اور آپ ﷺ نے کیا جواب دیا؟
جواب: ایک یہودی نے ’’اَلسَّامُ عَلَیْکَ‘‘ کہا، یعنی تم پر ہلاکت ہو۔ آنحضرت ﷺ نے جواب میں ’’وَعَلَیْکَ‘‘ فرمایا۔ صحابہؓ نے اسے سزا دینے کی اجازت چاہی تو آپ ﷺ نے منع فرمایا اور اہلِ کتاب کے ساتھ مناسب طرزِ عمل کی تعلیم دی۔
سوال: اس واقعہ میں آنحضرت ﷺ کی کون سی حکمت نمایاں ہوتی ہے؟
جواب: اس میں تحمل، ضبطِ نفس، قانون پسندی اور غیر ضروری انتقام سے اجتناب کی حکمت نمایاں ہوتی ہے۔ آپ ﷺ نے کسی فرد کی اشتعال انگیزی کو عمومی فساد کا ذریعہ نہیں بننے دیا۔

***