اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2026-10-15

خطبہ جمعہ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 10؍اپریل 2026ء بطر زسوال و جواب

سوال: حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کی ایک بنیادی غرض کیا تھی؟
جواب: حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کی بعثت کی بنیادی غرض میں سے ایک دنیا میں اللہ تعالیٰ کی توحید کو قائم کرنا اور شرک کا خاتمہ کرنا تھا۔
سوال: حضرت مصلح موعودرضی اللہ عنہ نے نعمتوں کے بارے میں کیا نصیحت فرمائی؟
جواب: انسان کو ہمیشہ یہ خیال رکھنا چاہیے کہ اس کی نعمتیں اور اولاد اللہ تعالیٰ کے فضل سے ملی ہیں، اس لیے ہر قول و فعل سے اللہ تعالیٰ کی توحید کا اظہار کرنا چاہیے اور کبھی یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ ہمارا اللہ تعالیٰ پر کوئی حق ہے۔
سوال: مبارک احمد کی وفات پر حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کا کیا ردِّعمل تھا؟
جواب: آپؑ نے نہایت صبر کا مظاہرہ فرمایا، احباب کو لکھا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی مشیت تھی، اس پر گھبرانا نہیں چاہیے، اور پھر فرمایا کہ مبارک احمد کے متعلق خدا تعالیٰ کا الہام پورا ہوگیا۔
سوال: سلطان عبدالحمید خان کی کون سی بات حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کو پسند تھی؟
جواب: جب وزراء نے جنگ کے راستے میں مختلف مشکلات بیان کیں تو سلطان عبدالحمید نے کہا کہ "کوئی خانہ تو خدا کے لیے بھی چھوڑنا چاہیے۔" حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کو اس بات میں اللہ تعالیٰ پر توکل بہت پسند تھا۔
سوال: حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے ایک طبیب سے علاج کروانے سے کیوں انکار کیا؟
جواب: طبیب نے دعویٰ کیا کہ وہ دو دن میں آپؑ کو آرام پہنچا دے گا۔ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے اس دعوے کو پسند نہیں فرمایا اور اسے خدائی دعوے کے مشابہ قرار دیتے ہوئے علاج کروانے سے انکار کر دیا۔
سوال: حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے نزدیک عبادت اور صدقہ کی قبولیت کے لیے کیا ضروری ہے؟
جواب: اللہ تعالیٰ کے لیے دل میں حقیقی جوش ہو اور انسان نفس کی آمیزش اور دنیوی فوائد و منافع کے خیال سے پاک ہو۔
سوال: قبولیتِ دعا کے لیے حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے کس بات کو ضروری قرار دیا؟
جواب: توحید پر کامل یقین اور ایمان ضروری ہے، اور اللہ تعالیٰ کی محبت حاصل کرنے کی دعا کو سب سے مقدم رکھنا چاہیے۔
سوال: حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کی بعثت کی بھاری غرض و غایت کیا بیان ہوئی ہے؟
جواب: اسلام کی خدمت اور توحید کا قیام آپؑ کی بعثت کی بھاری غرض و غایت بیان ہوئی ہے۔
سوال: حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کو عیسائیت کے عقائد پر کس بات کا دکھ تھا؟
جواب: آپؑ کو اس بات کا شدید دکھ تھا کہ ایک عاجز انسان کو خدا بنایا گیا اور ایک مشتِ خاک کو ربّ العالمین سمجھا گیا، جسے آپؑ توحید کے خلاف سمجھتے تھے۔
سوال: حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے اپنے قلبِ سلیم کے بارے میں کیا فرمایا؟
جواب: آپؑ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آپؑ کو سب سے پہلے قلبِ سلیم عطا کیا، یعنی ایسا دل جس کا حقیقی تعلق اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور سے نہ تھا۔
سوال: حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے توحید کے قیام کے لیے اپنے ماننے والوں کو کیا ہدایت فرمائی؟
جواب: آپؑ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نیک فطرت لوگوں کو توحید کی طرف کھینچنا اور انہیں دینِ واحد پر جمع کرنا چاہتا ہے، اس لیے اس مقصد کی پیروی نرمی، اخلاق اور دعاؤں کے ذریعے کرنی چاہیے۔
سوال: حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے اپنی بعثت کی اصل غرض کیا بیان فرمائی؟
جواب: آپؑ نے فرمایا کہ آپؑ کی تمام تر خوشی اسی میں ہے اور بعثت کی اصل غرض اللہ تعالیٰ کی توحید اور رسول کریم ﷺ کی عزت دنیا میں قائم کرنا ہے۔
سوال: حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے پیروں کے قدم چومنے کے بارے میں کیا فرمایا؟
جواب: آپؑ نے فرمایا کہ پیروں کے قدموں کو چومنا شرک ہے اور آپؑ کو اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ میں شرک مٹانے کے لیے مبعوث فرمایا ہے۔
سوال: انبیاء کی بعثت کا ایک بنیادی کام کیا ہے؟
جواب: حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے فرمایا کہ انبیاء دنیا میں شرک مٹانے کے لیے آتے ہیں اور آپؑ کا کام بھی شرک مٹانا ہے، نہ کہ شرک قائم کرنا۔
سوال: حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے اپنی تصاویر کے بارے میں کیا بنیادی اصول بیان فرمایا؟
جواب: آپؑ نے فرمایا کہ تصویر کا مقصد دیکھا جائے؛ اگر کسی صحیح اور مفید ضرورت کے لیے ہو تو گنجائش ہے، لیکن تصویر کو بت پرستی یا شرک کا ذریعہ بنانا درست نہیں۔
سوال: کیا حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے ہر قسم کی تصویر کو مطلقاً حرام قرار دیا؟
جواب: نہیں۔ آپؑ نے فرمایا کہ اگر تصویر کسی مفید اور صحیح مقصد کے لیے ہو تو اسے مطلقاً حرام نہیں کہا جا سکتا، مثلاً علمی فوائد اور امراض کی تشخیص کے لیے تصویر کے آلات کا استعمال مفیدہے۔
سوال: حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے اپنی تصاویر کو ذریعۂ معاش بنانے کے بارے میں کیا فرمایا؟
جواب: آپؑ نے اسے ناپسند فرمایا اور جماعت کو نصیحت کی کہ بلا ضرورت آپؑ کی تصاویر کو عام کرنا یا ان سے کسبِ معاش کرنا بدعات کا ذریعہ بن سکتا ہے جو بالآخر شرک تک پہنچا دیتا ہے۔
سوال: حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے تصورِ مخلوق کے بارے میں کیا فرمایا؟
جواب: آپؑ نے فرمایا: "تصوّرِ مخلوق سے بجز شرک کے اور کوئی نتیجہ نہیں۔" اور اللہ تعالیٰ کے ذکر کے لیے اللہ کا اسم کافی قرار دیا۔
سوال: کیمیا گری کے بارے میں حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے کیا نصیحت فرمائی؟
جواب: آپؑ نے فرمایا کہ انسان کو رزق کے لیے اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ جائز اسباب اختیار کرنے چاہئیں اور تقویٰ اختیار کرنا چاہیے۔ جو شخص تقویٰ اختیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایسے راستے پیدا فرماتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا۔
سوال: حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کی توحید کی تعلیم نے ایک شخص پر کیا اثر ڈالا؟
جواب: ایک شخص نے آپؑ کا یہ شعر سنا کہ "ہے وہی اکثر پرندوں کا خدا" تو اسے توحید کی حقیقت کا احساس ہوا اور وہ قادیان آیا اور بیعت سے مشرف ہوا۔
سوال: کسی شخص کے احسان پر "جزاک اللہ" کہنے سے پہلے "الحمدللہ" کہنے کی کیا وجہ بیان ہوئی؟
جواب: حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے فرمایا کہ احسان کرنے والا اور وہ اسباب جن کے ذریعے وہ محسن بنا، سب اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ چیزیں ہیں؛ اس لیے سب سے پہلے خالقِ اسباب کا شکر ادا کرنا چاہیے اور الحمدللہ کہنا چاہیے، پھر جزاک اللہ کہنا چاہیے۔
سوال: لاہور کے آخری سفر میں حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے بیماری کے باوجود کیا مثال قائم فرمائی؟
جواب: شدید ضعف اور بیماری کے باوجود آپؑ نے تقریباً تین گھنٹے تک نہایت پُرزور اور معارف سے لبریز تقریر فرمائی۔
سوال: لاہور میں ہندو مستورات کے وفد کو حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے کیا نصیحت فرمائی؟
جواب: آپؑ نے انہیں توحید کی تلقین فرمائی، بت پرستی سے منع کیا اور اللہ تعالیٰ سے دعا و پرارتھنا کرنے کی تاکید فرمائی۔
سوال: حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے نزدیک توحید کے قیام کے لیے تبلیغ کا کیا طریق اختیار کرنا چاہیے؟
جواب: نرمی، اخلاق اور دعاؤں کے ذریعے توحید کا پیغام پہنچانا چاہیے۔
سوال: آج مسیح محمدی کے غلاموں کا کیا کام ہے؟
جواب: توحید کا پیغام دنیا تک پہنچانا اور اسے اپنی زندگیوں کا حصہ بنانا آج مسیح محمدی کے غلاموں کا کام ہے۔