اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2026-10-08

خطبہ جمعہ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 3؍اپریل 2026ءبطر زسوال و جواب

سوال: حقیقی توحید کسے کہتے ہیں؟
جواب: حقیقی توحید یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اپنی ذات میں ہر قسم کے شریک سے پاک سمجھا جائے، اس کے مقابل کسی کو قادر، رازق، معز، مذل، ناصر اور مددگار نہ مانا جائے۔ اپنی محبت، عبادت، تذلل، امیدیں اور خوف صرف اللہ تعالیٰ کے لیے خاص کیے جائیں۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حقیقی توحید کی کیا تعریف بیان فرمائی ہے؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:’’حقیقی توحید جس کا اقرار خدا ہم سے چاہتا ہے اور جس کے اقرار سے نجات وابستہ ہے یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کو اپنی ذات میں ہر ایک شریک سے ... منزہ سمجھنا۔‘‘
سوال: توحید کی تکمیل کے لیے کون سی تین تخصیصات ضروری ہیں؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشاد کے مطابق:ذات کے لحاظ سے توحید: اللہ تعالیٰ کے مقابل تمام موجودات کو فنا ہونے والی سمجھنا۔صفات کے لحاظ سے توحید: ربوبیت اور الوہیت کی صفات کسی مخلوق میں نہ ماننا۔محبت اور صدق و صفا کے لحاظ سے توحید: محبت، عبادت اور عبودیت میں کسی کو اللہ تعالیٰ کا شریک نہ ٹھہرانا۔
سوال: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے توحید کے قیام کے لیے کیا قربانیاں دیں؟
جواب: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے توحید کی منادی کرتے ہوئے شدید مخالفت، تکالیف اور مصائب برداشت کیے۔ آپؐ کو وطن سے نکالا گیا، قتل کے لیے تعاقب کیا گیا، آپؐ کے گھر اور اسباب تباہ کیے گئے اور آپؐ کے ماننے والوں کو بھی قید، زنجیروں اور سخت مار کا سامنا کرنا پڑا، لیکن آپؐ ثابت قدم رہے۔
سوال: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ثابت قدمی آپؐ کے صدقِ نبوت پر کس طرح دلیل ہے؟
جواب: آپؐ نے دنیاوی فائدے کے لیے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی پیروی میں توحید کا اعلان فرمایا۔ باوجود اس کے کہ اپنے اور بیگانے سب مخالف ہوگئے، آپؐ نے کسی مصلحت کی خاطر شرک کی تائید نہیں کی۔ یہ آپؐ کے اخلاص، صدق اور خدا پر توکل کی روشن دلیل ہے۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ثابت قدمی کے بارے میں کیا فرمایا؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:’’ہم سچ سچ کہتے ہیں کہ تمام نبیوں کے واقعات میں ایسے مواضعاتِ خطرات اور پھر کوئی ایسا خدا پر توکّل کرکے کھلا کھلا شرک اور مخلوق پرستی سے منع کرنے والا ... ایک بھی ثابت نہیں۔‘‘
سوال: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانۂ بعثت کی کیا حالت تھی؟
جواب: آپؐ ایسے زمانہ میں مبعوث ہوئے جب دنیا میں شرک، گمراہی اور مخلوق پرستی عام تھی۔ عرب میں بت پرستی، فارس میں آتش پرستی اور ہند میں مختلف قسم کی مخلوق پرستی پھیلی ہوئی تھی۔ دنیا ہدایتِ ربانی اور ایک عظیم مصلح کی شدید محتاج تھی۔
سوال: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت توحید کے قیام کی دلیل کیسے بنی؟
جواب: آپؐ نے ایسے بگڑے ہوئے زمانہ میں توحید اور اعمالِ صالحہ کی تعلیم دی، دنیا کو شرک اور مخلوق پرستی سے نجات دلائی اور لاکھوں دلوں کو حق و راستی کی طرف کھینچ لائے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپؐ خدا تعالیٰ کے سچے رسول اور سب رسولوں سے افضل تھے۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو کس مقصد کے لیے مامور کیا گیا تھا؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس زمانہ میں توحیدِ الٰہی کے قیام، شرک اور مخلوق پرستی کے خاتمہ، انسانوں کو خدائے واحد لاشریک کی طرف رجوع دلانے، اندرونی پاکیزگی اور راستبازی کی طرف توجہ دلانے کے لیے مامور کیا گیا تھا۔
سوال: الہام ’’اَنْتَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَةِ تَوْحِیْدِیْ وَ تَفْرِیْدِیْ‘‘ کا کیا مفہوم ہے؟
جواب: اس کا مفہوم یہ ہے کہ ایسا مامور شخص جس زمانہ میں توحیدِ الٰہی کی سخت بے حرمتی کی جا رہی ہو، وہ توحید کا مجسم نمونہ بن جاتا ہے اور اس کی زندگی کا مقصد اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا قیام ہوتا ہے۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے شرک کی کن باریک اقسام سے بچنے کی نصیحت فرمائی ہے؟
جواب: آپؑ نے فرمایا کہ سورج، چاند، ستاروں، ہوا آگ، پانی اور زمین کی کسی چیز کو معبود نہ بنایا جائے۔ دنیاوی اسباب پر ایسا بھروسہ نہ کیا جائے کہ گویا وہ خدا کے شریک ہیں۔ اپنی ہمت، کوشش، علم اور عمل پر غرور بھی نہ کیا جائے بلکہ ہر کامیابی کو اللہ تعالیٰ کے فضل سے سمجھا جائے۔
(لیکچر لاہور، روحانی خزائن جلد 20، صفحہ 154-155۔)
سوال: اللہ تعالیٰ کی صفات انسانوں کی صفات سے کس طرح مختلف ہیں؟
جواب: انسان کا علم محدود اور کسی معلم کا محتاج ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ کا علم غیر محدود اور کسی معلم کا محتاج نہیں۔ انسان کی سماعت، بصارت اور قدرت محدود اور مختلف اسباب کی محتاج ہیں، مگر اللہ تعالیٰ کی صفات بے مثل و مانند اور غیر محدود ہیں۔
سوال: اللہ تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا؟
جواب: اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ وہ ازلی و ابدی اور لامحدود ہے۔ اسی نے ہر ایک کو پیدا کیا ہے، اسے کسی نے پیدا نہیں کیا۔ اللہ تعالیٰ کسی مخلوق یا سبب کا محتاج نہیں۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے توحید کے قیام کے لیے اپنی بعثت کا کیا مقصد بیان فرمایا؟
جواب: آپؑ فرماتے ہیں: ’’مَیں بھیجا گیا ہوں کہ تا زمین پر دوبارہ توحید کو قائم کروں اور انسان پرستی یا سنگ پرستی سے لوگوں کو نجات دے کر خدائے واحد لا شریک کی طرف ان کو رجوع دلاؤں اور اندرونی پاکیزگی اور راستبازی کی طرف ان کو توجہ دوں۔‘‘
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا بہشت کیا تھا؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ اگر دوسرے لوگ بہشت چاہتے ہیں تو آپؑ کا بہشت یہ تھا کہ اپنی زندگی میں لوگوں کو شرک سے نجات پاتے اور خدا کا جلال ظاہر ہوتے دیکھیں۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ السلام تثلیث کے متعلق کیا دعا فرمایا کرتے تھے؟
جواب: آپؑ دعا فرماتے تھے کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کو آنکھ بخشے، وہ اس کی وحدانیت پر ایمان لائیں، اس کے رسول کو پہچانیں اور تثلیث کے اعتقاد سے توبہ کریں۔
سوال: دنیا میں توحید کے قیام کے لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا خصوصیت ہے؟
جواب: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی وہ وجود ہیں جنہوں نے توحید کو حقیقی رنگ میں دنیا میں قائم کیا۔ آپؐ نے دنیا کو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا پیغام دیا اور شرک و مخلوق پرستی کا خاتمہ فرمایا۔
سوال: خطبہ کے آخر میں حضور انور نے جماعت کو کیا نصیحت فرمائی؟
جواب: حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے نصیحت فرمائی کہ ہم حقیقی توحید پر عمل کرنے والے بھی ہوں اور اسے دنیا میں پھیلانے والے بھی۔ انسانیت کی بقا کا حل اللہ تعالیٰ کی توحید میں ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
***