سوال: جماعت احمدیہ کے قیام کا بنیادی مقصد کیا ہے؟
جواب: جماعت احمدیہ کے قیام کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ انسان اپنے اندر نیکی، تقویٰ اور خداتعالیٰ کی وحدانیت کا حقیقی ادراک پیدا کرے، اس کے قیام کی عملی تصویر بنے اور دنیا میں بھی توحیدِ الٰہی اور خداتعالیٰ کی بادشاہت قائم کرنے کی کوشش کرے۔
سوال:انسان کی پیدائش کا اصل مقصد کیا ہے؟
جواب: انسان کی پیدائش کا اصل مقصد یہ ہے کہ وہ اپنے پیدا کرنے والے خدا کو پہچانے، اس کی عبادت کرے، اس کے احکامات پر عمل کرے اور اس کی رضا حاصل کرے۔
سوال: اللہ تعالیٰ کو اپنی بادشاہت قائم کرنے کے لیے انسانوں کی مدد کی کیا ضرورت ہے؟
جواب: اللہ تعالیٰ زمین و آسمان اور ان کی تمام مخلوقات کا خالق اور ہر چیز پر قادر ہے۔ اس کی بادشاہت پہلے ہی قائم ہے۔ اسے انسانوں کی مدد کی ضرورت نہیں، بلکہ یہ انسان کی ضرورت ہے کہ وہ خدا کو پہچانے، اس کی عبادت کرے اور اس کی رضا کی جنتیں حاصل کرے۔
سوال: اللہ تعالیٰ نے انسان کو کون سی آزادی عطا فرمائی ہے؟
جواب: اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل و شعور عطا کرکے یہ آزادی دی ہے کہ وہ انبیائے کرام کی لائی ہوئی تعلیم پر ایمان لائے یا انکار کرے۔ اگر انسان عقل اور علم کا صحیح استعمال کرے تو ایمان لاتا اور نیک اعمال بجا لاتا ہے، ورنہ شیطان کے نقشِ قدم پر چلنے والوں میں شمار ہوتا ہے۔
سوال: اللہ تعالیٰ کے حقیقی بندے کون ہیں؟
جواب: اللہ تعالیٰ کے حقیقی بندے وہ ہیں جو اس کی تعلیم اور احکامات پر عمل کرتے ہیں، نیکی اور تقویٰ اختیار کرتے ہیں، اس کی عبادت کرتے ہیں اور اس کے پیغام کو دنیا تک پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو کس مقصد کے لیے مبعوث فرمایا گیا؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو آنحضرت ﷺ کی غلامی میں اس لیے مبعوث فرمایا گیا کہ آپ دنیا کو معبودِ حقیقی کی پہچان کروائیں، اللہ تعالیٰ اور اس کی مخلوق کے درمیان پیدا ہونے والی دوری کو ختم کریں اور حقیقی تعلق قائم کریں۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت میں شامل ہونے کا حق کس طرح ادا ہو سکتا ہے؟
جواب: ہم اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت میں شامل ہونے کا حق ادا کرنے والے کہلا سکتے ہیں جب ہم آپؑ کے مشن کو آگے بڑھائیں، خدا تعالیٰ سے تعلق مضبوط کریں، نیکی و تقویٰ اختیار کریں اور دنیا میں توحیدِ الٰہی قائم کرنے کی کوشش کریں۔
سوال: اللہ تعالیٰ اپنے انبیاء کو کیوں بھیجتا ہے؟
جواب: اللہ تعالیٰ اپنے انبیاء کو اس لیے بھیجتا ہے کہ وہ لوگوں کو معبودِ حقیقی کی پہچان کروائیں، انہیں اللہ تعالیٰ کے حضور جھکنے کی تعلیم دیں اور اس کا پیغام دنیا تک پہنچائیں۔
سوال: اللہ تعالیٰ اپنے انبیاء کے مخالفین کے ساتھ کیا سلوک فرماتا ہے؟
جواب: اللہ تعالیٰ اپنے انبیاء اور ان کے ماننے والوں کی مدد فرماتا ہے اور ان کے مخالفین کو اپنے عزیز اور غالب ہونے کا جلوہ دکھاتے ہوئے عبرت کا نشان بنا دیتا ہے۔
سوال: فرعون کا انجام کس بات کا نشان تھا؟
جواب: فرعون خدائی کا دعویٰ رکھتا تھا، مگر اللہ تعالیٰ نے اسے پانی میں غرق کرکے اس کا انجام آنے والی نسلوں کے لیے عبرت کا نشان بنا دیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حقیقی غلبہ صرف اللہ تعالیٰ کو حاصل ہے۔
سوال: فتحِ مکہ سے توحیدِ الٰہی کی کس طرح تائید ہوتی ہے؟
جواب: فتحِ مکہ اس بات کا روشن ثبوت ہے کہ آنحضرت ﷺ، جو اللہ تعالیٰ کے کامل عابد تھے، آخرکار غالب آئے اور کفارِ مکہ کے 360 بت کسی کام نہ آسکے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے ظاہر فرمایا کہ حقیقی غلبہ صرف اسی کو حاصل ہے۔
سوال: آنحضرت ﷺ کی بعثت کا بنیادی مقصد کیا تھا؟
جواب: آنحضرت ﷺ کی بعثت کا بنیادی مقصد دنیا کو معبودِ حقیقی کی پہچان کروانا، توحید کو قائم کرنا، انسانوں کو شرک سے نکالنا اور انہیں اللہ تعالیٰ کی بادشاہت کے قیام کی طرف لے جانا تھا۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آنحضرت ﷺ کے متعلق کیا بیان فرمایا؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ آنحضرت ﷺ وہ رسول تھے جنہوں نے نئے سرے سے زمین پر توحید قائم کی، وحشیوں کو انسان بنایا، انسانوں کو اعلیٰ اخلاق سے آراستہ کیا اور پھر انہیں خدا کے رنگ میں رنگین فرمایا۔
سوال: حقیقی بااخلاق انسان کون ہے؟
جواب: حقیقی بااخلاق انسان وہ ہے جو ظاہری اخلاق سے ترقی کرتے ہوئے معبودِ حقیقی کی پہچان حاصل کرے، اس کا حقیقی عابد بنے اور اپنے اخلاق کو خدا تعالیٰ کی محبت اور اطاعت سے مزین کرے۔
سوال: صرف دنیاوی اخلاق کافی کیوں نہیں ہیں؟
جواب: صرف ظاہری اور دنیاوی اخلاق کافی نہیں، کیونکہ اگر انسان کا خدا سے تعلق قائم نہیں تو اس کے اخلاق میں بناوٹ، تکلف اور تصنع پیدا ہو سکتا ہے۔ حقیقی اخلاق وہ ہیں جو خدا تعالیٰ کی معرفت، عبادت اور تقویٰ سے پیدا ہوں۔
سوال: حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے ظاہری اخلاق رکھنے والوں کے متعلق کیا مثال بیان فرمائی؟
جواب: حضرت مصلح موعودؓ نے ایک مجلس کا ذکر فرمایا جہاں بظاہر پڑھے لکھے اور بااخلاق لوگ موجود تھے۔ جب تکلف ختم کرنے کے نام پر بے تکلفی اختیار کی گئی تو وہاں اخلاق سے گری ہوئی باتیں ہونے لگیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا سے دوری ظاہری اخلاق کو بھی کھوکھلا بنا دیتی ہے۔
سوال: سورۃ آلِ عمران کی آیت 19 میں اللہ تعالیٰ نے کیا گواہی دی ہے؟
جواب: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ انصاف کے ساتھ گواہی دیتا ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ فرشتے اور اہلِ علم بھی یہی گواہی دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ کامل غلبہ والا اور حکمت والا ہے۔
سوال: آیتِ مذکورہ میں اہلِ علم سے کون مراد ہیں؟
جواب: اہلِ علم سے مراد سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کے انبیاء ہیں، پھر وہ لوگ ہیں جو انبیاء کی تعلیم کو حقیقی طور پر قبول کرتے ہیں اور خدائے واحد کی معرفت حاصل کرتے ہیں۔
سوال: حقیقی علم کی علامت کیا ہے؟
جواب: حقیقی علم کی علامت یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو پہچانے، اس کی صفات کا ادراک حاصل کرے، اس کے سامنے جھکے اور اپنی زندگی کو مقصدِ پیدائش کے مطابق گزارے۔
سوال: اللہ تعالیٰ کو شریک ماننا عقل کے خلاف کیوں ہے؟
جواب: اللہ تعالیٰ عزیز، قوی اور حکیم ہے۔ وہ تمام طاقتوں کا مالک ہے۔ اگر اس کے ساتھ دوسرے معبود مانے جائیں تو کائنات کا نظام مختلف خداؤں کی مرضی کے تابع ہو جائے گا، جو حکمت کے خلاف ہے۔ اس لیے حقیقی خدا صرف ایک ہی ہو سکتا ہے۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے شرک کے رد میں مکھی کی کیا مثال بیان فرمائی؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قرآن کریم کی روشنی میں فرمایا کہ جنہیں لوگ اللہ کے سوا معبود بناتے ہیں، اگر وہ سب مل کر بھی ایک مکھی پیدا کرنا چاہیں تو نہیں کر سکتے۔ بلکہ اگر مکھی ان سے کوئی چیز چھین لے جائے تو وہ اسے واپس بھی نہیں لے سکتے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حقیقی طاقت صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔