سوال: آنحضرت ﷺ کی بعثت کا بنیادی مقصد کیا تھا؟
جواب: آنحضرت ﷺ کی بعثت کے بنیادی مقاصد میں ایک عظیم مقصد اللہ تعالیٰ کی توحید قائم کرنا، شرک کو مٹانا اور دنیا کو خدائے واحد کی عبادت اور اس کی عظمت کی طرف بلانا تھا۔ آپؐ نے اپنی پوری زندگی میں توحید کے قیام کے لیے غیر معمولی جدوجہد فرمائی۔
سوال: آنحضرت ﷺ نے توحید کے قیام کے لیے کیا عملی جدوجہد فرمائی؟
جواب: آپؐ نے مکہ میں مشرکین کی شدید مخالفت کے باوجود توحید کا اعلان کیا اور فتح مکہ کے موقع پر خانۂ کعبہ کو 360 بتوں سے پاک کر دیا۔ اس کے ساتھ آپؐ نے صحابہؓ کے دلوں میں بھی توحید اس طرح قائم فرمائی کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سچے موحد اور توحید کے علمبردار بن گئے۔
سوال: اہلِ طائف کے بت لات کے بارے میں آنحضرت ﷺ کا طرزِ عمل کیا تھا؟
جواب: اہلِ طائف نے درخواست کی کہ ان کے بت لات کو کچھ عرصہ نہ گرایا جائے، حتیٰ کہ صرف ایک ماہ کی مہلت بھی مانگی، لیکن آنحضرت ﷺ نے توحید کے معاملہ میں کسی قسم کی مداہنت قبول نہ فرمائی اور حضرت ابو سفیانؓ اور حضرت مغیرہ بن شعبہؓ کو بھیج کر اسے گروا دیا۔
سوال: صحابہؓ کو آنحضرت ﷺ نے اپنی تعریف میں مبالغہ کرنے سے کیوں منع فرمایا؟
جواب: کیونکہ آپؐ چاہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی توحید ہر حال میں محفوظ رہے اور کوئی شخص آپؐ کو اللہ تعالیٰ کے مقام کے برابر یا اس سے بڑھ کر نہ سمجھے۔ آپؐ نے فرمایا کہ میری تعریف میں ایسا مبالغہ نہ کرو جیسا نصاریٰ نے حضرت عیسیٰؑ کے بارے میں کیا؛ میں اللہ تعالیٰ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔
سوال: توحید کے مقابلے میں کسی انسان یا چیز پر ایسا انحصار کرنا کہ اسے اللہ تعالیٰ کا قائم مقام سمجھ لیا جائے، کیا حیثیت رکھتا ہے؟
جواب: اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی بھی چیز پر انحصار شرک کا پہلو پیدا کر سکتا ہے۔ اس لیے ہر شخص کو نہایت باریکی سے اپنا جائزہ لینا چاہیے کہ کہیں اس کے عقائد، اعمال یا طرزِ زندگی میں شرک کا کوئی پہلو تو موجود نہیں۔
سوال: شرک کو قرآن کریم نے کس نام سے بیان فرمایا ہے؟
جواب: قرآن کریم نے شرک کو ’’ظلمِ عظیم‘‘ قرار دیا ہے۔ صحابہؓ نے جب اپنے عام گناہوں کے بارے میں تشویش ظاہر کی تو اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ شرک ہی وہ بڑا ظلم ہے جس سے ایمان کو پاک رکھنا ضروری ہے۔
سوال: ایمان کے کامل ہونے کے لیے شرک سے پاک ہونا کیوں ضروری ہے؟
جواب: کیونکہ شرک انسان کے مقامِ عبدیت کو برباد کرتا ہے۔ جب انسان اللہ تعالیٰ کے مخصوص حقوق، یعنی عبادت، محبت اور اطاعت میں کسی دوسرے کو شریک کرتا ہے تو وہ اپنے اصل مقصدِ پیدائش سے ہٹ جاتا ہے۔ کامل ایمان وہی ہے جو شرک اور ظلم کی آمیزش سے پاک ہو۔
سوال: سورۃ الاخلاص کو ثلثِ قرآن کیوں قرار دیا گیا ہے؟
جواب: سورۃ الاخلاص میں نہایت جامع انداز میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت، بے نیازی اور ہر قسم کی شرک سے پاک ہونے کا مضمون بیان ہوا ہے۔ حضرت مصلح موعودؓ نے وضاحت فرمائی کہ اس کا ’’ثلثِ قرآن‘‘ ہونا اس کے حجم کی وجہ سے نہیں بلکہ اس کے مضمون کی غیر معمولی اہمیت کی وجہ سے ہے؛ قرآن کریم کا بنیادی کام توحید کو ثابت کرنا اور باطل عقائد کی تردید کرنا ہے۔
سوال: سورۃ الاخلاص اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو کس طرح بیان کرتی ہے؟
جواب: اس میں اللہ تعالیٰ کے ایک ہونے، بے نیاز ہونے، اس کے نہ کسی کا بیٹا ہونے، نہ وہ کسی کا بیٹا ہونے اور اس کا کوئی ہمسر نہ ہونے کو بیان کیا گیا ہے۔ حضرت مسیح موعودؑ نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ عدد، مرتبہ، نسب اور فعل و تاثیر، ہر قسم کی شرکت سے پاک اور یگانہ ہے۔
سوال: حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے نزدیک حقیقی توحید کیسے حاصل ہوتی ہے؟
جواب: حضرت مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں کہ یقینی توحید نبی کے ذریعہ ملتی ہے۔ آنحضرت ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی زندہ قدرتوں اور نشانات کے ذریعے لوگوں کے دلوں میں خدا تعالیٰ کے وجود اور وحدانیت کا یقین پیدا فرمایا۔ آپؑ کے مطابق حقیقی اور پاک توحید آنحضرت ﷺ کی کامل پیروی کے ذریعہ حاصل ہوتی ہے۔
سوال: کیا صرف زبان سے اللہ تعالیٰ کو واحد مان لینا حقیقی توحید کے لیے کافی ہے؟
جواب: نہیں۔ حقیقی توحید کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنے ہر فعل سے ثابت کرے کہ اللہ تعالیٰ ہی اس کا واحد معبود، مطلوب، محبوب اور مطاع ہے۔ صرف زبانی اقرار کافی نہیں بلکہ عملی زندگی بھی توحید کے مطابق ہونی چاہیے۔
سوال: ’’لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہ‘‘ کا عملی مفہوم کیا ہے؟
جواب: حضرت مسیح موعودؑ نے اس کے مفہوم میں یہ حقیقت بیان فرمائی کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ہمارا حقیقی مطلوب، محبوب، معبود اور مطاع نہیں۔ جب یہ حقیقت دل میں قائم ہو جائے تو نفسانی خواہشات اور گناہ کے جذبات کم ہوتے جاتے ہیں اور انسان پاکیزگی اور راست بازی کی طرف بڑھتا ہے۔
سوال: ’’لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہ‘‘ کی عظمت کیا ہے؟
جواب: ایک روایت کے مطابق حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے اسی کلمہ کو ذکر کے طور پر اختیار کرنے کی تاکید فرمائی۔ اس کی عظمت یہ بیان ہوئی کہ اگر تمام آسمان و زمین اور ان کی موجودات ایک پلڑے میں ہوں اور ’ ’’لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہ‘‘ دوسرے پلڑے میں ہو تو کلمۂ توحید کا پلڑا بھاری ہوگا۔
سوال: شرک کی ایک نہایت باریک صورت کون سی بیان ہوئی ہے؟
جواب: ریا اور دکھاوا شرکِ اصغر کی ایک صورت بیان ہوئی ہے۔ انسان اگر لوگوں سے فائدہ حاصل کرنے کے لیے اپنے اعمال کا دکھاوا کرے یا ان کی خوشنودی کو اللہ تعالیٰ کی رضا پر مقدم کرے تو یہ توحید کی روح کے خلاف ہے۔
سوال: آنحضرت ﷺ کی وفات کے وقت توحید کے بارے میں آخری نصیحت کیا تھی؟
جواب: آپؐ نے اپنی امت کو اس بات سے خبردار فرمایا کہ آپؐ کو ایسا مشرکانہ مقام نہ دیا جائے جس سے اللہ تعالیٰ کے مقام میں کمی واقع ہو۔ آپؐ کی یہ فکر اس امر کی واضح دلیل ہے کہ توحید آپؐ کی زندگی کا بنیادی اور آخری پیغام تھا۔
سوال: بیعتِ مسیح موعودؑ کا توحید کے ساتھ کیا تعلق ہے؟
جواب: حضرت مسیح موعودؑ نے جماعت قائم کرتے ہوئے توحید کے قیام پر خصوصی زور دیا۔ ہم نے آپؑ کی بیعت میں یہ عہد کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر قائم رہیں گے اور اپنے اندر، اپنے خاندان اور اپنے معاشرے میں بھی حقیقی توحید کے قیام کی کوشش کریں گے۔
سوال: یومِ مسیح موعود منانے کا توحید سے کیا تعلق ہے؟
جواب: 23 مارچ کی مناسبت سے یومِ مسیح موعود کے جلسے اس لیے بھی اہم ہیں کہ حضرت مسیح موعودؑ اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق توحید کے قیام اور آنحضرت ﷺ کی تعلیم کو دنیا میں پھیلانے کے لیے مبعوث ہوئے۔ آپؑ کی بیعت کا حقیقی حق اسی وقت ادا ہوگا جب ہم عملی طور پر توحید کو اپنی زندگیوں میں قائم کریں۔
سوال: ایک حقیقی موحد کی عملی ذمہ داریاں کیا ہیں؟
جواب: حقیقی موحد وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کو واحد معبود ماننے کے ساتھ اس کی عبادت کرے، اسی پر بھروسہ رکھے، اس کے احکام کی اطاعت کرے، شرک اور ریا سے بچے، اپنے اخلاق درست کرے اور اپنے گھر اور معاشرے میں بھی توحید اور اسلامی تعلیمات کو قائم کرنے کی کوشش کرے۔