سوال: حضور اقدس نے دنیا کی عمومی صورتِ حال کیا بیان کی ؟
جواب: دنیا کے مختلف ممالک میں سیاسی، مذہبی، معاشی اور داخلی مسائل کے باعث افراتفری، خوف، فساد اور بے چینی پائی جاتی ہے۔
سوال: کیا مذہب دہشت گردی کی تعلیم دیتا ہے؟
جواب: ہرگز نہیں۔ مذہب کبھی دہشت گردی کی تعلیم نہیں دیتا، خصوصاً اسلام کی تعلیم تو کلیتاً دہشت گردی اور ظلم کے خلاف ہے۔
سوال: احمدی دنیا کے حالات سے کیوں پریشان ہوتے ہیں؟
جواب: کیونکہ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے احمدیوں کے دلوں میں خدا کا خوف اور بنی نوع انسان سے حقیقی ہمدردی پیدا فرمائی ہے۔
سوال: حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کی بعثت کا ایک بنیادی مقصد کیا تھا؟
جواب: ایمان کو مضبوط کرنا، خدا تعالیٰ کا وجود لوگوں پر ثابت کرنا، دلوں میں تقویٰ پیدا کرنا اور سچائی و ایمان کا زمانہ دوبارہ قائم کرنا آپؑ کی بعثت کے اہم مقاصد میں شامل تھا۔
(کتاب البریہ، روحانی خزائن جلد 13، ص291-293 حاشیہ)
سوال: حضرت مسیح موعودعلیہ السلام ے خدا اور مخلوق کے تعلق کے بارے میں کیا فرمایا؟
جواب: آپؑ نے فرمایا کہ خدا اور اس کی مخلوق کے درمیان پیدا ہونے والی کدورت کو دور کرکے محبت و اخلاص کا تعلق قائم کرنا اور مذہبی جنگوں کا خاتمہ کرکے صلح کی بنیاد ڈالنا آپؑ کے کاموں میں شامل ہے۔
(لیکچر لاہور، روحانی خزائن جلد 20، ص180)
سوال: قرآن شریف کے بڑے احکام کون سے دو بیان ہوئے ہیں؟
جواب: توحید، محبت اور اطاعتِ باری تعالیٰ؛ اور دوسرا اپنے بھائیوں اور تمام بنی نوع انسان سے ہمدردی۔ (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد 3، ص550)
سوال: ہر احمدی کی بنیادی ذمہ داری کیا ہے؟
جواب: خدا سے ذاتی تعلق پیدا کرنا، توحید کو قائم کرنے کی کوشش کرنا اور ہر وقت مخلوقِ خدا کی ہمدردی و خدمت میں کوشاں رہنا۔
سوال: دنیا میں امن قائم کرنے کے لیے کیا پیغام دینا چاہیے؟
جواب: لوگوں کو خدا تعالیٰ کو پہچاننے، اس کے قوانین پر عمل کرنے اور اس کے بھیجے ہوئے کی مخالفت و استہزاء سے باز آنے کی طرف توجہ دلانی چاہیے۔
سوال: جماعت احمدیہ مصیبت زدہ انسانوں کے ساتھ کیا سلوک کرتی ہے؟
جواب: جماعت مذہب، قوم یا سابقہ مخالفت کی پروا کیے بغیر مصیبت زدہ اور ضرورت مند انسانوں کی خدمت کرتی ہے اور ہمدردیٔ بنی نوع انسان کو اپنا فرض سمجھتی ہے۔
سوال: مخالفین کے ظلم کے باوجود جماعت احمدیہ خدمتِ انسانیت کیوں جاری رکھتی ہے؟
جواب: کیونکہ حضرت مسیح موعودؑ نے بنی نوع انسان سے سچی ہمدردی کو اپنے اہم کاموں میں شمار فرمایا ہے؛ اس لیے مخالفت بھی خدمت کے جذبے کو ختم نہیں کرسکتی۔
سوال: پاکستان کے حالات کی خرابی کی بنیادی وجہ کیا بیان کی گئی؟
جواب: ایمان کی کمزوری، دنیاوی جاہ و مراتب کی محبت، قانون و انصاف کے دوہرے معیار اور اللہ تعالیٰ کے احکام سے روگردانی کو بے چینی اور فساد کی بنیادی وجوہ میں بیان کیا گیا ہے۔
سوال: حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے افغانستان کے واقعہ کے متعلق کیا تسلی دی؟
جواب: آپؑ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تسلی دی گئی کہ اگر جماعت کے دو افراد شہید بھی ہوگئے تو خدا جماعت کے ساتھ ہے اور ان کے عوض ایک قوم جماعت میں شامل ہوگی۔(تذکرۃ الشہادتین، روحانی خزائن جلد 20، ص73)
سوال: افغانستان کے بارے میں حضرت مسیح موعودؑ کا انذار کیا تھا؟
جواب: آپؑ نے کابل کی سرزمین پر ہونے والے ظلم کو ایک عظیم جرم قرار دیا اور اسے خدا کی نظر سے گر جانے والی بدقسمت زمین قرار دیا۔(تذکرۃ الشہادتین، روحانی خزائن جلد 20، ص74)
سوال: انڈونیشیا کے احمدیوں کو مخالفت کے مقابلے پر کیا ہدایت دی گئی؟
جواب: قانون کو ہاتھ میں نہ لیں، قانونی دائرے میں رہتے ہوئے اپنے حقوق حاصل کریں اور مخالفت کے باوجود ہمدردیٔ خلق اور تبلیغِ اسلام کا کام جاری رکھیں۔
سوال: مصیبت اور ظلم کے وقت احمدی کو کیا کرنا چاہیے؟
جواب: صبر، نماز اور دعا کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنی چاہیے اور اپنی دینی ذمہ داریوں کو ثابت قدمی سے ادا کرتے رہنا چاہیے۔
سوال: قرآن کریم نے صبر و صلوٰۃ کے بارے میں کیا حکم دیا ہے؟
جواب: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَاسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوۃِ یعنی صبر اور نماز کے ساتھ اللہ سے مدد مانگو؛ یقیناً اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
(البقرۃ: 46، 154)
سوال: ظلم کا جواب ظلم سے دینے سے کیوں روکا گیا ہے؟
جواب: کیونکہ احمدی کی ذمہ داری صراطِ مستقیم پر قائم رہنا، صبر کرنا اور اللہ تعالیٰ کی مدد طلب کرنا ہے؛ مخالفین کے ظلم کی وجہ سے خود ظلم یا بے صبری اختیار نہیں کرنی چاہیے۔
سوال: حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے جماعت کے مستقبل کے بارے میں کیا خوشخبری دی؟
جواب: آپؑ نے فرمایا کہ جماعت خدا کے ہاتھ کا بویا ہوا بیج ہے، جو بڑھے گا، پھولے گا اور ایک بڑا درخت بن جائے گا؛ جو لوگ ابتلاؤں میں صبر اور صدق کے ساتھ ثابت قدم رہیں گے وہ آخر فتح یاب ہوں گے۔
(رسالہ الوصیت، روحانی خزائن جلد 20، ص309)
سوال: حقیقی مومنوں کی کیا خصوصیت بیان ہوئی ہے؟
جواب: ان کا ایمان دنیاوی آمیزش، نفاق اور بزدلی سے پاک ہوتا ہے اور وہ اطاعت میں ثابت قدم رہتے ہیں؛ ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ اور صدق کے قدم پر چلنے والے ہیں۔
سوال: اس خطبہ کا مرکزی پیغام کیا ہے؟
جواب: خدا تعالیٰ سے مضبوط تعلق، توحید کا قیام، بنی نوع انسان سے ہمدردی، قانون کی پابندی، ظلم کے مقابلے میں صبر، نماز و دعا اور حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے تعلیم پر ثابت قدمی ہی حقیقی امن اور کامیابی کا راستہ ہے