اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2026-09-10

خطبہ جمعہ فرمودہ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 6؍مارچ2026ءبطر زسوال و جواب

سوال: آنحضرت ﷺ کی بعثت کے پیغام کا ایک اہم مقصد کیا تھا؟
جواب: خدائے واحد پر ایمان، اس کی عبادت اور توحید کا قیام، بندوں کے حقوق ادا کرنا اور مسلمانوں کو ایک اُمّت بن کر بھائی بھائی کی طرح رہنے کی تعلیم دینا۔
سوال: موجودہ مسلم دنیا کی ایک بڑی کمزوری کیا بیان فرمائی گئی؟
جواب: مسلمان کلمہ اور توحید کا دعویٰ کرنے کے باوجود باہمی پھاڑ اور اختلاف کا شکار ہیں اور ان کے اعمال اس تعلیم کے مطابق نہیں جس کا وہ دعویٰ کرتے ہیں۔
سوال: مسلمان حکومتوں اور حکمرانوں کو کیا نصیحت فرمائی گئی؟
جواب: انہیں ذاتی اور ملکی مفادات سے بالاتر ہو کر بحیثیت ملّتِ اسلامیہ متحد ہونے کی بھرپور کوشش کرنی چاہیے تاکہ اسلامی دنیا کا وقار قائم رہے اور مخالف طاقتیں ان کے اختلافات سے فائدہ نہ اٹھا سکیں۔
سوال: ایک اُمّت بنانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ میں کیا انتظام فرمایا؟
جواب: اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود علیہ السلام کو مبعوث فرمایا تاکہ وہ مسلمانوں کو ایک اُمّت بنانے کا کام سرانجام دیں۔
سوال: احمدیوں کی مسلم اُمّت کے متعلق کیا دعا اور کوشش ہے؟
جواب: احمدیوں کی کوشش اور دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مسلم اُمّت کو متحد کرے اور اسے فساد، ظلم اور مظالم سے محفوظ رکھے۔
سوال: دجالی طاقتوں کے متعلق کیا تنبیہ فرمائی گئی؟
جواب: فرمایا کہ دجالی طاقتیں مسلمانوں کو امن و سکون سے رہتا ہوا نہیں دیکھنا چاہتیں اور مسلم دنیا کے اختلافات و فسادات سے فائدہ اٹھاتی ہیں۔
سوال: اس دنیا کے پُرفتن حالات میں ہمارا بنیادی کام کیا ہے؟
جواب: اللہ تعالیٰ کے حضور جھک کر مسلم دنیا، مسلمانوں اور معصوموں کے لیے خصوصی دعائیں کرنا اور ظلم و فساد کے خلاف آگاہی پیدا کرنا ہمارا کام ہے۔
سوال: جنگوں کے بڑھتے ہوئے خطرے کے بارے میں حضور انور نےکیا فرمایا ؟
جواب: فرمایا کہ ظلم اور جنگ کا دائرہ بڑھتا جا رہا ہے اور وسیع پیمانے پر جنگِ عظیم کا خطرہ پیدا ہو چکا ہے؛ تاہم اگر مسلم دنیا عقل و ہوش سے کام لے کر متحد ہو جائے تو وہ بہت سے فتنوں سے محفوظ رہ سکتی ہے۔
سوال: دنیا میں امن قائم کرنے کے لیے صرف اپنا حق لینا کافی ہے؟
جواب: نہیں۔ امن کے لیے اپنا حق لینے کے ساتھ دوسروں کو ان کے حقوق دینا اور انصاف قائم کرنا بھی ضروری ہے۔
سوال: بڑی طاقتوں کے بارے میں مسلمانوں کو کیا نصیحت فرمائی گئی؟
جواب: بڑی طاقتوں کو اپنا خدا نہ سمجھیں، کیونکہ ہمیشہ رہنے والی طاقت صرف خدا تعالیٰ کی ہے۔ مسلمانوں کو اپنی توجہ اللہ تعالیٰ کی طرف مبذول کرنی چاہیے۔
سوال: مسلمان ممالک کے باہمی اختلافات کے بارے میں کیا اصول بیان فرمایا گیا؟
جواب: اختلاف کے باوجود مسلمانوں کا بنیادی تعلق اسلامی اخوت اور بھائی چارے کا ہے؛ چھوٹے چھوٹے اختلافات اس اخوت کو توڑنے کا ذریعہ نہیں بننے چاہئیں۔
سوال: قرآن کریم نے مسلمان گروہوں کے باہمی جھگڑے کی صورت میں کیا حکم دیا ہے؟
جواب: فرمایا کہ اگر مومنوں کے دو گروہ لڑ پڑیں تو ان میں صلح کرائی جائے، اور اگر ایک گروہ زیادتی کرے تو زیادتی کرنے والے کے خلاف اقدام کیا جائے، پھر عدل و انصاف کے ساتھ صلح کرائی جائے۔
سوال: قرآن کریم کے مطابق مومنوں کا باہمی تعلق کیا ہے؟
جواب: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَۃٌ‘‘ یعنی مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں؛ اس لیے ان کے درمیان صلح کرانی چاہیے اور تقویٰ اختیار کرنا چاہیے۔
سوال: مسلمانوں کو آپس کے عقائدی اختلافات کے بارے میں کیا رویہ اختیار کرنا چاہیے؟
جواب: محض عقائد کے اختلاف کو مسلمانوں کے باہمی فساد اور دشمنی کا سبب نہیں بنانا چاہیے۔ آنحضرتﷺ نے بھی کلمہ پڑھنے والے کے بارے میں انتہائی احتیاط اور شفقت کا نمونہ قائم فرمایا۔
سوال: رمضان میں احمدیوں کو خصوصی طور پر کس طرف توجہ دلائی گئی؟
جواب: اپنی ذاتی دعاؤں کے ساتھ ساتھ اُمّتِ مسلمہ، مسلمانوں اور معصوموں کے لیے خصوصی دعائیں کرنے کی تحریک فرمائی گئی۔
سوال: مسلمانوں کے آپس میں لڑنے اور ایک دوسرے کو قتل کرنے کا کیا انجام بتایا گیا؟
جواب: ایسا ظلم اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا موجب بنتا ہے اور ایسے لوگ دنیا اور آخرت دونوں میں نقصان اٹھانے والے ہوں گے۔
سوال: مسلم ممالک کو موجودہ حالات میں کیا عملی قدم اٹھانا چاہیے؟
جواب: انہیں باہمی اختلافات ختم کرنے، سر جوڑ کر مسائل حل کرنے، عدل و انصاف قائم کرنے اور اسلامی اخوت کی بنیاد پر متحد ہونے کی کوشش کرنی چاہیے۔
سوال: خطبہ کے آخر میں کن مرحومین کا ذکرِ خیر اور نمازِ جنازہ غائب کا اعلان فرمایا گیا؟
جواب: حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کی صاحبزادی مکرمہ صاحبزادی امۃ الجمیل صاحبہ، ہالینڈ کے مکرم ڈاکٹر رشید احمد خان صاحب اور مکرم زینب بی بی صاحبہ اہلیہ مکرم بشیر احمد صاحب سابق صدر جماعت و امام مسجد چک 275 کرتارپور کا ذکرِ خیر فرمایا گیا اور نمازِ جنازہ غائب ادا کرنے کا اعلان فرمایا۔
سوال: صاحبزادی امۃ الجمیل صاحبہ کی نمایاں خصوصیات کیا تھیں؟
جواب: وہ غریبوں کا خیال رکھنے والی، صدقہ و خیرات کرنے والی، چندوں میں باقاعدہ، نماز اور دعا کی پابند اور دوسروں کی ضروریات پوری کرنے کی کوشش کرنے والی نیک خاتون تھیں۔
سوال: ڈاکٹر رشید احمد خان صاحب کی نمایاں دینی خصوصیات کیا تھیں؟
جواب: وہ نیک فطرت، سلیم الطبع، ملنسار، خدا ترس، صلہ رحمی کرنے والے، خلافت کے شیدائی، غریبوں کی مدد کرنے والے اور تبلیغِ اسلام کا شوق رکھنے والے تھے۔
سوال: ڈاکٹر رشید احمد خان صاحب نے مشکل حالات میں احمدیت کے بارے میں کیا جرأت مندانہ نمونہ دکھایا؟
جواب: شدید مخالفت اور جان کے خطرے کے باوجود انہوں نے احمدیت سے دستبردار ہونے یا حضرت مسیح موعودؑ کو گالیاں دینے سے صاف انکار کیا اور اپنے ایمان پر مضبوطی سے قائم رہے۔
سوال: مکرمہ زینب بی بی صاحبہ کی نمایاں خوبیاں کیا بیان ہوئیں؟
جواب: وہ دعا گو، تہجد گزار، نماز کی پابند، روزانہ قرآن کریم کی تلاوت کرنے والی، مہمان نواز، خلافت سے گہری عقیدت رکھنے والی اور غریبوں کی مدد کرنے والی نیک خاتون تھیں۔

***