اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2026-09-03

خطبہ جمعہ فرمودہ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 27؍ فروری2026ء بطر زسوال و جواب

سوال: تمام انبیاء علیہم السلام دنیا میں کس بنیادی مقصد کے لیے تشریف لائے؟
جواب: تمام انبیاء علیہم السلام دنیا میں توحیدِ الٰہی کے قیام کے لیے تشریف لائے اور انہوں نے اپنی اپنی قوموں کو ایک خدا کی عبادت اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانے کی تعلیم دی۔ تاہم اکثریت نے بعد میں اس تعلیم کو چھوڑ دیا۔ آنحضرت ﷺ بھی اسی عظیم مقصد کو کامل صورت میں قائم کرنے کے لیے مبعوث ہوئے۔
سوال: آنحضرت ﷺ نے توحید کی تعلیم کس انداز میں پیش فرمائی؟
جواب: آپ ﷺ نے محض توحید ماننے کی تلقین نہیں فرمائی بلکہ اللہ تعالیٰ سے علم پا کر توحید کے حق میں مضبوط دلائل بھی پیش فرمائے۔ اسی طرح شرک کی مخالفت بھی بغیر دلیل کے نہیں کی بلکہ اس کی قباحت اور بے حقیقتی واضح فرمائی اور لوگوں کے دلوں میں شرک سے نفرت پیدا کی۔
سوال: آنحضرت ﷺ کی تعلیم لوگوں کے دلوں پر اتنی گہری کیوں اثر انداز ہوئی؟
جواب: اس کی ایک بنیادی وجہ یہ تھی کہ آپ ﷺ کی اپنی زندگی آپ کی تعلیم کا عملی نمونہ تھی۔ آپ ﷺ کا ہر قول و فعل توحید کی حقیقی تصویر تھا اور اللہ تعالیٰ نے جو عظیم تعلیم آپ ﷺ کو عطا فرمائی تھی، آپ ﷺ نے سب سے پہلے خود اس پر کامل طور پر عمل کر کے دکھایا۔
سوال: آنحضرت ﷺ کو اپنی امت کے بارے میں توحید کے حوالے سے کیا خاص فکر تھی؟
جواب: آپ ﷺ کو یہ فکر تھی کہ کہیں آپ ﷺ کی امت بھی سابقہ اقوام کی طرح اپنے نبی کو خدا تعالیٰ کے مقابل پر نہ لے آئے۔ آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ سے اس بات سے پناہ مانگی اور امت کو بھی نصیحت فرمائی کہ آپ ﷺ کو کبھی شرک کا ذریعہ نہ بنانا۔
سوال: قرآن کریم نے توحید کے بارے میں کیا بنیادی تعلیم دی ہے؟
جواب: قرآن کریم بار بار مختلف پہلوؤں سے توحید کی تعلیم دیتا ہے۔ سورۃ الانبیاء میں فرمایا گیا:
لَا إِلٰہَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ
یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں، پس اسی کی عبادت کرو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام انبیاء کی تعلیم کا مرکزی نقطہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور صرف اسی کی عبادت ہے۔
سوال: قرآن کریم شرک کے بارے میں کیا واضح حکم دیتا ہے؟
جواب: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَاعْبُدُوا اللّٰہَ وَلَا تُشْرِکُوا بِہٖ شَیْئًا، یعنی اللہ کی عبادت کرو اور کسی چیز کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ۔ اس آیت میں توحید کے ساتھ ساتھ ہر قسم کے شرک سے اجتناب کا واضح حکم دیا گیا ہے۔
سوال: آنحضرت ﷺ کی زندگی کا بنیادی مقصد کیا تھا؟
جواب: آنحضرت ﷺ کی زندگی کا ہر لمحہ توحید کے قیام کے لیے گزرا۔ آپ ﷺ نے اپنی زندگی کے ہر مرحلے میں لوگوں کو ایک خدا کی طرف بلایا اور شرک و بت پرستی سے نجات کی دعوت دی۔
سوال: نبوت سے پہلے بھی آنحضرت ﷺ کی فطرت توحید کے بارے میں کیسی تھی؟
جواب: آنحضرت ﷺ کی فطرت نہایت پاکیزہ تھی اور توحید سے محبت آپ ﷺ کے رگ و ریشہ میں ودیعت تھی۔ نبوت سے پہلے ہی آپ ﷺ شرک اور بتوں کی پرستش سے سخت متنفر تھے۔
سوال: بُوانہ کے بت کے واقعہ سے آنحضرت ﷺ کی توحید پسندی کس طرح ظاہر ہوتی ہے؟
جواب: بُوانہ ایک بت تھا جس کی قریش بہت تعظیم کرتے تھے۔ ابو طالب اور خاندان کے بعض افراد چاہتے تھے کہ آنحضرت ﷺ بھی اس موقع پر قوم کے ساتھ شریک ہوں، لیکن آپ ﷺ نے اس سے انکار فرمایا۔ ایک مرتبہ اصرار پر وہاں تشریف لے گئے تو سخت خوف کے ساتھ واپس آئے اور اس کے بعد مشرکانہ تہواروں میں کبھی شرکت نہ کی۔
سوال: بحیرا راہب سے ملاقات کے موقع پر آنحضرت ﷺ نے لات اور عزیٰ کے بارے میں کیا فرمایا؟
جواب: آپ ﷺ نے بتوں کے بارے میں اپنی شدید نفرت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ لات اور عزیٰ کے بارے میں مجھ سے نہ پوچھو، خدا کی قسم! ان سے بڑھ کر مجھے اور کسی چیز سے نفرت نہیں۔ یہ واقعہ آپ ﷺ کی فطری توحید پسندی کی واضح دلیل ہے۔
سوال: تجارت کے دوران جب ایک شخص نے آپ ﷺ سے لات اور عزیٰ کی قسم کھانے کو کہا تو آپ ﷺ نے کیا جواب دیا؟
جواب: آپ ﷺ نے صاف فرمایا کہ میں نے کبھی ان بتوں کی قسم نہیں کھائی، بلکہ جب ان کے پاس سے گزرتا ہوں تو منہ پھیر لیتا ہوں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے ہر قسم کے شرکیہ شعائر سے مکمل براءت اختیار فرمائی ہوئی تھی۔
سوال: غارِ حرا میں آنحضرت ﷺ کیوں تشریف لے جاتے تھے؟
جواب: آپ ﷺ کو بتوں سے تو نفرت تھی ہی، لیکن آپ ﷺ اپنی قوم کے شرک اور خدائے واحد سے دوری پر بھی افسوس کرتے تھے۔ چنانچہ آبادی سے دور غارِ حرا میں جا کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے اور توحید کی حقیقت پر غور و فکر فرماتے تھے۔
سوال: پہلی وحی نازل ہونے کے بعد آنحضرت ﷺ نے سب سے بنیادی پیغام کیا پیش فرمایا؟
جواب: پہلی وحی کے بعد آپ ﷺ نے لوگوں کو توحیدِ باری تعالیٰ کی طرف بلانا شروع کیا اور شرک کے خلاف تعلیم دینا شروع فرمائی۔ ابتدا میں آپ ﷺ نے نہایت حکمت اور خاموشی سے اپنے قریبی حلقۂ احباب میں یہ پیغام پہنچایا۔
سوال: حضرت مسیح موعودؑ نے آنحضرت ﷺ کی کامیابی کو کس عظیم رنگ میں بیان فرمایا؟
جواب: حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا کہ آنحضرت ﷺ نے دنیا کو ایسی حالت میں پایا جب ہر طرف تاریکی تھی، لیکن آپ ﷺ کی بعثت سے وہ تاریکی نور میں بدل گئی۔ آپ ﷺ کی زندگی میں آپ کی قوم نے شرک کا چولہ اتار کر توحید کا جامہ پہن لیا اور ایمان، صدق، وفا اور یقین کے اعلیٰ نمونے دکھائے۔
سوال: حضرت مسیح موعودؑ نے آنحضرت ﷺ کے لیے ’’کامل موحد‘‘ کے الفاظ کس مفہوم میں استعمال فرمائے؟
جواب: حضرت مسیح موعودؑ نے آنحضرت ﷺ کی کامل توحید کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ ﷺ وہ کامل موحد تھے جسے صرف خدا تعالیٰ کا جلال پسند تھا اور آپ ﷺ نے غیر کو اپنی نظر سے گرا دیا تھا۔ آپ ﷺ نے اپنی زندگی میں کامل بندگی، اخلاص اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اعلیٰ ترین نمونہ پیش کیا۔
سوال: حضرت مسیح موعودؑ کے نزدیک امتِ محمدیہ کو توحید کے بارے میں کیا امتیاز حاصل ہے؟
جواب: حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ دنیا میں توحید کا حقیقی تصور امتِ محمدیہ اور قرآن کریم کے ذریعے نمایاں طور پر قائم ہے۔ قرآن کریم کروڑوں انسانوں کو وحدانیت پر قائم کرتا اور سچے خدا کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔
سوال: آج امتِ محمدیہ کے بارے میں کیا افسوسناک صورتِ حال بیان کی گئی ہے؟
جواب: حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ امتِ محمدیہ بھی حقیقی توحید کے اس اعزاز کو بھولتی جا رہی ہے جس کی تعلیم اللہ تعالیٰ نے دی اور جس کی طرف آنحضرت ﷺ نے امت کو درد اور تڑپ کے ساتھ بلایا۔ توحید سے دوری کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی صفات پر بھی وہ خالص ایمان باقی نہیں رہتا جو ایک مسلمان کا خاصہ ہونا چاہیے۔
سوال: رمضان المبارک میں توحید کے حوالے سے ہمیں کیا کوشش کرنی چاہیے؟
جواب: رمضان عبادت کا خاص مہینہ ہے، اس لیے اس میں ہمیں خاص طور پر توحید کی حقیقت سمجھنے، اپنی عبادتوں میں اخلاص پیدا کرنے، اپنے اندر عملی تبدیلیاں لانے اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
سوال: اگر ہمیں آنحضرت ﷺ سے حقیقی محبت کا دعویٰ ہے تو ہماری کیا ذمہ داری بنتی ہے؟
جواب: اگر ہم واقعی آنحضرت ﷺ سے محبت کرتے ہیں تو ہمیں آپ ﷺ کی طرح توحید کے قیام کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔ محض زبانی محبت کافی نہیں بلکہ ہماری عبادات، اخلاق اور عملی زندگی میں بھی اس محبت کا اظہار ہونا چاہیے۔
سوال: آنحضرت ﷺ نے مکہ والوں کو توحید کی دعوت کس طرح اعلانیہ پیش فرمائی؟
جواب: اللہ تعالیٰ کے حکم اَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ کے مطابق آپ ﷺ نے پہلے اپنے قریبی رشتہ داروں اور قوم کو خبردار کیا۔ آپ ﷺ کوہِ صفا پر تشریف لے گئے، مختلف قبائل کو جمع کیا اور پھر انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنی بعثت اور اتباع کی دعوت دی۔
***