اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2026-07-02

خطبہ جمعہ حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ09جنوری2026ءبطرز سوال وجواب

سوال: اس خطبہ کا مرکزی موضوع کیا تھا؟
جواب: اس خطبہ کا مرکزی موضوع مالی قربانی کی اہمیت، وقف جدید کے انہترویں (69ویں) سال کے اجرا کا اعلان، قرآن کریم کی تعلیمات کی روشنی میں انفاق فی سبیل اللہ کی فضیلت، حضرت مسیح موعودؑ اور خلفائے احمدیت کے ارشادات، اور مختلف ممالک کے احمدیوں کے ایمان افروز واقعات تھے جنہوں نے مالی قربانی کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا مشاہدہ کیا۔
سوال: حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے خطبہ کی بنیاد کس قرآنی آیت پر رکھی؟
جواب: حضور انور نے سورۃ آل عمران کی آیت لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ تلاوت فرمائی اور بیان کیا کہ حقیقی نیکی اور تقویٰ اس وقت حاصل ہوتے ہیں جب انسان اپنی محبوب چیزوں میں سے اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتا ہے۔
سوال: حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ نے اس آیت کی کیا تفسیر بیان فرمائی؟
جواب: حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ نے فرمایا کہ حقیقی نیکی حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ انسان اپنے مال میں سے خرچ کرے کیونکہ مال انسان کو سب سے زیادہ محبوب ہوتا ہے۔ جب تک انسان اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنی پسندیدہ چیز قربان نہیں کرتا، وہ کامل نیکی حاصل نہیں کر سکتا۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مالی قربانی کے بارے میں کیا فرمایا؟
جواب: حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا کہ نیکی کا دروازہ تنگ ہے اور اس میں وہی داخل ہو سکتا ہے جو اپنی محبوب اور عزیز چیزوں کو خدا تعالیٰ کی راہ میں قربان کرے۔ بیکار اور غیر ضروری چیزیں خرچ کرنے سے حقیقی نیکی حاصل نہیں ہوتی۔
سوال: حضور انور نے مالی قربانی سے متعلق کن لوگوں کو خصوصی نصیحت فرمائی؟
جواب: حضور انور نے ان افراد کو نصیحت فرمائی جنہیں اللہ تعالیٰ نے مالی وسعت عطا کی ہے لیکن وہ اپنے چندوں اور مالی قربانیوں میں پوری طرح باقاعدہ نہیں ہوتے۔ آپ نے فرمایا کہ ایسے لوگوں کو اپنا جائزہ لینا چاہیے اور مالی قربانیوں کے معیار کو بلند کرنا چاہیے۔
سوال: اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ نہ کرنے کے بارے میں حضور انور نے کیا تنبیہ فرمائی؟
جواب: حضور انور نے سورۃ البقرہ کی آیت کی روشنی میں فرمایا کہ بعض اوقات اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ نہ کرنا انسان کو ہلاکت میں ڈال دیتا ہے۔ اس لیے مومن کو مالی قربانی سے کبھی گریز نہیں کرنا چاہیے۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے توکل علی اللہ کے بارے میں کیا ارشاد فرمایا؟
جواب: حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا کہ جو شخص خدا تعالیٰ پر کامل بھروسہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایسے رزق کے سامان پیدا کرتا ہے جن کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتا۔ اس لیے ہر احمدی کو مالی قربانی کے وقت اللہ تعالیٰ پر مکمل توکل رکھنا چاہیے۔
سوال: حضور انور نے غرباء اور متوسط طبقہ کے افراد کے بارے میں کیا مشاہدہ بیان فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا کہ اکثر غریب اور متوسط آمدنی والے افراد مالی قربانی میں بہت بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں کیونکہ انہیں یقین ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی قربانیوں کو ضائع نہیں کرے گا بلکہ کئی گنا بڑھا کر واپس عطا فرمائے گا۔
سوال: انڈونیشیا کی خاتون طاہرہ صاحبہ نے مالی قربانی کے سلسلہ میں کیا مثال قائم کی؟
جواب: طاہرہ صاحبہ کے پاس صرف اتنی رقم تھی جو انہوں نے کاروبار کے لیے بچا رکھی تھی، لیکن وقف جدید کے وعدہ کی ادائیگی کے لیے انہوں نے وہ ساری رقم اللہ تعالیٰ کی راہ میں دے دی۔ بعد ازاں اللہ تعالیٰ نے انہیں غیر متوقع بونس، حکومتی سبسڈی اور دیگر مالی فوائد سے نوازا۔
سوال: طاہرہ صاحبہ کے ایمان پر اس قربانی کا کیا اثر ہوا؟
جواب: انہوں نے بیان کیا کہ اس قربانی کے نتیجہ میں نہ صرف ان کی مالی مشکلات حل ہوئیں بلکہ ان کا ایمان بھی مضبوط ہوا اور انہیں یقین ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ اپنی راہ میں قربانی کرنے والوں کو کبھی ضائع نہیں کرتا۔
سوال: حضور انور نے مالی قربانی کو قوم اور انسانیت کی ہمدردی سے کس طرح جوڑا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنا صرف جماعتی ضرورت نہیں بلکہ انسانیت کی خدمت کا بھی تقاضا ہے، کیونکہ انہی قربانیوں کے ذریعہ ضرورت مندوں کی مدد اور اسلام کی اشاعت کا کام جاری رہتا ہے۔
سوال: وقف جدید کی تحریک کا بنیادی مقصد کیا ہے؟
جواب: وقف جدید کا مقصد جماعتی تربیت، دیہاتی علاقوں میں تبلیغ اسلام، دینی تعلیم و تربیت، مربیان کی ضروریات اور اسلام احمدیت کے پیغام کو دنیا کے دور دراز علاقوں تک پہنچانا ہے۔ اس کے لیے مالی قربانیاں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔
سوال: مالی قربانی قبول ہونے کی ایک اہم علامت کیا ہے؟
جواب: مالی قربانی کی قبولیت کی ایک بڑی علامت یہ ہے کہ انسان کے ایمان میں اضافہ ہو، اللہ تعالیٰ پر یقین مضبوط ہو اور وہ پہلے سے زیادہ شوق کے ساتھ دین کی خدمت میں حصہ لینے لگے۔
سوال: حضور انور کے مطابق مالی قربانی کا حقیقی معیار کیا ہے؟
جواب: حقیقی معیار یہ ہے کہ انسان اپنی پسندیدہ اور محبوب چیزوں میں سے اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرے اور قربانی کے وقت صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کو پیش نظر رکھے۔
سوال: اس خطبہ سے حاصل ہونے والا بنیادی سبق کیا ہے؟
جواب: بنیادی سبق یہ ہے کہ مالی قربانی ایمان کا اہم تقاضا ہے۔ جو لوگ اخلاص، تقویٰ اور توکل کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے مال، ایمان، رزق اور زندگی میں برکت عطا فرماتا ہے اور انہیں اپنے خاص فضلوں کا وارث بناتا ہے۔