سیّدنا حضرت اقدس المصلح الموعود رضی اللہ نے باذنِ الٰہی 1934ء میں تحریک جدید کا آغاز اس وقت فرمایا جبکہ اس دور کی طاغوتی قوتیں حکومتِ وقت کی تائید کے ساتھ احمدیت یعنی حقیقی اسلام کو مٹاڈالنے کے درپے ہوچکی تھیں اور انہوں نے قادیان کے اردگرد احمدیوں کا ماحول تنگ کرکے اور قادیان دارالامان میں ایک تخریبی جلسہ کرکے یہ دعوے کرنے شروع کردئے تھے کہ احمدیوں کو نیست و نابود کردیں گے اور منارۃ المسیح کو نعوذ باللہ مسمار کرکے اسکی اینٹیں دریائے بیاس میں پھینک دیں گے۔
ایسے نازک وقت میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے اللہ کے حکم سے تحریک جدید کا آغاز فرمایا اور اسلام کو تمام دنیا میں پھیلانے اور مستحکم کرنے کی عظیم الشان سکیم دنیا کے سامنے رکھی۔ آپؓ نے اس کیلئے ایک طرف جماعت کو تحریک جدید کے نظام میں مالی قربانی پیش کرنے اوردوسری طرف اپنے نونہالوں کی زندگیاں وقف کرنے کی تحریک فرمائی۔
1934ء کے وہ ایام نہایت پُرفتن ایام تھے۔ احراری ٹولہ جو کہ مسلمانوں کا نیم مذہبی اورسیاسی ٹولہ تھا جماعت کے خلاف کھڑا ہوگیا اور اس نے تمام ہندوستان میں احمدیوں کے خلاف آگ لگادی۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
’’ یہ تحریک ایسی تکلیف کے وقت میں شروع کی گئی تھی کہ یوں معلوم ہوتا تھا کہ دنیا کی تمام طاقتیں جماعت احمدیہ کو مٹانے کے لئے جمع ہوگئی ہیں۔ ایک طرف احرار نے اعلان کردیا کہ انہوں نے جماعت احمدیہ کو مٹادینے کافیصلہ کرلیا ہے اور وہ اس وقت تک سانس نہ لیں گے جب تک مٹانہ لیں۔ ‘‘
تحریک جدید کو جاری کرنے کے مقصد کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
’’تحریک جدید کو پیش کرنے کے موقع کا انتخاب ایسا عظیم انتخاب تھا جس سے بڑھ کر کوئی اعلیٰ انتخاب نہیں ہوسکتا۔ خداتعالیٰ نے اپنی زندگی میں مجھے جو خاص کامیابیاں اپنے فضل سے عطا فرمائی ہیں ان میں ایک اہم کامیابی تحریک جدید کو عین وقت پر پیش کرکے مجھے حاصل ہوئی اوریقیناً مَیں سمجھتا ہوں جس وقت مَیں نے یہ تحریک کی وہ میری زندگی کے خاص مواقع میں سے ایک موقع تھا اور میری زندگی کی ان بہتریں گھڑیوں میں سے ایک گھڑی تھی جبکہ مجھے اس عظیم الشان کام کی بُنیاد رکھنے کی توفیق ملی۔ ‘‘ (الفضل 8؍ فروری 1936ء)
الحمدللہ کہ یہ تحریک نہایت کامیابی سے شروع ہوئی اور پہلے دس سالوں میں ہی اس نے عظیم الشان ثمرات پیش کئے۔ دس سالوں میں جماعت نے لاکھوں روپیہ چندہ دیا او ر380 مربع زمین خدا کے راستہ میں وقف کی اور جاپان، چین، سماترا، جاوا، سپین، اٹلی، ہنگری، پولینڈ، البانیہ، یوگوسلاویہ اور امریکہ میں مبلغین اسلام بھجوائے گئے۔ افریقہ کے بعض ساحلوں پر بھی مبلغین پہنچے۔ ہزارہا لوگ سلسلہ عالیہ احمدیہ میں داخل ہوئے اور لاکھوں لوگ روشناس ہوئے۔ (الفضل 28؍ نومبر 1944ء)
احباب جماعت احمدیہ عالمگیر نے یہ تمام قربانیاں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے بیان فرمودہ ان چوبیس مطالبات کے نتیجہ میں کئے جو حضور انور نے جماعت کے سامنے رکھے ان میں بالخصوص سادہ زندگی کا مطالبہ جس پر حضور رضی اللہ عنہ نے خود بھی عمل کیا اور جماعت سے بھی عمل کرایا جس کے نتیجہ میں احباب کو عظیم الشان مالی قربانیوں کی توفیق ملی اور جماعت نے اپنے نونہال حضور اقدس کی خدمت میں پیش کئے جس کے نتیجہ میں صرف دس سالوں میں جماعت کی ترقی عظیم رفتار پکڑ گئی اور اب تو حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہُ اللہ کی تحریک وقف نو کے نتیجہ میں وقف زندگی کی تحریک بہت آگے بڑھ گئی اور ہزارہا نوجوانوں کی فوج خدمت دین کیلئے تیار ہوچکی ہے۔ وقف نو کی یہ تحریک بھی دراصل تحریک جدید کے بطن سے ہی پھوٹی ہے۔
الحمدللہ ثُم الحمدللہ کہ اب حال یہ ہے کہ جماعت کی وہ ترقی جو گزشتہ دہائیوں میں کئی سالوں کے بعد ہوتی تھی اب ویسی ترقی کے نظارے سال بہ سال دیکھے جارہے ہیں۔ حضرت امیرالمومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے جلسہ سالانہ برطانیہ 2025ء کےموقع پر جماعتی ترقیات وفتوحات کا جو نقشہ کھینچا ہے وہ ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔ حضور اقدس نے فرمایا:
ایک سال میں دو لاکھ انچاس ہزار چار صد آٹھ سعید روحیں حلقہ بگوش احمدیت ہوئیں۔ ان افراد کا تعلق ایک صد گیارہ ممالک سے ہے۔ 356 نئی جماعتیں قائم ہوئیں۔ 134 مساجد تعمیر ہوئیں۔ 86 مشن ہاؤسز کااضافہ ہوا۔79زبانوں میں قرآن مجیدکے تراجم کئے گئے، لاکھوں کتب اور پمفلٹس شائع ہوئیں۔ کروڑوں افراد تک پرنٹ میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعہ پیغام پہنچا۔ لاکھوں مریضوں کا علاج کیا گیا۔ دُنیا کے مختلف ممالک میں 620 پرائمری سکول اور 80 سیکنڈری سکول قائم ہیں اور گزشتہ سال تحریک جدید کے حوالہ سے جماعت کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے حضور اقدس نے فرمایا کہ تحریک جدید کے 91 ویں سال میں جماعت احمدیہ عالمگیر کو تحریک جدید میں 19.55 ملین پاؤنڈ مالی قربانی پیش کرنے کی توفیق ملی۔ فالحمداللہ علیٰ ذالک۔
بہرحال جماعتی ترقیات کی یہ ایک مختصر سی جھلک ہے جو صرف ایک سال میں اللہ تعالیٰ نے جماعت پر نازل فرمائی تھی۔ ہم ہندوستان میں رہنے والے احمدی خوش قسمت ہیں کہ ہم حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے مسکن میں رہتے ہیں اور یہاں کی روحانی برکات سے فائدہ اُٹھاتے ہیں۔ لہٰذا اِس اعتبار سے ہماری ذمہ داریاں بھی بڑھ جاتی ہیں اور یہ اللہ کا احسان ہے کہ بھاری تعداد میں احمدی اپنی ان ذمہ داریوں سے آگاہ ہیں اور بڑھ چڑھ کر قربانیاں پیش کررہے ہیں۔ یہ چند سطور تو صرف دُعا کی غرض سے اوریاددہانی کے طور پر لکھی گئی ہیں تا احباب کو یاد دلایا جائے کہ تحریک جدید کا موجودہ سال اب قریب الاختتام ہے۔ لہٰذا ہم سب اپنے اپنے وعدہ جات کی ادائیگی کی طرف متوجہ ہوں اور جس بھائی کو توفیق ہو وہ اپنے وعدہ جات پر نظر ثانی کرتے ہوئے وعدہ جات سے بڑھ کر بھی ادائیگی کی کوشش کرے۔ اللہ تعالیٰ تمام قربانیاں کرنے والوں کے اموال و نفوس میں برکت عطا فرمائے اور حسنات دارین سے نوازے۔ آمین
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اسلام کے عالمگیر غلبہ کی خوشخبری دیتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’ اے تمام لوگو! سُن رکھو کہ یہ اس کی پیشگوئی ہے جس نے زمین وآسمان بنایا ہے وہ اپنی اس جماعت کو تمام ملکوں میں پھیلادے گا اور حُجت و بُرہان کی رُو سے سب پر ان کو غلبہ بخشے گا۔ وہ دن آتے ہیں بلکہ قریب ہیں کہ دُنیا میں صرف یہی ایک مذہب ہوگا جو عزت کےساتھ یاد کیا جائے گا۔ خدا اس مذہب اور اس سلسلہ میں نہایت درجہ اور فوق العادت برکت ڈالے گا اور ہر ایک جو اس کے معدوم کرنے کا فکر رکھتا ہے نامراد رکھے گا اور یہ غلبہ ہمیشہ رہے گا یہاں تک کہ قیامت آجائے گی۔‘‘ (تذکرۃ الشہادتین صفحہ 64-65)