وکیل المال تحریک جدید قادیان
مجاہدین تحریک جدید کی توجہ کیلئے
خلاصہ خطاب بر موقع سالانہ نیشنل اجتماع مجلس خدام الاحمدیہ برطانیہ 2026
امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا مجلس خدام الاحمدیہ برطانیہ کے سالانہ نیشنل اجتماع 2026ء موقع پر پُر معارف اختتامی خطاب کا خلاصہ
آپ سارے عالَم میں محمد رسول اللہﷺ کے جھنڈے کو سب جھنڈوں سے بلندتر لہرانے والے ہوں
آپ کا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ آپ جماعت کی خدمت کے لیے خود کو تیار کریں۔ اس عمر میں آپ کو اپنے اپنے پیشوں میں بھی محنت کےساتھ آگے بڑھنے کی کوشش کرنی چاہیے
نَوجوانی کی عمر صحت مندی کی عمر ہوتی ہے اس لیے آپ کی عمر میں تھکاوٹ اور سستی کے بہانے نماز کی ادائیگی میں حائل نہیں ہونے چاہئیں۔نماز کو وقتِ مقررہ پر ادا کیا جانا چاہیے۔ نماز ہی وہ چیز ہے جس کا موت کے بعد سب سے پہلے سوال ہوگا۔ اس دَور میں جب بےحیائی عروج پر ہے تو اس کے بد اثرات سے بچنے کےلیے بھی نمازوں کی طرف راغب ہونا ضروری ہے
آپ جو خدام الاحمدیہ ہیں ،آپ یاد رکھیں کہ جب آپ یہ عہد کرتے ہیں کہ آپ ہر قربانی کے لیے تیار رہیں گے، خلافتِ احمدیہ کی حفاظت کے لیےکسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے تو اس کے یہ معنی ہیں کہ آپ خلافت کی جانب سے دیے جانے والے ہر حکم پر اس کی مکمل رُوح کے ساتھ عمل کریں گے۔ اگر آپ ایسا کریں گے تو یقیناً آپ اس کےنتیجے میں اللہ تعالیٰ کا قُرب حاصل کرنے والے ہوں گے
اميرالمومنين حضرت خليفة المسيح الخامس ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز نے مورخہ ۲۷؍ستمبر ۲۰۲۶ء بروز اتوار مجلس خدام الاحمدیہ اور مجلس اطفال الاحمدیہ برطانیہ کے سالانہ نیشنل اجتماع (منعقدہ ۲۵تا۲۷؍ستمبر۲۰۲۶ء) سے انگریزی زبان میں بصیرت افروز اختتامی خطاب ارشاد فرمایا۔ یہ خطاب ایم ٹی اے کے مواصلاتی رابطوں کے توسّط سے پوری دنیا میں براہ راست دیکھا اور سنا گیا۔ امسال اجتماع گلفورڈ میں واقع Hook Lane پر موجود پچاس ایکڑ زمین پر منعقد ہوا۔ مقام اجتماع اسلام آباد ٹلفورڈ سے گاڑی پر پندرہ منٹ کی مسافت پر ہے۔ امسال اجتماع کا مرکزی موضوع تھا ’’ہمارا بہشت ہمارا خدا ہے‘‘۔
تشہد،تعوذ اور سورة الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضورِانور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا:
جیسا کہ آپ کے علم میں ہے کہ خدام الاحمدیہ جماعت کے اُن مردوں کی تنظیم ہے جن کی عمریں پندرہ سال سے لےکر چالیس سال کے درمیان ہیں۔ جبکہ اطفال الاحمدیہ سات سے پندرہ سال کے بچوں کی تنظیم ہے۔ خادم کی عمر علمی اور شعوری اعتبار سے عملی زندگی کے آغاز کی عمر ہے۔ پس آپ کا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ آپ جماعت کی خدمت کے لیے خود کو تیار کریں۔
اس عمر میں آپ کو اپنے اپنے پیشوں میں بھی محنت کےساتھ آگے بڑھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
حضور انور نے فرمایا کہ گوکہ مذہبی اور دینی جماعتوں کی ترقی کا دارومدار افراد کی علمی و پیشہ ورانہ ترقی پر منحصر نہیں بلکہ خدا کی مدد پر موقوف ہے۔ خدا تعالیٰ کا فضل جذب کرنے کے لیے انسان کو حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کی فکر کرنی چاہیے۔ دینی جماعتیں اُس وقت تک ترقی نہیں کرسکتیں جب تک اُس کے پیروکار ان باتوں پر مکمل عمل کرنے والے نہ ہوں۔ یہ ہماری کیسی خوش قسمتی ہے کہ ہم حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے مبارک دَور میں پیدا ہوئے ہیں۔ آپؑ کی بعثت کی پیش گوئیاں قرآن اور حدیث میں فرمائی گئی تھیں۔ کتنے ہی لوگ اس مبارک دَور کو دیکھنے کی خواہش لیے، دعائیں کرتے ہوئے ، اس جہان سے گزر گئے۔ پس آپ اپنی اس خوش قسمتی کو یاد رکھیں کہ آپ نہ صرف اس دَور میں پیدا ہوئے بلکہ آپ کو حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کی جماعت سے وابستہ ہونے کی بھی توفیق ملی۔ اب اس کا شکرانہ یہ ہے کہ آپ تقویٰ اختیار کریں، خدا تعالیٰ کے احکامات پر عمل پیرا ہوں۔ حضورؑ کی پیش فرمودہ دس شرائطِ بیعت کو پیشِ نظر رکھیں۔
آج مَیں دو شرائطِ بیعت کا ذکر کروں گا۔سب سے پہلی شرطِ بیعت نماز اور آنحضورﷺ کی اطاعت سے متعلق ہے۔ یاد رکھیں کہ نماز عبادت کی سب سے اہم قسم ہے۔ وہ دین دین نہیں جس میں خدا تعالیٰ کی عبادت نہیں۔ صلوٰة سے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے کہ نماز بری اور ناپسندیدہ باتوں سےروکتی ہے۔ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں کہ نماز پڑھتے ہوئے خشوع و خضوع اختیار کرو۔ روزہ اور زکوٰة وغیرہ عبادتیں بھی ضروری ہیں مگر نماز سب سے زیادہ اہم ہے۔ اپنی دعاؤں میں اس بات کو یاد رکھیں کہ ہمارا خدا سب طاقتوں کا سرچشمہ ہے، پھر دعاؤں میں تضرّع اور خشوع خود پیدا ہوجائے گا۔
حضور انور نے فرمایا کہ بعض دفعہ لوگ پوچھتے ہیں کہ ہماری دعائیں کیوں قبول نہیں ہوتیں؟ اس حوالے سے بےچینی اور بےقراری کی بجائے یہ غور کرنا چاہیے کہ کیا مَیں اللہ تعالیٰ کے سب احکامات پر عمل کر رہا ہوں یا نہیں۔ اللہ تعالیٰ یقیناً دعاؤں کو سنتا ہے مگر اُن لوگوں کی دعاؤں کو جو یقین رکھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ ہی سب طاقتوں کا منبع ہے، وہی ہر چیز پر قادر ہے۔ پھر وہ اس کے احکامات پر مکمل عمل کرتے ہیں تو یقیناً اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کی دعاؤں کو سنتا ہے۔
نماز میں یہ طاقت ہے کہ وہ برائیوں سے بچاتی ہے۔ بعض لوگ یہ بہانے بناتےہیں کہ ہم اس قدر مصروف ہوتے ہیں کہ نماز میں سستی ہوجاتی ہے۔ ایسے ہی بہانے لےکر جب بعض نَومسلم حضرت رسول کریمﷺ کے پاس آئے تھے تو آپؐ نے انہیں واضح فرمادیا تھا کہ یاد رکھو! اگر نماز نہیں تو کچھ بھی نہیں۔ یعنی وہ دین دین ہی نہیں جس میں نماز نہیں۔ عبادت کے بغیر ایمان نہیں ہوا کرتا۔
حقیقی مومن نماز سے کبھی غافل نہیں ہوسکتا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ تم مجھے یاد رکھو، مَیں تمہیں یاد رکھوں گا۔ میری شکرگزاری کرو اور ناشکری مت کرو۔ حضورؑ فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ اُن لوگوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا جو اُس کی یاد میں مصروف رہتے ہیں۔
نَوجوانی کی عمر صحت مندی کی عمر ہوتی ہے اس لیے آپ کی عمر میں تھکاوٹ اور سستی کے بہانے نماز کی ادائیگی میں حائل نہیں ہونے چاہئیں۔ نماز کو وقتِ مقررہ پر ادا کیا جانا چاہیے۔ نماز ہی وہ چیز ہے جس کا موت کے بعد سب سے پہلے سوال ہوگا۔ اس دَور میں جب بےحیائی عروج پر ہے تو اس کے بد اثرات سے بچنے کےلیے بھی نمازوں کی طرف راغب ہونا ضروری ہے۔
حضور انور نے فرمایا کہ نماز دس سال کی عمر سے فرض ہے،اس لیے یہ نہ سوچیں کہ ابھی تو مَیں بچہ ہوں، ابھی تو مَیں کم عمر ہوں، ساری زندگی پڑی ہے نمازیں پڑھنے اور عبادات کرنے کےلیے۔ نہیں! ایسا نہیں ہے، بلکہ اسی عمر سے آپ نے نمازوں کی طرف پوری سنجیدگی کے ساتھ توجہ کرنی ہے۔
پھر آپ کے عہد ہیں اُن کی پاسداری بھی ضروری ہے۔ مَیں اس وقت دسویں شرطِ بیعت کی طرف بھی آپ لوگوں کو توجہ دلاتا ہوں۔ دسویں شرط میں یہ مضمون ہے کہ ہر بیعت کنندہ مردوزن حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے ساتھ اخوّت کا تعلق پیدا کرے اور ہر معروف بات میں آپؑ کی فرمانبرداری اختیار کرے۔
یہ کوئی معمولی وعدہ یا عہد نہیں بلکہ یہ اُس امام الزمان کے ساتھ عہدِ اخوّت و موَدَّت ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدوں کے موافق مبعوث فرمایا ہے۔ پس اس عہد کا مقصد یہ ہے کہ ہم نے حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے مشن کی تکمیل کے لیے ہرلمحہ و ہر آن کوشاں رہنا ہے۔
حضور انور نے فرمایا کہ جو شخص اس عہدِ اخوّت و موَدَّت پر کما حقہٗ کاربند ہوگا وہ لازماً جماعت سے وابستگی اور محبت میں بھی ترقی کرے گا۔ اُس کی خلافت سے وابستگی اور محبت بھی روز بروز بڑھتی چلی جائے گی۔ وہ اس بات کو سمجھنے والا ہوگا کہ عہدیداران کی کمزوریاں اور خامیاں اُن کی شخصی کمزوریاں اور خامیاں ہیں۔ یہ کمزوریاں ہماری حضرت مسیح موعودعلیہ السلام اور آپؑ کےمشن کے ساتھ وابستگی کو کمزور کرنے والی نہیں بن سکتیں۔ خدا تعالیٰ نے ہر معروف فیصلے پر عمل کی تلقین فرمائی ہے۔
لوگ پوچھتے ہیں کہ معروف سے کیا مراد ہے؟ یہ بڑی سادہ سی بات ہے یعنی یہ کہ معروف بات ہر اُس ہدایت یا فیصلے کو کہتے ہیں جو خدا تعالیٰ، قرآن کریمِ اور رسول اللہﷺکے احکامات کی روشنی میں ہو۔ جب یہ بات سمجھ لی جائے تو ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام اور آپؑ کے خلفاء کے تمام احکامات اسی تعریف کے ذیل میں آتے ہیں۔
حضور انور نے فرمایا کہ اطاعت کے حوالے سے حکم یہ ہے کہ جب تک امیر ایسا حکم نہ دے جو خدا تعالیٰ اور اس کے رسولؐ کےا حکامات کے صریح خلاف ہو تب تک اس کی اطاعت لازماً کرنی ہے۔ ہماری جماعت تو خلافت کے زیرِقیادت ہےاس لیے یہ تو ممکن ہی نہیں کہ خلیفۂ وقت کوئی ایسا حکم دے جو خدا اور اُس کے رسول کے احکامات سے ٹکرانے والا ہو۔ سورت نُور جس میں خلافت کاذکر ہے اُسی سورۃ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بڑی بڑی قسمیں کھانے اور کھوکھلے دعوے کرنے کی کوئی ضرورت نہیں، (باقی صفحہ نمبر 17پر )
( بقیہ صفحہ نمبر 6):
بلکہ معروف اطاعت کی ضرورت ہے اور اللہ جانتا ہے جو تم کرتے ہو۔ پس اصل اطاعت وہ ہے جو عملی طور پر نظر آئے، جو آپ کے افعال سے ظاہر ہو۔
حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے مشن کی تکمیل کے لیے اللہ تعالیٰ نے نظامِ خلافت کو جاری فرمایا ہے۔ خلافت کے قیام کا وعدہ رسول کریمﷺ کا وعدہ ہےیعنی یہ کہ مسیح موعودعلیہ السلام کے بعد اُس کی خلافت قائم ہوگی۔ پھر اس خلافت نے قیامت تک جاری رہنا ہے ان شاء اللہ۔ گر یہ وعدہ خلافت کے متبعین کے ایمان اور نیک اعمال کے ساتھ مشروط ہے۔ اس بات کے ساتھ مشروط ہے کہ خلافت کے ماننے والے تقویٰ میں ترقی کرتے جائیں اور معروف کی اطاعت کریں۔
پس آپ جو خدام الاحمدیہ ہیں، آپ یاد رکھیں کہ جب آپ یہ عہد کرتے ہیں کہ آپ ہر قربانی کے لیے تیار رہیں گے، خلافتِ احمدیہ کی حفاظت کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے تو اس کے یہ معنی ہیں کہ آپ خلافت کی جانب سے دیے جانے والے ہر حکم پر اس کی مکمل رُوح کے ساتھ عمل کریں گے۔ اگر آپ ایسا کریں گے تو یقیناً آپ اس کےنتیجے میں اللہ تعالیٰ کا قُرب حاصل کرنے والے ہوں گے۔
اس کے لیے تقویٰ شرط ہے۔ اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنا اولین شرط ہے۔ جب آپ ایسا کرنےو الے ہوں گے تب ہی آپ شرائطِ بیعت پر عمل کرنے والے بھی ہوں گے۔ ہر قربانی کے لیے تیار رہنے کا یہی مفہوم ہے۔
اللہ کرےکہ آپ اپنے اندر روحانی تبدیلی پیدا کرنے والے ہوں اور پھر اِس روحانی تبدیلی کو دنیا تک پہنچاسکیں۔ آپ کی زندگیاں حقیقی رنگ میں مومنانہ شان رکھنے والی ہوں۔ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کی غلامی میں آپ کی زندگیاں بسر ہوں۔
آپ وہ لوگ ہوں جو سارے عالَم میں محمد رسول اللہﷺ کے جھنڈے کو سب جھنڈوں سے بلندتر لہرانے والے ہوں۔اللہ تعالیٰ آپ کو اس امتحان میں سرخرو فرمائے۔ آمین