اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2026-10-08

خلاصہ خطاب اجتماع لجنہ اماء اللہ یو کے2026

خلاصہ خطاب اجتماع لجنہ اماء اللہ یو کے2026

 

امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے لجنہ اماءاللہ برطانیہ کے سالانہ نیشنل اجتماع ۲۰۲۶ء کے موقع پر بصیرت افروز خطاب کا خلاصہ

ہماری بیعت یہ تقاضا کرتی ہے کہ ہم اپنے اندر ایسی روحانی و اخلاقی تبدیلی پیدا کریں کہ ہم میں ایک انقلاب پیدا ہو جائے

 

ایک احمدی عورت کو یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیے اور کسی غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہیے کہ شرائط بیعت پر عمل کرناصرف مردوں کی ذمہ داری ہے بلکہ عورتوں پر بھی اسی طرح یہ شرائط اطلاق پاتی ہیں

 

آپ کو بھی اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہونا چاہیے۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ آپ ہمیشہ اپنی عزت کی حفاظت کریں۔ آپ میں شرم و حیا ہو اور آپ ان لوگوں میں شامل ہوں جواللہ تعالیٰ کے حقیقی فرمانبردار ہیں۔ اسلام کی تعلیمات کے مطابق عمل کرنے کی کوشش کریں اور جیسے جیسے عمر بڑھتی ہے ایسے وقت بھی آئیں گے جب آپ اپنے والدین کے ساتھ یا بڑوں کے ساتھ نہ ہوں یا احمدیوں کی صحبت میں نہ ہوں۔ ایسے مواقع پر یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہے جو غیب کا علم رکھتا ہے۔ اس لیے اسلام کے شرم و حیا کے معیارآپ کے لباس سے نظر آئیں۔ اس میں وقار ہو۔ اندازِ بیان اور لوگوں سے بات کرنے میں ایک وقار ہو ۔آپ نے اس معاشرے کے مقابلے میں اپنے پردے کو ڈھال بنانا ہے

 

قرآن کریم کی روزانہ تلاوت کریں تاکہ آپ کو معلوم ہو کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ہم سے کیا تقاضا کرتا ہے

 

 
 

تشہد، تعوذ اور سورۃ الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ

مَیں دعا کرتا ہوں اور مجھے امید ہے کہ آج آپ کے اجتماع کی یہ حاضری حقیقی فائدے کا موجب ہو گی اور آپ کو خدا تعالیٰ کا قرب دلانے اور ایمان میں پختہ کرنے کا ذریعہ ثابت ہو گی۔

حضور انور نے فرمایا کہ

مَیں آج آپ کی ان ذمہ داریوں اور خصوصیات کا ذکر کروں گا جو ایک حقیقی مومنہ میں ہونی چاہئیں۔

اسلام کا ایک بنیادی اصول ہے کہ ہر شخص اپنے اعمال کا خود جواب دہ ہے۔ اگر ایک شخص تقویٰ کے ساتھ زندگی بسر کرتا ہے تو اسے اس کی جزا ملے گی اور اگر کوئی شخص اپنی حدود سے تجاوز کر کے گناہ کی طرف مائل ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اور سزا کا مورد ہوگا۔

ہم سب نے حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کی بیعت کی ہوئی ہے اور ہم نے قرآن کریم کے تمام احکامات کی پیروی کا عہد کیا ہوا ہے۔ عہد کے ضمن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَاَوۡفُوۡا بِالۡعَہۡدِ ۚ اِنَّ الۡعَہۡدَ کَانَ مَسۡـُٔوۡلًا۔ یعنی اپنے عہد کو پورا کرو کیونکہ تم سے تمہارے عہد کے متعلق پوچھا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے بڑے واضح طور پر بیان فرما دیاہے کہ ہر شخص اپنے عَہدوں کا جوابدہ ہوگا کہ کیا ہم بیعت کے تقاضوں کو پورا کرنے والے ہیں۔ پس ہمیں فکر ہونی چاہیے کہ کیا ہم اپنے عہد بیعت کے تقاضوں کو پورا کرنے والے ہیں؟ مَیں نے اس موضوع پر جلسہ سالانہ برطانیہ اور جرمنی کے موقع پر بڑی تفصیل سے بات کی تھی اور بیعت کے تقاضوں کے متعلق بڑی وضاحت سے بیان کیا تھا۔

ایک احمدی عورت کو یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیے اور کسی غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہیے کہ شرائط بیعت پر عمل کرنا صرف مردوں کی ذمہ داری ہے بلکہ عورتوں پر بھی اسی طرح یہ شرائط اطلاق پاتی ہیں۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کا مقصد اللہ تعالیٰ کی طرف لے جانا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت میں داخل ہونے کے بعد ہمارا فرض ہے کہ اپنے اندر ہر نیکی اور اچھائی پیدا کریں جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کا مقصد ہو۔

حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہی آج کا بڑا لمحۂ فکریہ ہے کہ دنیا خدا سے دور جا رہی ہے۔ ہم نے اللہ تعالیٰ کے حضور ہی حاضر ہونا ہے اور یہ یقین ہمارے دین کا اہم اصول ہے کہ جب ہم اللہ تعالی کے روبرو حاضر ہوں گے تو ہم سے ہماری ذمہ داریوں کے حوالے سے محاسبہ ہو گا۔ یہ نہ سمجھیں کہ اللہ تعالیٰ اس پر راضی ہو جائے گا کہ ہم زبانی حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایمان لے آئے ہیں۔ اگر ہم قرآن کریم اور رسول اللہﷺ کے احکامات پر عمل نہیں کریں گے تو ہم اپنے مقصد کو حاصل نہیں کر سکتے ۔

ہر احمدی کو یاد رکھنا چاہیے کہ کس طرح ہمارے بڑوں نے حضرت مسیح علیہ السلام کی بیعت کی اور اپنے قول و فعل کو ایک جیسا کر لیا۔ ان کا ہر عمل قابل تحسین ہے کیونکہ ان کا ہر عمل تقویٰ پر مبنی تھا۔ وہ دین جو عمل سےعاری ہے وہ دین نہیں اور وہ انسان کی نجات کا ذریعہ نہیں بن سکتا۔ اس لیے

ہماری بیعت یہ تقاضا کرتی ہے کہ ہم اپنے اندر ایسی روحانی و اخلاقی تبدیلی پیدا کریں کہ ہم میں ایک انقلاب پیدا ہو جائے۔

آج کے اس دَور میں ایسی چکا چوند ہے کہ جو انسان کو اللہ تعالیٰ سے دور لے جاتی ہے اور انسان کو برائی کا مرتکب کرواتی ہے۔ اس لیے صراط مستقیم پر قائم رہنے اور اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنا اس دَور کا ایک بڑا چیلنج ہے۔ اپنی ذاتی اصلاح کے ساتھ ساتھ اپنے بچوں کی اصلاح اور تربیت کی ذمہ داری ہم پر ہے کہ ہم خدا تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے والے ہوں۔

ہر شخص اپنے عمل کا خود جواب دِہ ہے۔ اس ضمن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:وَلَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰی۔ یعنی کوئی جان کسی جان کا بوجھ نہیں اٹھائے گی ۔ حضور انورنے فرمایا کہ عیسائیوں کا یہ عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام سولی پر چڑھ کر دوسروں کا کفارہ بن گئے۔ اسلام اس عقیدے کی کھل کر تردید کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ہر شخص اپنے اعمال کا ذمہ دار ہے اور جو نیکی و تقویٰ پر قائم ہے اسے انعامات ملیں گے اور جو ظلم و زیادتی کرتا ہے اس کو اس کی سزا ملے گی۔

حضور انور نے فرمایا کہ آخرت میں سب کو اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونا ہے۔ کوئی خاوند، بیوی، بچے، بہن بھائی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائیں گے۔ آپ کی اچھائیاں اور نیکیاں ہی آپ کے ساتھ ہوں گی اور یہی نجات کا ذریعہ ہوں گے۔ اس لیے اس دنیا کی آلودہ کرنے والی چیزوں سے اپنے آپ کو بچا کے رکھیں اور یاد رکھیں کہ جو اللہ تعالیٰ نے تعلیم دی ہے اس پر ہی عمل کرنا احمدی کا فرض ہے۔

ایک احمدی کا فرض ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حق ادا کرے۔ روزانہ پنج وقتہ نمازیں خلوص، تواضع اور توجہ سے ادا کرے۔

حضور انور نے فرمایا کہ نماز ہمارے تزکیہ کا بہترین ذریعہ ہے اور ہر اس چیز سے بچانے کا ذریعہ ہے جسے اللہ تعالیٰ پسند یا ناپسند فرماتا ہے یا روکتا ہے۔ یہ نماز اس دنیا میں بھی ہماری پناہ ہے اور اُخروی زندگی میں بھی ہماری نجات کا ذریعہ ہے۔

کیا ایک مومن کا پیمانہ یہ ہے کہ کوئی اسے دیکھ نہیں رہا۔

اصل چیلنج تو یہ ہے کہ اپنے ایمان پر اس وقت بھی قائم رہیں جب آپ کو کوئی دیکھ نہ رہا ہو۔

اللہ تعالیٰ ہی ہمیں دیکھتا ہے۔ خواہ اکیلے ہیں یا یہ کس کے سامنے ہیں ہمیشہ یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں دیکھ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے خوف اور تقویٰ کو اپنے دلوں میں قائم رکھیں۔ اور یاد رکھیں کہ

اللہ تعالیٰ کا خوف اس کی محبت کی وجہ سے ہو اور ان احسانات و فضل کی وجہ سے ہو جو اللہ تعالیٰ نے ہم پر کیے ہیں۔

حضور انور نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا ایک احسان ہماری اولاد بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ ایک ماں سے چاہتا ہے کہ وہ اپنے بچوں کی اچھی تربیت کرے۔ ان سے محبت کرے، ان کی دیکھ بھال کرے، ان کی جسمانی اور نفسیاتی ضروریات کو سمجھتے ہوئے ان کی دیکھ بھال کرے۔

ایک ماں کو چاہیے کہ بچوں میں بہترین اعلیٰ اخلاقی اقدار قائم کرے اور بچوں کو یہ محسوس ہو کہ میرا گھر میرے لیے پناہ گاہ ہے اور میں یہاں ہر وقت محفوظ رہ سکتا ہوں اور اس میں احساس کمتری نہ پیدا ہو۔

حضور انور نے فرمایا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ ایک عورت اپنے گھر کی نگران ہے۔ اس کی حفاظت کرنے والی ہے۔ لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بعض عورتیں اپنے بچوں کے حقوق ادا نہیں کرتیں اور بچے محسوس کرتے ہیں کہ ان کا خیال نہیں رکھا جا رہا اس لیے وہ گھر سے باہر دوستیاں کرتے ہیں اور آن لائن جا کر آہستہ آہستہ بری صحبت ملتی ہے جو ان کے اعمال اور اخلاق پر اثر ڈالتے ہیں۔ اس لیے

ایک عورت کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک بڑا فرض اس پر رکھا ہے اور وہ بچوں کی روحانی واخلاقی تربیت ہے۔

حضور انور نے فرمایا کہ بڑی عمر کی بچیاں جو یہاں موجود ہیں اور جلد شادی کی عمر کو پہنچیں گی ان سے مَیں کہتا ہوں کہ آپ کو بھی اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہونا چاہیے۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ آپ ہمیشہ اپنی عزت کی حفاظت کریں۔ آپ میں شرم و حیا ہو اور آپ ان لوگوں میں شامل ہوں جو اللہ تعالیٰ کے حقیقی فرمانبردار ہیں۔ اسلام کی تعلیمات کے مطابق عمل کرنے کی کوشش کریں اور جیسے جیسے عمر بڑھتی ہے ایسے وقت بھی آئیں گے جب آپ اپنے والدین کے ساتھ یا بڑوں کے ساتھ نہ ہوں یا احمدیوں کی صحبت میں نہ ہوں۔ ایسے مواقع پر یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہے جو غیب کا علم رکھتا ہے۔ اس لیے اسلام کے شرم و حیا کے معیار آپ کے لباس سے نظر آئیں۔ اس میں وقار ہو۔ اندازِ بیان اور لوگوں سے بات کرنے میں ایک وقار ہو ۔آپ نے اس معاشرے کے مقابلے میں اپنے پردے کو ڈھال بنانا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں ہمارے عہدوں کو یاد دلاتا ہے اور اس بات کو ہر احمدی اور مومنہ کو ذہن میں رکھنا چاہیے کہ ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کی ہوئی ہے اور ہم نے تقویٰ کو اختیار کرنے کا عہد کیا ہوا ہے۔ اس لیے جب ہم عہد کرتے ہیں تو اس کو پورا کرنے کی بھی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے ۔

(باقی صفحہ نمبر 12 پر ملاحظہ فرمائیں )

 

اس زمانے میں لوگ پیسہ کمانے اور دنیاوی مقام حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں

لیکن بھول جاتے ہیں کہ یہ دنیاوی چیزیں ہیں یہ اُخروی زندگی میں کام نہیں آئیں گی بلکہ تقویٰ اور اچھائیاں ہی اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہوں گی۔ اس لیے انسان اچھا بننے کی کوشش کرے لیکن کمزوری پھر بھی رہ جاتی ہے۔

ہمیں چاہیے کہ نیکی کے ساتھ ساتھ استغفار بھی کرتے رہیں۔اپنی غلطیوں پر مغفرت طلب کریں۔ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے لیے استغفار ہے۔ یہ انسان کو اچھائی اور عاجزی کی طرف لے کر جاتا ہے۔ استغفار اللہ تعالیٰ کی طرف اور اس کی مخلوق کی حقوق ادا کرنے کی طرف تلقین کرنے والا ہے۔ اس لیے انسان اپنی روحانی حالتوں کو بہتر کرے اور کوشش کے ساتھ استغفار کرتا رہے اور ماضی کی لغزشوں پر شرمندہ ہو۔ معمولی بات پر بھی اللہ تعالیٰ کا خوف رکھے اور اللہ تعالیٰ کی قرآن کریم میں مذکور مناہی سے بچنے کی کوشش کرتا رہے۔

حضور انور نے فرمایا کہ

قرآن کریم کی روزانہ تلاوت کریں۔ تاکہ آپ کو معلوم ہو کہ اللہ تعالیٰ قران کریم میں ہم سے کیا تقاضا کرتا ہے۔

قرآن کریم میں صدقہ دینے کا بھی حکم ہے۔ جو لوگ مشکل میں ہیں ان کے ساتھ رحم دلی اور محبت کا سلوک کرنا ہمارا فرض ہے۔ یہ نہ ہو کہ کسی کو ہم سے نقصان ہو۔ اپنے قریبی تعلقات اور اپنے رحمی تعلقات سے محبت اور احسان کا سلوک کریں۔

حضورانور نے فرمایا کہ مجھے افسوس ہوتا ہے کہ سسرالی مسائل کے حوالے سے ایسے کئی معاملات آتے ہیں۔ آپس میں لڑائیاں جھگڑے ہوتے ہیں اور غلطی دونوں طرف کی ہوتی ہے۔ ان خاندانی جھگڑوں میں بنیادی وجہ میاں بیوی دونوں میں قوّت برداشت کا نہ ہونا ہے۔ چھوٹی چھوٹی باتوں کو نظرانداز کرنے کی بجائے جھگڑا کرتے ہیں جس کے پھر نقصانات ہوتے ہیں اور گھر ٹوٹ جاتے ہیں۔ بہت سارے ایسے معاملات سامنے آتے ہیں اور اس قسم کے کیس دن بدن بڑھتے جا رہے ہیں جہاں میاں بیوی یہ خود فیصلہ کرتے ہیں اور کئی سال کے ساتھ کے بعد بھی طلاق کی طرف رجوع کرتے ہیں۔

مرد اپنے حقوق ادا نہیں کرتے اور عورتیں بھی اپنے حقوق ادا نہیں کرتیں اور نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بچے جو معصوم ہوتے ہیں اور ان پر اثر پڑتا ہے۔ اس لیے عورت کا فرض ہے کہ اپنے گھر کی اِکائی کی حفاظت کرے۔

حضورانور نے فرمایا کہ عورتیں نہ صرف اپنے آپ پر ظلم کر رہی ہوتی ہیں بلکہ اپنے گھر پر بھی ظلم کر رہی ہوتی ہیں۔ کئی ایسے واقعات سامنے آتے ہیں جہاں حالات اتنے خراب ہوچکے ہوتے ہیں کہ شدید ناانصافی ہوئی ہوتی ہے اور نتیجۃً خلع یا طلاق کے علاوہ کوئی اَور صورت باقی نہیں رہتی۔

صرف عدم برداشت کی وجہ سے رشتے ختم ہو رہے ہیں۔ نیکی کی کمی اور تقویٰ کی کمی ہے۔ خدا تعالیٰ سے مدد طلب کرنے کی بجائے خود ہی فیصلہ کر کے رشتے توڑ دیتے ہیں۔

حضورانور نے فرمایا کہ مجھ سے اکثر یہ سوال کیا جاتا ہے کہ ہم کیسے معلوم کریں کہ اللہ تعالیٰ نے ہماری توبہ قبول کی ہے؟ مَیں جواباً کہتا ہوں کہ اگر ماضی کی تمام غلطیوں سے رک کر آئندہ اللہ تعالیٰ کا خوف اور خشیّت دل میں بیٹھ گیا ہے اور توبہ میں اخلاص ہے تو سمجھ لیں کہ توبہ قبول ہو گئی ہے۔ اس لیے ہر روز اپنا محاسبہ کریں اور اس بات کا احاطہ کریں کہ آپ اس دن کون کون سی نیکیاں اور اعمالِ صالحہ بجا لائے ہیں، کن کن برائیوں سے اپنے آپ کو محفوظ رکھا ہے اور بداخلاقیوں اور گناہ کے راستوں سے اپنے آپ کو روکا ہے۔

حضور انور نے فرمایا کہ ایک مومن دعویٰ تو کر سکتا ہے کہ اس کا ایمان مضبوط ہے لیکن اصل ایمان کا امتحان عمل سے ہوتا ہے۔ صراط مستقیم کے لیے ضروری ہے کہ انسان سچائی پر قائم رہے اور اللہ تعالیٰ نے جھوٹ کو شرک کے ساتھ جوڑا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُوۡنُوۡا قَوّٰمِیۡنَ بِالۡقِسۡطِ شُہَدَآءَ لِلّٰہِ وَلَوۡ عَلٰۤی اَنۡفُسِکُمۡ اَوِ الۡوَالِدَیۡنِ وَالۡاَقۡرَبِیۡنَ۔ یعنی اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو!سچائی پر قائم ہو جاؤ بے شک اپنے یا والدین یا رشتہ داروں کے خلاف بھی گواہی دینی پڑے۔

حضور انور نے فرمایا کہ سچائی اختیار کرنا ضروری ہے اور یہ اسلام کی خوبصورت تعلیم ہے اور اس بات کا تو مَیں پیس سمپوزیم میں ذکر کرتا ہوں اور جماعت احمدیہ اس بات کو بیان کرتی ہے کہ جماعت من حیث الجماعت انصاف پر قائم ہے۔ لیکن انفرادی طور پر ایسے واقعات موجود ہیں کہ لوگ انصاف پر قائم نہیں ہوتے اور ان کے اعمال ان کے اقوال سے مطابقت نہیں رکھتے۔ دراصل وہ اپنی ذات کو ہی دھوکہ دے رہے ہوتے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کے خلاف تو کوئی کر نہیں کر سکتا۔ اپنے ذاتی مفادات کو ایک طرف کرتے ہوئے تمہاری تمام توجہ انصاف کی طرف مرکوز ہونی چاہیے۔ اس زمانے میں جو شدید خونی جنگیں ہو رہی ہیں اور انسانی مفادات کو ایک طرف رکھا جا رہا ہے اس کا سبب یہی ہے کہ سچائی مفقود ہو گئی ہے۔ سچائی کو چھپانے کے لیے، اپنے ذاتی مفادات کو حاصل کرنے کے لیے قوّت اور طاقت کا استعمال کیا جا رہا ہے لیکن قرآن کریم کا تقاضا یہ ہے کہ ہر طرف صدق اور راست گوئی رائج ہو تاکہ تعلقات میں بہتری لائی جاسکے۔

حضور انور نے فرمایا کہ عائلی مسائل میں بہتری لانی چاہیے۔ آپس کے تنازعات اور جھگڑوں کو چھوڑ کر جنت کو تلاش کریں۔ اپنے گھروں میں تنازعات کو سچائی اور عاجزی کے ساتھ حل کریں ۔

قضاء بورڈ میں ایسے کئی کیس آ رہے ہیں کہ دونوں فریقین نے اپنے معاملے میں سچائی سے کام نہیں لیا جبکہ ہمارا دین سچائی اور انصاف کی تعلیم دیتا ہے اور یہی اللہ تعالیٰ کے انعامات کا وارث بناتا ہے۔ آج کل طلاقوں کے کیس بڑھ رہے ہیں جو میرے لیے پریشانی کا موجب ہیں اور کئی معاملات میں وجہ برداشت اور صبر کا نہ ہونا ہے۔ اگر ایک فریق سخت بات کرے تو دوسرا فریق اس سے بڑھ کر جواب دیتا ہے جس سے غصہ اور جوش پیدا ہو کر آپس میں معاملات کو بہتر کرنے کا راستہ ہی نہیں نکلتا۔

حضورانور نے فرمایا کہ چاہیے کہ اپنے خاندان کی اِکائی کو مضبوط رکھیں تاکہ آپ کے بچوں کا مستقبل محفوظ ہو۔ یاد رکھیں کہ کوئی شخص بھی کامل نہیں ہے۔ اس لیے ایک دوسرے کی کمزوریوں کو نظر انداز کریں اور اچھائیوں پر نظر رکھیں۔ اگر ایسا کریں گے تو ایسا امن قائم ہوگا جو تعلقات کی بہتری کی طرف لے جائے گا۔ ایسے معاملات بھی آتے ہیں کہ شادی کے فوراً بعد مرد جھوٹ بولتا ہے۔ اس نے شادی اس لیے کی کہ اس پر خاندان کا دباؤ تھا۔ اس میں اس معصوم لڑکی کی کوئی غلطی نہیں ہوتی۔ اس کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔ میں خود بھی اور نظام جماعت بھی ایسی بچیوں کے لیے ہمدردی کے جذبات رکھتے ہیں۔ اس لیے کوئی بھی رشتہ طے کرنے سے پہلے والدین اور بچوں کو بہت اخلاص کے ساتھ دعا کرنی چاہیے۔ انسان غیب کا علم نہیں رکھتا۔ اس لیے ضروری ہے کہ خلوص سے دعا کریں۔

مَیں چھوٹی بچیوں اور لجنہ سے کہتا ہوں کہ ہمیشہ سچائی پر قائم رہیں۔ غلط بیانی کی وجہ سے کئی عائلی معاملات سامنے آتے ہیں جیسے حق مہر کے سلسلے میں شکایات آتی ہیں۔ دیکھا گیا ہے کہ حق مہر کی بڑی رقم مقرر کر دی جاتی ہے جہاں فریقین کی نیت صاف نہیں ہوتی۔ مقصد یہ ہوتا ہے کہ خاوند کو اس کے ذریعے قابو میں رکھا جائے۔ یہاں دونوں فریقین کی غلطی ہے۔ اسلام دونوں فریقین کے حقوق کی حفاظت کرتا ہے۔ اس لیے ان معاملات کو پہلے ہی طے کر لینا چاہیے اور ایمانداری کے ساتھ معاملہ کرنا چاہیے اور سچائی اور راستی بنیاد ہونی چاہیے۔

حضور انور نے فرمایا کہ ایک اَور اہم بات یہ ہے کہ قرآن کریم تعلیم دیتا ہے:وَاِذَا مَرُّوۡا بِاللَّغۡوِ مَرُّوۡا کِرَامًا۔ یعنی جب وہ کسی لغو بات کے پاس سے گزرتے ہیں تو وقار کے ساتھ گزرتے ہیں۔ اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ ایک احمدی اور مومن کی یہی شان ہے کہ جب وہ کسی برائی کو دیکھتا ہے تو بڑے وقار سے اس کے پاس سے گزر جاتا ہے، اس میں شامل نہیں ہوتا۔ حضور انور نے فرمایا کہ میں پہلے تنبیہ کر چکا ہوں کہ سوشل میڈیا، انٹرنیٹ، ٹی وی اور میڈیا کی دیگر اقسام پر بھی بےحیائی کے پروگرام آتے ہیں۔ آپ کو چاہیے کہ ان گناہوں پر مبنی باتوں سے رکیں اور اس بات کا ارادہ کریں کہ آپ نے اپنے گھروں کو اس سے بچانا ہے اور آئندہ آنے والی نسلوں کے لیے اپنے گھروں کو ایک بہترین تربیت گاہ بنانا ہے۔ ایک عورت جب برائیوں سے اپنے آپ کو روکتی ہے تو اپنے خاوند اور بچوں کی بھی اس سے حفاظت میں کردار ادا کر رہی ہوگی۔ جو گناہ کی طرف مائل کرنے والا مواد آن لائن ملتا ہے، انسان کی ذاتی زندگی پر اور اس کے خاندان اور معاشرے پر بھی اس کا اثر پڑتا ہے۔ اس زمانے میں بڑے ممالک پر بھی ان کا اثر ہے کہ ان کی نسلیں تباہ ہو رہی ہیں۔ اس کی وجہ سے کئی قوموں کی ترقی کی رفتار آہستہ ہو گئی ہے۔ انسان کو چاہیے کہ تباہی سے اپنے آپ کو بچائے اور ان قوموں کو بھی ان برائیوں سے بچائے۔ ہم زبردستی تو نہیں کر سکتے لیکن اپنے آپ پر تو قابو کر سکتے ہیں۔ اپنے آپ کو ہر قسم کی برائی سے بچائیں اور دوسروں کے لیے نمونہ بنیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہمارا تعلق اللہ تعالیٰ سے مضبوط ہو تبھی ہم ان باتوں پر عمل کر سکتے ہیں اور اسلام کی تعلیمات دنیا پر آشکار کر سکتے ہیں۔

حضور انور نے فرمایا کہ یاد رکھیں کہ ہم نے احمدیت اس لیے قبول نہیں کی کہ ہمیں کوئی دنیاوی فائدہ پہنچے۔ پاکستان اور کئی ممالک میں جماعت پر ایک لمبے عرصے سے ظلم روا ہے لیکن جماعت بڑی ثابت قدمی اور ایمانی جوش کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت پر قائم ہے۔

مغرب میں آپ کو مذہبی آزادی حاصل ہے لیکن جس طرح حالات بدل رہے ہیں ممکن ہے کہ یہاں بھی آئندہ مسلمانوں پرزندگی تنگ کر دی جائے لیکن فی زمانہٖ دنیا کے اَور حصوں میں احمدی صرف اس لیے ظلم برداشت کر رہے ہیں کہ انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مانا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ مشکل کے بعد ضرور ان کے لیے آسانی لائے گا اور ان کی قربانیوں کو ضائع نہیں کرے گا۔

حضور انور نے فرمایا کہ میں آخر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی افراد جماعت سے توقعات کی طرف آپ کو توجہ دلانا چاہتا ہوں۔ ایک موقع پر آپؑ نےفرمایا کہ اے وے تمام لوگو!جو اپنے تئیں میری جماعت شمار کرتے ہو۔ آسمان پر تم اس وقت میری جماعت شمار کیے جاؤ گے جب سچ مچ تقویٰ کی راہوں پر قدم مارو گے۔

ہمارے عہدوں کے متعلق آپؑ نے فرمایا کہ اب جو تم میرے ساتھ میری بیعت میں داخل ہو، یاد رکھو کہ تم نے دین کو دنیا پر مقدم رکھنا ہے، یاد رکھو کہ تمہارا عہد اللہ تعالیٰ سے ہے۔ اب اس عہد پر قائم رہنا ہے اور ہر عمل سے جہاں گناہ کا شائبہ بھی ہو اس سے رکنا ہے۔ اس کے لیے اخلاص کی ضرورت ہے ظاہری دعووں کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ نے اپنے عمل سے ثابت کرنا ہے کہ آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایمان لائے ہیں۔آپ نے محاسبہ کرنا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم کے مطابق ، قرآن کریم کے احکامات پر کس حد تک عمل کر رہے ہیں، کس حد تک جماعت کے ساتھ وفادار ہیں، کس حد تک آپ کے عمل تقویٰ پر مبنی ہیں، آپ کس حد تک دوسروں کے ساتھ شفقت کا سلوک کر رہے ہیں، اپنی اولاد کی تربیت میں کیا حق ادا کر رہے ہیں، اگر ان میں سے کسی بات میں وہ معیار حاصل نہیں کر رہے تو پہلے اپنی حالت بہتر کرنے کی طرف توجہ کریں تاکہ اللہ تعالیٰ کی محبت اور رحم آپ پر پڑے۔

حضور انور نے فرمایا کہ ان الفاظ کے ساتھ مَیں دعا کرتا ہوں کہ آپ سب کو توفیق حاصل ہو کہ آپ کے روحانی اور اخلاقی معیار بلند ہو جائیں اور آپ ایسی زندگی گزارنے والی ہوں کہ آپ اللہ تعالیٰ کی حقیقی باندیاں ہوں۔ اللہ تعالیٰ ہر لحاظ سے لجنہ اماء اللہ پر اپنا فضل فرماتا چلا جائے۔(آمین)